Masjid E Nabwi SAW K Do Hairat Angeez Waqiyat

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوحیرت انگیز واقعات

اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مہمانوں کا خیال رکھتے ہیں

بدھ اگست

Masjid e Nabwi SAW K Do Hairat Angeez Waqiyat
ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی
بیت اللہ شریف وہ مقدس مقام ہے جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہوتاہے۔مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہ مقام ہے جہاں ایک نماز کا ثواب 50ہزار نمازوں کا ہے۔ایک لاکھ نمازیں 55سال میں ادا ہوتی ہیں۔اسی طرح 50ہزار نمازیں27سال کے عرصے میں ادا ہوتی ہیں۔ان دونوں مقدس مقامات کو حرمین شریفین کہا جاتا ہے۔
اسی طرح مسجد قبا میں دو رکعت نماز ادا کرنے کا ثواب ایک عمرے کے مساوی ہے۔یہ اسلام کی پہلی مسجد تھی جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے موقع پر مدینہ شریف میں واقع اس مسجد میں قیام فرمایا۔حج کیلئے ہم سب سے پہلے لاہور سے مدینہ شریف پہنچے اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب واقع ایک ہوٹل جو ہر الرشید میں ٹھہرے۔

اس ہوٹل کے دروازے کے اوپر یہ عبارت تحریر تھی:”اور مدینہ ان لوگوں کیلئے بہترہے کا ش انہیں علم ہوتا۔

“یہ عبارت پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ حدیث قدسی ہے جس میں مدینہ شریف کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں میرے ساتھ وہ عجیب واقعات رونما ہوئے جنہیں میں قارئین کی دلچسپی کیلئے بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں ایک مرتبہ عشاء کی نماز پڑھنے کیلئے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم گیا۔نماز کے بعد میں کھڑے ہو کر دعا کرنے لگا۔
میرے سامنے روضہ اطہر تھا۔جب میں دعا میں مصروف تھا توکسی نے شاید میری کرسی،جو سٹیل کی تھی،اس ارادے سے اٹھا لی کہ یہ حرم پاک کی کرسی ہے۔میری کمر میں کافی مدت سے درد کی تکلیف ہے،اسلئے میں کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوں۔میں نے دعا ختم ہوتے ہی اپنی کرسی تلاش کرنا شروع کر دی مگر سبز رنگ کی یہ کرسی مجھے نہ مل سکی۔آخر میں مایوس ہو گیا۔
حج کے دنوں میں لاکھوں حاجی ہوتے ہیں۔بھلا کر سی کیسے مل سکتی تھی؟میں نے روضہ اطہر کے سامنے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں آرزو کی:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میری کرسی گم ہو گئی ہے۔میں پریشان ہوں۔مجھے کرسی چاہیے۔“دعا کے بعد میں نے سوچا کہ میں باب الفتح کی طرف جاؤں ۔یہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دروازے کانام ہے۔
میں اس دروازے کی طرف جا رہا تھا تو میں نے راستے میں کھڑے تین اشخاص کو دیکھا وہ آپس میں گفتگو کررہے تھے۔
میں نے ان کی طر ف دیکھا تو ایک شخص مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا۔میں رک گیا ۔میر ا خیال تھا کہ وہ شخص میراواقف ہے لیکن دراصل وہ کسی اور ملک کا باشندہ تھا۔اس کے ہاتھ میں سٹیل کی سبز کرسی تھی۔اس نے اشارے سے مجھے بلایا اور کرسی میرے ہاتھ میں پکڑادی۔
یہ کرسی اس کی ذاتی تھی کیونکہ اس پر وقف للحرم(حرم پاک کیلئے وقف شدہ)نہیں لکھا ہوا تھا۔جو کرسی مجھے ملی وہ بالکل میری گم شدہ کرسی کی طرح سبز رنگ کی تھی۔انتہائی حیرت کی بات ہے میں نے اس شخص سے نہ کرسی مانگی اور نہ ہی کرسی کے حصول کا اظہار کیا۔اس نے میری خواہش کو کیسے محسوس کر لیا۔میری آرزو اسی وقت پوری ہو گئی۔میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان تھا۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر شفیق اور لجپال ہیں اور اپنے مسکین مہمانوں کا خیال رکھتے ہیں۔
دوسرا عجیب واقعہ بھی تحریر کرنا چاہتا ہوں جو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں میرے ساتھ رونما ہوا۔عصر کی نماز کے وقت ایک دن میں نماز ادا کرکے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دروازے سے باہر نکلا۔مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شریف کے دروازے کے باہر ایک عربی لڑکا ایک تھال میں حاجیوں کیلئے تبرک تقسیم کررہا تھا۔
اس نے تھال میرے سامنے پیش کیا۔اس تھال میں میٹھی روٹی کے تین ٹکڑے تھے۔تبرک ختم ہو چکا تھا۔روٹی کے ایک ٹکڑے کو میں نے اٹھایا اور کھانا شروع کر دیا۔باقی دو ٹکڑے دیگر حاجیوں کیلئے چھوڑ دیے۔روٹی کا وہ ٹکڑا بڑالذیذ تھا۔اس میں زیرہ اور اس قسم کی چیزیں شامل تھیں۔مجھے وہ ٹکڑا کھا کر بڑا مزہ آیا۔اب میں روضہ اطہر کی طرف بڑھ رہا تھا تاکہ وہاں کھڑے ہو کر روضہ پاک کے باہر وسیع صحن میں درد دو سلام پیش کروں۔
میں نے دل میں اس خواہش کا اظہار کیا:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !عربی لڑکے نے جو تبرک پیش کیا وہ بڑا لذیذ تھا۔مجھے اسی قسم کا اور تبرک چاہیے۔مجھے ایک پوری روٹی بطور تبرک چاہیے۔“
اس کے بعد میں نے روضہ پاک کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔مغرب کی نماز کا وقت ہونے والا تھا۔میں روضہ اطہر کے قریب درود وسلام پڑھتا ہوا مسجد شریف کے ایک دروازے پر پہنچا تاکہ میں اندر داخل ہو کر نفل پڑھوں اور مغرب کی اذان ہونے کے بعد با جماعت نماز اداکروں۔
جو نہی میں مسجد شریف میں داخل ہوا تو وہاں ایک شخص کھڑا تھا،اس نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔وہ مجھے دیکھ کر مجھ سے یوں مخاطب ہوا:”ہزاروں نمازی یہاں سے گزررہے ہیں۔میں نے میٹھی روٹی کا یہ تبرک کسی کو نہیں دیا۔“پھر اس نے تبرک کو ہاتھ میں تھام کر کہا:”آپ خوش نصیب شخص ہیں یہ تبرک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لنگر شریف سے آیا ہے اور یہ آپ کیلئے ہے۔

میں نے میٹھی روٹی کا وہ تبرک اپنے ہاتھ میں لے لیا۔پھر میں نے اس شخص سے پوچھا:”آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟“وہ شخص کہنے لگا:”میرا تعلق گوجرانوالہ ضلع سے ہے۔“پھر وہ شخص کہنے لگا:آپ بڑے خوش نصیب ہیں کہ آپ کو یہ تبرک نصیب ہوا۔“وہ کہنا چاہتا تھا کہ میں کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہا تھا تاکہ آپ آئیں اور میں آپ کو یہ تبرک پیش کروں۔
پھر وہ شخص کہنے لگا کہ آپ میرے پاس رکے رہیں اور باتیں کریں۔میں نے عرض کیا:”اذان کا وقت ہونے والا ہے۔میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔اس شخص نے مجھے مسکراتے ہوئے اجازت دی ۔میں نے اسے کہا کہ مجھے اپنی دعاؤں میں یادفرماتے رہا کریں۔اس کے بعد میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوا اور نماز مغرب ادا کی۔جب میں نے یہ تبرک کھایا تو یہ تبرک عربی لڑکے کے عطا کردہ تبرک سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ تھا۔

یہ دو واقعات انتہائی ایمان افروز ہیں جو میرے ساتھ پیش آئے اسلئے ان واقعات کو میں نے قارئین کی دلچسپی اور ایمان کی تازگی کے لیے قلم بند کرلیا ہے۔یہ ہے نرالی شان ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمة اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم بھی،معراج السالکین صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔

Your Thoughts and Comments