Jannat - Jiss Main Hazrat Adam AS Ko Thehraya Giya

جنت،جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو ٹھہرایا گیا

مفسرین کرام کا حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھنے سے متعلق بھی اختلاف ہے

بدھ مئی

Jannat - Jiss Main Hazrat Adam AS Ko Thehraya Giya
امام حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ
مفسرین کرام کا حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھنے سے متعلق بھی اختلاف ہے ۔آیا وہ جنت آسمان پر تھی یا پھر زمین پر ۔جمہورعلماء کرام کی متفقہ رائے ہے کہ وہ جنت وہی ہے جو آسمانوں پر ہے یعنی”جنت الماویٰ“اور قرآنی آیات وصحیح احادیث کے معانی ومطالب بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
سورئہ بقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہوتاہے:
”اورہم(اللہ )نے فرمایا:اے آدم (علیہ السلام )تو اور تیری بی بی (حضرت حواعلیہ السلام )جنت میں رہو۔“
یہاں لفظ ”الجنة“مذکور ہے اور اس میں الف ’لام عمومی معانی میں نہیں اور نہ ہی لفظی معانی میں ہے بلکہ یہ عہد ذہنی پر دلیل ہے جس سے مراد جنت الماویٰ ہے ۔


اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے آسمان پر اپنے مکالمہ میں کہا کہ آپ علیہ السلام نے ہمیں اور خود کو جنت سے کیوں نکالا؟
صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل لوگوں کو بروزِ، محشر جمع کرے گا اور پھر جنت کو مومنوں کے نزدیک کر دیا جائے گا۔

تمام مومن حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کرکہیں گے کہ ہمارے لئے جنت کھول دیجئے۔آپ علیہ السلام فرمائیں گے کہ کیا تمہارے باپ کی غلطی کی وجہ سے ہی تمہیں جنت سے نہ نکالا گیا تھا۔
صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت حقیقت میں جنت الماویٰ ہی ہے۔
مفسرین کرام کی ایک جماعت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جس جنت میں ٹھہرایا گیا وہ ”جنت الخلد“تھی کیونکہ اس میں آپ علیہ السلام کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ آپ علیہ السلام فلاں شجر ممنوعہ سے کچھ نہ کھائیں گے‘اس میں آپ علیہ السلام سوئے بھی تھے اور اس میں سے نکالے بھی گئے تھے اور ابلیس بد بخت بھی اس میں داخل ہوا تھا اور یہی وہ باتیں ہیں جو اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ وہ جنت الماویٰ نہیں بلکہ جنت الخلد تھی ۔
یہ قول حضرت ابن عباس‘حضرت سفیان بن عینیہ ‘ابن ابی کعب‘وہب بن منبہ رضیٰ اللہ عنہ ودیگر کا ہے اور یہی قول تو رات میں بھی منقول ہے ۔
حضرت ابومحمد بن حزم وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس اختلاف کو اپنی کتاب”الملل والخل “میں ذکر کیا ہے ۔ابو محمد بن عطیہ اور ابوعیسیٰ نے اپنی اپنی تفاسیر میں بھی اسی قول کو لکھا ہے ۔تاہم جمہورعلماء کرام جن میں ابوقاسم راغب اور قاضی ماوردی رحمة اللہ علیہ جیسے علماء بھی شامل ہیں انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جس جنت میں حضرت آدم علیہ السلام وحضرت حوا علیہ السلام کو ٹھہرایا گیا تھا اس میں اختلاف ہے کہ وہ جنت الماویٰ تھی یا پھر جنت الخلد۔

ایک قول اس ضمن میں یہ ہے کہ وہ جنت الخلد تھی۔
دوسرا قول اس ضمن میں یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے وہ جنت اللہ عزوجل نے ان کی آزمائش کے لئے تیار کی تھی اور اس جنت کا نام دارِ جزاء ہے۔
اب اس جنت کے مقام کا تعین کہ آیا وہ زمین پر تھی یا آسمان پر اس بارے میں بھی دورائے ہیں ۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ وہ جنت آسمانوں پر تھی اس لئے ان دونوں کو اس شجر ممنوعہ کھانے کے بعد وہاں سے اترنے کا حکم دیا گیا ۔

اس ضمن میں دوسرا قول یہ ہے کہ وہ جنت زمین پر تھی جس میں دونوں کا امتحان لیا گیا اور اس شجر ممنوعہ سے روکا گیا ۔ابن جبیر رضی اللہ عنہ کا قول یہی ہے اور یہ معاملہ اس واقعہ کے بعد کا ہے جب ابلیس کو حکم دیا گیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرے ۔
قاضی ماوردی رحمة اللہ علیہ کا کلام تین اقوال پر مشتمل ہے اور ان کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلہ میں ایک مخصوص مقام پر رکے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ابوعبداللہ رازی نے اپنی تفسیر میں وہ چار اقوال بیان کئے ہیں۔
تین اقوال تو وہی ہیں جو قاضی ماوردی کے ہیں اور چوتھا قول توقف کا ہے یعنی وہ فیصلہ نہیں کر سکے پھر انہوں نے پہلے قول کو اوّلیت دی ہے ۔
ابو علی جبائی کا قول ہے کہ وہ جنت ہے تو آسمان میں لیکن جنت الماویٰ نہیں ہے ۔
جن مفسرین کرام کا قول ہے کہ وہ جنت زمین پرتھی ان کا نقطہ نظر اپنا ہے مگر اللہ عزوجل نے ایسے وقت میں ابلیس کو اپنی بارگاہ سے نکالا جب وہ سجدہ کا انکاری ہوا اور پھر اسے جنت سے نکلنے اور نیچے اترنے کا حکم دیا گیا ۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو شرعی احکامات میں سے نہیں ہے کہ اس کی مخالفت کی جائے بلکہ یہ تو ایک تقدیری معاملہ تھا جس کی نہ تو مخالفت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس سے روکا جا سکتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :
”نکل تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے ۔“
”تو یہاں سے اترجا‘تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہے اور غرور کرے۔

”تو(جنت سے)نکل جاکہ تو مردودہوا۔“
ان تینوں آیات میں فیھا یا منھا کا ذکر ہے جس کے معنی جنت یا آسمان کے ہیں یا اس کے مرتبہ کی طرف لوٹ رہی ہیں ۔تینوں صورتوں میں یہ حکم اس بات کا متقاضی ہے کہ وہاں اس کے ٹھہرنے کی قطعی کوئی گنجائش نہ تھی اور کہاں اس میں چلنا یا اس میں سے گزر جانا ہے ۔
قرآن مجید کی آیات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعدیہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو وسوسہ میں ڈالا گیا اور وہ آپ علیہ السلام سے یوں مخاطب ہوا:
”میں تمہیں بتاؤں ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت اور وہ بادشاہی جو کہ پرانی نہ ہو۔

پھر ابلیس لعین نے حضرت آدم علیہ السلام سے یوں کہا :
”تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے اسی لئے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے نہ لگ جاؤ اور قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں ۔پھر وہ انہیں اپنے مکر میں لے آیا۔“
ان آیات بالا سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ابلیس مردودجنت میں ان کے ہمراہ تھا۔

اس قول کا ایک جواب تو یہ ہوا کہ ابلیس مردود اس جنت میں قیام ہر گز نہ کر سکتا تھا بلکہ وہاں سے گزر سکتا تھا اور اسی دوران اس نے یہ وسوسہ پیدا کیا ۔
اس قول کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جنت کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے وسوسہ ڈالا۔
اس قول کا تیسرا جواب یہ ہے کہ آسمان کے نیچے کھڑے ہو کر اس نے یہ ساری کروائی کی ہو۔
یہ تینوں جواب غور طلب ہیں۔

وہ لوگ جن کا نظریہ یہ ہے کہ جنت زمین پر ہے وہ اپنے اس قول کی دلیل اس روایت سے لیتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن امام احمد رحمة اللہ علیہ کی روایت جسے انہوں نے ہدبہ بن خالد رحمة اللہ علیہ اور انہوں
نے حمادبن مسلم رحمة اللہ علیہ اور انہوں نے حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ سے منقول کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر وقت موت آیا تو انہیں جنت کے انگورکھا نے کی خواہش ہوئی‘آپ علیہ السلام کے بیٹے انگوروں کی تلاش میں نکلے جنہیں فرشتے ملے اور کہنے لگے:اے آدم علیہ السلام کے بیٹو! کیا ارادہ لئے پھرتے ہو؟انہوں نے کہا کہ ہمارے والد کو جنت کے انگور کی خواہش ہوئی ہے جس پر فرشتوں نے کہا کہ واپس چلے جاؤ تم نے ان کیلئے بہت کوشش کرلی ہے ۔
وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچے تو فرشتوں نے ان کی روح قبض کرلی ‘انہیں غسل دیا ‘خوشبو لگادی اور کفن پہنایا‘حضرت جبریل علیہ السلام نے ان کا جنازہ پڑھایا‘آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے فرشتوں کے پیچھے کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا اور پھر آپ علیہ السلام کو دفن کر دیا اور کہنے لگے کہ تمہارے فوت ہونے والوں کیلئے کفن دفن کا یہ طریقہ ہوا کرے گاچنانچہ جنت کے زمین پر ہونے کے قائل حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر اس جنت کی طرف پہنچ ممکن نہ ہوتی جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو انگور کی خواہش پیدا ہوئی تھی تو ان کے لڑکے انگور کی تلاش میں نہ نکلتے لہٰذا اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جنت زمین ہی میں ہے آسمان پر ہر گز نہیں ہے ۔

ان حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللہ عزوجل کا فرمان (اور ہم نے فرمایا:اے آدم (علیہ السلام)تو اور تیری بی بی جنت میں رہو)میں الجنة میں الف لام گذشتہ کسی چیز میں مذکور نہیں جس سے مخصوص جنت مراد لی جا سکے ۔حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر ہی پیدا کیا گیا تھا اور یہ کہیں نہ لکھا کہ انہیں آسمانوں کی جانب اٹھالیا گیا تھا۔آپ کو تو پیداہی اسی لئے کیا گیا تھا کہ زمین میں رہیں ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے بھی فرشتوں کویہی بات بتائی تھی ۔
”میں زمین پر اپنانائب بنانے والا ہوں۔“
اس قول کے قائل بطور دلیل ذیل کی آیت بھی بیان کرتے ہیں:
”بے شک ہم نے ان کی آزمائش کی جیسے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔“
یہاں پر الجنة پر الف لام عموم کے لئے نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی لفظی معنی ہے بلکہ کلام کے سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ معہود ذہنی کے لئے ہے اور وہ زمین کا باغ ہے اور وہاں بھی مرادزمینی باغ ہی ہو گا۔

پھر وہ لوگ یہ دلیل بھی بیان کرتے ہیں کہ آسمان سے نیچے اتارے جانے کا ذکر اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام آسمان سے اترے تھے بلکہ یہ تو اسی طرح ہے جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا ہے :
”فرمایا اے نوح (علیہ السلام)! کشتی سے بحفاظت اتر جا ہماری جانب سے تجھ پر اور تیرے ساتھیوں پر سلام اور برکتیں نازل ہوں۔“
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے وقت جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تھی اور جب طوفان ختم ہو گیا اور زمین خشک ہو گئی تو حضرت نوح علیہ السلام کویہ حکم ہوا تھا ۔
اسی طرح ایک اور جگہ فرمان الٰہی ہوتاہے:
”اچھا مصر(یا پھر کوئی دوسرا شہر)میں اترووہاں تمہیں وہ ملے گا جو تم نے مانگا۔“
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :
”اور کچھ پتھر تو وہ ہیں جو اللہ عزوجل کے خوف سے گر پڑے۔“
ایسا احادیث کی کتابوں میں بہت مقامات پر آیا ہے ۔
ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جنت کو زمین میں ماننے سے کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ واقعی وہ جنت جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ عزوجل نے بسایا تھا جو زمین کے باقی ٹکڑوں سے بلند تھی ‘اس میں درخت تھے‘پھل موجودتھے‘سایہ دکھائی دیتا تھا‘نعمتیں تھیں ‘تروتازگی تھی اور اسے دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا تھا جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایاہے:
”بے شک تمہارے لئے جنت میں ہے کہ نہ تم بھوکے ہو اور نہ ننگے۔

یعنی باطنی طور پر تمہیں بھوک کی ذلت نہیں اٹھانا ہو گی اور نہ ہی ظاہری طور پر ننگا ہونا ہو گا۔
”اور نہ ہی تمہیں پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ہو گی۔“
یعنی تمہارے باطن کو پیاس کی شدت محسوس نہ ہوگی اور نہ ہی ظاہری جسم کو دھوپ لگے گی۔ان آیات میں اللہ عزوجل نے بھوک اور ننگا ہونے کو اکٹھابیان کیا اور پھر پیاس اور دھوپ کو ملا کر بیان کیا کیونکہ ان دونوں چیزوں کا آپس میں مقابلہ ہے اور پھر جب آپ علیہ السلام سے درخت کا پھل کھانے کا واقعہ سرزد ہوا جس سے آپ علیہ السلام کو روک دیا گیا تھا تو آپ علیہ السلام کو زمین پر اتار دیاگیاجہاں بد بختی ‘مشقت ‘تھکاوٹ ‘بد باطنی‘مسلسل کو شش ‘محرومی اور آزمائشوں پر آزمائشیں تھیں پھر اس پر رہنے والوں میں مذہبی اختلاف ‘اخلاقی اختلاف ‘عملی اختلاف ‘ارادوں ‘باتوں اور کاموں میں اختلاف تھا‘جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا :
”اور تمہیں ایک (مخصوص)وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور استعمال کرنا ہے ۔

چنانچہ اس واقعہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ لوگ آسمانوں میں تھے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
”اور ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا تم اس زمین پر رہو اور جب ہمارا وعدہ آجائے تو ہم تمہیں اپنے پاس لے جائیں گے۔“
یہاں اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کو زمین پر ٹھہرنے کا حکم دیا ہے اور اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ وہ آسمان سے اترے تھے ۔ان تمام دلائل سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی جو آج جنت وجہنم کے وجود کے انکاری ہیں بلکہ ان تمام دلائل کو بیان کرنے والوں سے جنت وجہنم کا وجوب بھی ثابت ہے اور اس کی تصدیق قرآنی آیات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوتی ہے ۔

Your Thoughts and Comments