Masajid K Adab

مساجد کے آداب

مسجد میں اپنی ذات کے لئے سوال کرنا منع ہے

جمعہ جولائی

Masajid K Adab

مولانا محمد الیاس عطار قادری
مسجد میں بعض لوگ کھڑے ہو کر اپنی مجبوری اور بیماری وغیرہ کا بیان کرکے مدد کی اپیل کرتے ہیں ،اگر وہ واقعی حقدار ہوں تو کیا اُنہیں دے سکتے ہیں یا نہیں؟مسجد میں اپنی ذات کیلئے سوال کرنا منع ہے اور ایسے سائل کو دینا بھی جائز نہیں جیسا کہ صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علی فرماتے ہیں:
مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور اس سائل کو دینا بھی منع ہے ۔

جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے وہ ستر پیسے راہ خدا میں اور دے کر اس پیسہ کے گناہ کا کفارہ ہوں ۔اس کا حل یہ ہے کہ اگر وہ واقعی حاجت مند ہوں تو خود مسجد میں سوال کرنے کے بجائے امام صاحب سے رابطہ کرکے اپنی حاجت بیان کریں ،اب امام صاحب ان کی مدد کیلئے نمازیوں سے درخواست کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔


کیا مسجد میں ،مسجد،مدرسے یا کسی حاجت مند مسلمان کیلئے بھی چندہ نہیں کر سکتے؟مسجد میں اپنی ذات کیلئے سوال کرنامنع ہے،کسی اور حاجت مند مسلمان یا دینی کام مثلاًمسجد یا مدرسے کیلئے سوال کرنے کی ممانعت نہیں جیسا کہ فتادیٰ رضویہ جلد 16صفحہ418پر ہے:مسجدمیں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے،یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد نے فرمایا:جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اللہ تعالیٰ کے نام پر اور (یعنی مزید)دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں اور (مسجد میں)کسی دوسرے کیلئے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کیلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔


احکام شریعت میں ہے :محتاج کیلئے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کیلئے چندہ کرنا جس میں نہ غل نہ شور،نہ گردن پھلا نگنا،نہ کسی کی نماز میں خلل (خرابی)،یہ بلا شبہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے اور بے سوال کسی محتاج کو دینا بہت خوب اور مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ثابت ہے۔معلوم ہوا کہ مسجد میں،مسجد یا مدر سے یا کسی حاجت مند مسلمان کیلئے چندہ کرنا جائز ہے۔
عموماً مساجد میں جمعة المبارک کے روز مساجد کیلئے چندہ کیا جاتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے کہ ”جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے اس میں ایک نیکی کا ثواب ستر گنا ہے“۔
مسجد کو راستہ بنانا کیسا ہے؟
مسجد کو راستہ بنانا یعنی اس کے کسی حصے میں سے ہو کر گزرنا جائز نہیں ہے۔فقہا ئے کرام نے بلا ضرورت ایسا کرنے کو ناجائز فرمایا ہے۔
صدر الشریعہ،مفتی محمد امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:مسجد کو راستہ بنانا یعنی اس میں سے ہو کر گزرنا ناجائزہے،اگر اس کی عادت کرے تو فاسق ہے ،اگر کوئی اس نیت سے مسجد میں گیا،
وسط(درمیان)میں پہنچا کہ نادم ہوا تو جس دروازہ سے اس کو نکلنا تھا اس کے سوا دوسرے دروازہ سے نکلے یا وہیں نماز پڑھے پھر نکلے اور وضو نہ ہوتو جس طرف سے آیا ہے واپس جائے۔
ہاں!اگر کوئی مجبوری ہو جیسے راستہ بند ہے اور مسجد کے راستے کے علاوہ دوسری جانب جانے کا کوئی راستہ ہی نہیں تو ضرور تاً اس کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ خلاصة الفتاویٰ میں ہے:ایک شخص مسجد سے گزرتا ہے اور اس کو راستہ بناتا ہے اگر عذر ہے تو جائز ہے ،بلاعذر ہے تو ناجائز ہے پھر اگر اس کو گزرنا جائز ہے تو ہر روز ایک مرتبہ اس میں نماز پڑھے ،نہ یہ کہ ہر بارجب بھی گزرے کہ اس میں حرج ہے۔

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان فرماتے ہیں:بضرورت مسجد میں ہو کر دوسری طرف کو نکل جاناجائزہے کہ(عام حالات میں)مسجد میں دوسری طرف جانے کیلئے چلنا حرام ہے مگر بضرورت کہ راستہ گھرا ہوا ہے اور مسجد ہی میں سے ہو کر جا سکتا ہے جیسے موسم حج میں مسجد الحرام شریف میں واقع ہوتا ہے اس کی اجازت دی گئی ہے۔
مسجد کو سڑک بنانا کیسا ؟
پوری مسجد یا اس کے کسی حصے کو شہید کرکے لوگوں کیلئے سڑک بنانا کیسا ہے؟
پوری مسجد یا اس کے کسی حصے کو شہید کرکے اس پر سڑک بنانا حرام قطعی ہے ،اس سے مسجد کی بے حرمتی اور اسے ویران کرنا لازم آتا ہے لہٰذا یہ سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے چنانچہ پارہ 1،سورة البقرہ کی آیت نمبر 114میں خدائے رحمن عزوجل کا فرمان عالیشان ہے:
(ترجمہ:کنزالایمان)”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجد کوروکے،اُن میں نام خدا لئے جانے سے اور اُن کی ویرانی میں کوشش کرے“۔

اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں:
مسجد کی ویرانی جیسے ذکر ونماز کو روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اس کی عمارت کے نقصان پہنچانے اور بے حرمتی کرنے سے بھی۔
فقہائے کرام فرماتے ہیں:اگر لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کیلئے گزر گاہ(یعنی سڑک )
بنادیں ،تو کہا گیا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں اور بلاشبہ یہی صحیح ہے ۔
ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں:بے شک ایسا کرنا حرام قطعی اور ضرورحقوق مسجد میں تعدی(حد سے بڑھنا)اور وقف مسجد میں ناحق دست اندازی(مداخلت)شروع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت (خوبی یا بھلائی)کیلئے ہو وقف کی ہےئت(بناوٹ یا صورت)بدلنا بھی ناجائز ہے اگر چہ اصل مقصود باقی رہے ،تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایک دوسرے کام کیلئے دینا کیونکر حلال ہو سکتاہے۔

Your Thoughts and Comments