Masjid E Nabawi Ki Tameer Ka Faisla

مسجد نبوی کی تعمیر کا فیصلہ

زہری عروہ سے بیان کرتے ہی جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی اور وہاں مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی،پہلے بھی مسلمان یہاں نماز پڑھتے تھے

بدھ جون

Masjid e nabawi ki tameer ka faisla
محمد عبداللہ مدنی
زہری عروہ سے بیان کرتے ہی جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی اور وہاں مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی،پہلے بھی مسلمان یہاں نماز پڑھتے تھے اور دراصل یہ جگہ انصار کے دویتیم بچوں سہل اور سہیل کی تھی جس سے کھجوریں خشک کرنے کا کام لیا جاتا تھا اور یہ دونوں اسعد رضی اللہ عنہ بن زرارہ کی گود میں زیر پرورش تھے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”ان شاء اللہ ہماری یہی منزل ہے“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کے لیے ان لڑکوں سے یہ جگہ قیمتاً خریدی ۔پہلے ان بچوں نے کہا تھا:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم یہ زمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتے ہیں ۔“لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبہ لینے کی بجائے قیمتاً خریدنا مناسب سمجھا اور یہاں مسجد کی تعمیر کی ۔


صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کو بلا کر کہا”اپنے اس باغ کی قیمت طے کرکے مجھ سے لے لو“وہ بولے”بخدا!ہم اس کا ثواب اللہ تعالیٰ سے لیں گے،اس کی قیمت نہیں لیتے“اس وقت وہاں مشرکوں کی قبریں،گڑھے اور کچھ کھجوریں تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مشرکوں کی قبریں اکھاڑ دی گئیں،گڑھے بھر دےئے گئے،کھجوریں کاٹ کر دیوار قبلہ کے آگے جمع کردی گئیں اور دروازے کی دونوں سردلیں پتھر کی بنائی گئیں۔
جب صحابہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے پتھر لاتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے۔
”الٰہی !آخرت کی بھلائی کسے سوا کوئی بھلائی نہیں،انصاراور مہاجروں کی مدد فرما“
اور زہری رحمة اللہ علیہ کی حدیث میں ہے،جو وہ بواسطہ عروہ رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں،کہ مسجد کی تعمیر کے وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچی اینٹیں ڈھوتے تھے ،اور یہ شعر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر تھے
”جتنی یہ مزدوری نتیجہ خیز ہے ،اتنی خیبر کی مزدوری نتیجہ خیز نہیں،اے ہمارے رب ! اس میں زیادہ نیکی ہے ،اور یہ زیادہ پاکیزہ عمل ہے“اور کبھی یوں فرماتے
”الٰہی!آخرت کا اجر ہی‘اجر ہے اس لیے انصار اور مہاجرین پر رحم فرما“۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان شاعر کے شعر بھی اس موقعہ پر پڑھتے تھے،مجھے اس کا نام نہیں بتایا گیا۔
دوسرا راوی کہتا ہے کہ کام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے اُتارے‘تو دوسرے لوگوں نے بھی اپنے کپڑے اتار کر رکھ دےئے!وہ کہتے تھے۔
”اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کام کریں اور ہم بیٹھے رہیں‘تو یقینا ہمارا یہ عمل گمراہی کا عمل ہے“
اور کچھ لوگ یوں کہتے
”مسجدیں تعمیر کرنے‘ہمیشہ ان میں قیام اور قعود میں مصروف رہنے والے اور مٹی سے بچنے کے یے دور بھاگنے والے برابر نہیں ہو سکتے“۔

مسجد کا محراب بیت المقدس کی طرف بنایا گیا اور اس میں تین دروازے رکھے گئے،ایک دروازہ قبلہ کی مخالف سمت ،ایک دروازہ جو”باب الرحمة“کے نام سے مشہور ہے اور ایک دروازہ جس سے رسول اللہ اپنے حجرہ میں آیا جایا کرتے تھے۔مسجد کا طول دیوار قبلہ سے آخر تک(شمالاً جنوباً)سوہاتھ اور دونوں جانب(شرقاً غرباً)بھی اتنا ہی تھا،یا اس سے کچھ کم تھا۔
بنیاد تقریباًتین ہاتھ چھوڑی تھی۔ستون کھجور کی لکڑی کے تھے،چھت کھجور کی چھڑیوں سے ڈالی تھی اور دروازے کی دونوں سردلیں پتھر سے بنائی تھیں ۔کسی نے کہا کہ ”چھت بہترین ہونی چاہیے‘آپ نے فرمایا”نہیں ،موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح چھپر ہی مناسب ہے“آپ نے اپنے رہائش حجرے کچی اینٹوں سے مسجد کے پہلو میں تعمیر کیے اور ان پر کھجور کی چھڑیوں کی چھت ڈالی۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اور حجروں کی تعمیر سے فارغ ہوئے ،تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی رخصتی اس حجرے میں ہوئی جو ان کے لیے مسجد کی مشرقی جانب بنایا تھا اس کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا اور یہ وہی حجرہ ہے ،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل آرام فرما ہیں!

Your Thoughts and Comments