Kin Kutton Ko Qatal Karne Ka Hukum Allah Ke Rasool Naay Farmaya

کن کتوں کو قتل کرنے کا حکم اللہ کے رسول نے فرمایا

جن کتوں کو رکھنے کی اجازت دی گئی ہے انہیں مارنا جائز نہیں ۔رہے عام کتے جو ان تین کاموں میں سے کوئی کام بھی سر انجام نہیں دیتے‘ان میں سے خالص سیاہ رنگ کے کتے اور سیاہ رنگ کے اس کتے کو جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں ‘مارڈالنے کا حکم ہے ۔

جمعرات دسمبر

kin kutton ko qatal karne ka hukum Allah ke rasool naay farmaya

مُبشّر احمد رَبّاَنی
گھر میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے ،مُنہ ڈالنے کی وجہ سے برتنوں کے ناپاک ہو جانے اور دوسرے اسباب کی بنا پر گھر میں کتا رکھنا جائز نہیں ۔مگر کتے میں کچھ فائدے بھی ہیں مثلاً سدھا ئے جانے کی قابلیت ‘مانوس ہو جانا‘پہرہ داری وغیرہ ۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کا کتا رکھنے کی اجازت دی ہے ۔

شکار کے لئے ‘کھیتی کے لیے یا مویشیوں کے لئے۔ان کے علاوہ اگر کوئی شخص کتا رکھے گا تو روزانہ اس کے اجر سے ایک قیراط کی کمی ہو جائے گی (قیراط اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقرر پیمانہ ہے جنازہ میں شامل ہونے کے ثواب والی حدیث میں مذکور قیراط کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے )
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مویشیوں کے لیے یا شکاری کتے یا کھیتی کے علاوہ کسی نے کوئی کتا رکھا تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوجائے گی“۔


اس سے معلوم ہوا کہ صرف گھر کی حفاظت کے لیے کتا رکھنا جائز نہیں ۔بعض لوگ قیاس کرکے اسے جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس صورت میں تین کتوں کو مستثنیٰ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
کتے کو قتل کرنے کا حکم
جن کتوں کو رکھنے کی اجازت دی گئی ہے انہیں مارنا جائز نہیں ہے عام کتے جو ان تین کاموں میں سے کوئی کام بھی سر انجام نہیں دیتے‘ان میں سے خالص سیاہ رنگ کے کتے اور سیاہ رنگ کے اس کتے کو جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں ‘مارڈالنے کا حکم ہے ۔
جیسا کہ شروع میں احادیث ذکر ہو چکی ہیں ۔اس رنگ کے کتے خواہ شکاری ہوں یا کھیتی کے یا مویشیوں کے شیطان ہونے کی وجہ سے مار دینے چاہئیں ۔اسی طرح کاٹنے والے کتے کو بھی مارڈالنے کا حکم ہے ۔صحیح بخاری اور مسلم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یعنی پانچ چیزیں فاسق ہیں انہیں حرم اور غیر حرم میں قتل کیا جائے سانپ اور سیاہ وسفید کوا‘چوہیا‘کاٹنے والا کتا اور چیل “
عام کتے جو نقصان نہ کرتے ہوں ‘انہیں مارنا جائز نہیں کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارڈالنے کا حکم دیا۔
یہاں تک کہ بادیہ کے کوئی عورت اپنے کتے کے ساتھ آتی تو صحابہ رضی اللہ عنہ اسے مارڈالتے ۔پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے سے منع کردیا اور فرمایا کہ کالے سیاہ دونقطوں والے کتے کو قتل کرو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
آپ کے والد صاحب نے گھر میں کتا رکھاہوا ہے اگر شکار یا کھیتی مویشیوں کے لیے رکھا گیا ہے تو اس کے رکھنے میں کوئی حرج نہیں بشر طیکہ وہ خالص سیاہ رنگ یادونقطوں والا سیاہ کتا نہ ہو۔
اگر اس رنگ کا ہوتو اسے مار دینا واجب ہے ۔اگر وہ شکاری کتا یا کھیتی یا مویشیوں کا کتا نہیں تو اسے گھر سے نکال دیں ۔ہاں اگر وہ لوگوں کو یا ان کے جانوروں کا کاٹنا شروع کردے تو اسے ماردینا جائز ہے کیونکہ اس صورت میں وہ کلب عقور ہے یعنی کاٹنے اور زخمی کرنے والا کتاب ہے ۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل اس کتاب میں جلد نمبر 1)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments