Jaami - Article No. 3522

جامی - تحریر نمبر 3522

ملاں نور الدین عبدالرحمن جامی جو جامی کے نام سے مقبول عام تھے وہ اہل فارس کے عظیم شاعر اور صوفی بزرگ ہیں

بدھ نومبر

Jaami
مسعود مفتی
ملاں نور الدین عبدالرحمن جامی جو جامی کے نام سے مقبول عام تھے وہ اہل فارس کے عظیم شاعر اور صوفی بزرگ ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی ادب کے لئے وقف کر رکھی تھی اور ان کو فارسی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا وہ 45 کتب کے مصنف تھے ان میں نثر اور شاعری دونوں کی کتب شامل تھیں۔
عبدالرحمن جن کا خطاب امام الدین اور نور الدین تھا انہوں نے ہرات کے نزدیک جام کے مقام پر جنم لیا تھا جو خراساں کا دارالحکومت تھا۔
انہوں نے 23 شعبان 817 الہجری (7نومبر 1414 بعد از مسیح) کو جنم لیا تھا اور اپنے جائے پیدائش کے مقام کی نسبت سے انہوں نے جامی نام اپنایا تھا جس کا مطلب ہے شراب پینے والا پیالہ“اور اس کے علاوہ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ جام کا رہائشی،انہوں نے 18محرم 898 الہجری (9نومبر 1492بعد از مسیح)میں وفات پائی تھی اور ان کی وفات پر تمام شہر نے سوگ منایا تھا۔

وہ فہم و فراست کی حامل ایک ایسی ہستی تھی کہ ان جیسی ہستی نے اس سے قبل جنم نہیں لیا تھا وہ ایک عظیم شاعر تھے․․․․․عظیم صوفی بزرگ تھے اور عظیم مفکر تھے۔
ان کی شاعری غزلیہ شاعری کے تین دیوانوں․․․․․اور رومانوی مثنویوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھی تھی اور صوفیاء کرام کی زندگیوں کے بارے میں بھی تحریر کیا تھا۔
اس کے علاوہ عربی گرائمر پر بھی قلم آزمائی کی تھی۔
جامی کے ہم عصر ان کی عزت و توقیر سر انجام دیتے تھے۔نہ صرف ان کے ہم وطن ان کی توقیر سر انجام دیتے تھے بلکہ سلطنت عثمانیہ کے سلطان بھی ان کا احترام کرتے تھے اور ان کو اپنے درباروں میں متعارف کروانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔
جامی کبھی کسی امیر یا طاقتور کے سامنے نہ جھکے تھے اور نہ ہی ان کی چاپلوسی کرتے تھے․․․․اور یہ خوبی اس دور کے شاعروں میں بکثرت پائی جاتی تھی جیسا کہ حسین و اعظ کاشف کے بیٹے نے یہ انکشاف کیا کہ نظامی کی درج ذیل لائنیں ماسوائے جامی کسی پر لاگو نہیں ہوتیں۔

آغاز نوجوانی سے ہی میں کسی کے درپر نہیں گیا
تاکہ بڑے لوگوں کی حمایت اور توجہ حاصل کی جا سکے
یہی وجہ تھی کہ جواب میں وہ میر ی خدمت پر کمر بستہ ہوئے
اور یہ میرے خودداری کا ثمر تھا․․․․․(نظامی)
میر علی شیر نیوال نے ان کی موت پر کہا کہ:۔
”انہوں نے دو وجوہات کی بنا پر قلمی نام جامی اپنایا:۔
جام کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرنے کیلئے
یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ان کی تحریریں روحانیت کی شراب میں ڈوبی ہوئی تھیں“
”میری جائے پیدائش جام ہے اور میری قلم کا قطرہ شیخ الاسلام کے جام کا گھونٹ ہے یہی وجہ ہے کہ جامی میرا قلمی نام ہے جو دو مقاصد کی تکمیل سر انجام دیتا ہے“
سعدی․․․․خسرو․․․․اور حافظ کے بعد غالباً ہندوستان میں جامی کا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔
ان کی صوفیانہ شاعری عام لوگوں کے دلوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ان کا ”کافیہ“(Kafiya) کا عربی تبصرہ طلباء کی دنیا میں مقبول عام ہوا اور تعریف پائی اور شمالی ہند کے تمام تر عربی اداروں میں مطالعہ کی ایک معیاری اور دل پسند کتاب کی حیثیت کا حامل رہا اس کے علاوہ پنجاب بنگال․․․․․جنوب میں دکن میں بھی اسی حیثیت کا حامل رہا۔
جامی کی شاعری اخلاقیاتی اور فلسفیانہ نظریات بیان کرتی ہے ان کی شاعری تازگی اور وقار کی حامل ہے۔
ان کی ”بہارستان“ سعدی کے 18 ابواب سے مشابہت کی حامل تھی ہر ایک روادا (Rawada) کہلاتا تھا۔اول درویشوں اور صوفیا کرام کے بارے میں حکایات پر مشتمل تھی۔سوم بادشاہوں کے انصاف پر مشتمل تھی۔چہارم فیاضی اور سخاوت پر مشتمل تھی۔6ویں طنز و مزاح پر مشتمل تھی۔ 7ویں شاعروں پر مشتمل تھی اور 8ویں بے زبان حیوانات پر مشتمل تھی۔”بہارستان“شاعری اور نثر کا مجموعہ تھی۔

درج ذیل میں بہارستان کے چوتھے باغ سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جو قارئین کرام کے لئے خوشی اور مسرت کا باعث ثابت ہوں گے۔
”سخاوت اور فیاضی کا اخلاقی فریضہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی عطا کیا جائے اس میں ذاتی مفاد اور کسی صلے کی تمنا شامل نہ ہو“
”کون سخی اور فیاض ہے،سخی اور فیاض وہ ہے جو خدا کیلئے سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرے جو سخاوت اور فیاضی نام کمانے اور صلہ حاصل کرنے کیلئے کی جائے وہ خرید و فروخت کا معاملہ ہو گا(سخاوت اور فیاضی ہر گز نہ ہو گی)
”وہ جو اس نظریے کے تحت سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ دنیا میں شہرت کمائے وہ سخات کے اس شہر کا شہری ہے جہاں پر اس کا مکان گھر شہر کے دروازے سے باہر واقع ہے(یعنی وہ اس شہر کا برائے نام رہائشی ہے)“

Your Thoughts and Comments