Moujza Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam

معجزہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت سراقہ کاگھوڑا

moujza rasool allah sallallahu alaihi wasallam

ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے زہری کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ عبدالرحمن بن مالک بن جعشم نے سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کیا کرتے تھے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے تو قریش نے اعلان کردیا کہ جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کو پکڑ کر ان کے پاس لے آئے اسے سو (100)اُونٹ انعام دیا جائے گا۔

میں (سراقہ )رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے چوپال میں بیٹھا تھا اور یہی موضوع زیرِ بحث تھا ۔عین اس وقت قبیلے کا ایک فرد دروازے پر آکر رکا اور اس نے کہا:
”خدا کی قسم!میں نے تین آدمیوں کا ایک قافلہ دیکھا ہے ۔وہ ابھی ابھی میرے پاس سے گزرے تھے ۔میرا پختہ خیال ہے کہ وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھی (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) تھے ۔

میں نے اس شخص کو آنکھ سے اشارہ کہ وہ خاموش رہے ۔پھر میں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ فلاں قبیلے کے لوگ تھے اور گم گشتہ اُونٹ تلاش کررہے تھے ۔خبردینے والے نے کہا:
”ممکن ہے ایسا ہی ہو ۔“
پھر وہ خاموش ہو گیا۔
میں تھوڑی دیر تو مجلس میں بیٹھا رہا اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہی ،پھر میں اُٹھ کر گھر چلا گیا۔میں نے حکم دیا کہ میرا گھوڑا تیار کیا جائے اور میرے ہتھیار نکالے جائیں ۔

چنانچہ گھوڑا تیار کرکے وادی کے بطن میں پہنچا دیا گیا اور میں گھر کے پچھلے دروازے سے اسلحے سمیت نکل کر گھوڑے تک جا پہنچا ۔اب میں نے تیروں سے فال نکال لی۔فال میری مرضی کے خلاف نکلی۔جو تیرفال میں نکلا اس پر لکھا ہو ا تھا ”اسے (تین آدمیوں کے قافلے کو )مت نقصان پہنچاؤ ۔“مگر میں تو سواُونٹوں کے لالچ سے اندھا ہو گیا تھا ۔میں نے فال کو نظر انداز کر دیا اور چل پڑا ۔
قافلے کا کھوج مجھے مل گیا اور میں ان کے نقشِ قدم پر چلتا رہا۔اسی دوران اچانک گھوڑا بدکا اور پھسل گیا ۔میں اس کی پشت سے نیچے گر گیا۔ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔میں نے سوچا ”یہ کیا ہوا ہے ؟“پھر میں نے اپنے تیر نکالے اور پھر فال معلوم کی ۔اب کی بار بھی وہی تیر نکلا جو پہلے دیکھ چکا تھا ۔میں نے اس مرتبہ بھی فال کو نظر انداز کر دیا اور فیصلہ کیا کہ تعاقب جاری رکھا جائے ۔
میں ان کے پیچھے پیچھے جارہا تھا کہ پھر میرے گھوڑے کی وہی حالت ہوئی اور میں زمین پر گر گیا۔بڑا تعجب ہوا ،میں نے کہا:
”یہ ہو کیا رہا ہے ۔“
اب تیسری مرتبہ میں نے فال نکالی اور حیران ہوا کہ جواب پھر وہی نکلا جو پہلی اور دوسری مرتبہ نکلا تھا یعنی ”اسے نقصان نہ پہنچاؤ ۔“میں اب بھی اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور قافلے کے پیچھے چلتا رہا یہاں تک کہ وہ لوگ مجھے نظر آنے لگے ۔
اب تو میرا گھوڑا پھسلنے کی بجائے ایک اور مصیبت میں گرفتار ہو گیا۔ہوا یہ کہ اس کی اگلی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں اور میں زمین پر آگرا۔بڑی مشکل سے گھوڑے نے زمین سے پاؤں نکالے اور پاؤں نکلتے ہی زمین سے ایک دُھواں بگولے کی طرح برآمد ہوا۔ اب میں سمجھ گیا کہ (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی طرف سے )محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کی حفاظت کی گئی ہے ۔
وہ غالب ہیں مغلوب نہیں ہوسکتے ۔
اب میں نے انہیں آوازدی اور کہا :
”میں سراقہ بن جعشم ہوں ،ذرا ٹھہرو ۔میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔خدا کی قسم! میں نہ تو تمہیں دھوکادوں گا اور نہ ہی میری طرف سے تمہیں کوئی نقصان پہنچے گا۔“
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
”اے صدیق اکبر! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )اسے پوچھو کہ ہم سے کیا چاہتا ہے ؟“
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا تو میں نے بتایا کہ مجھے ایک تحریر لکھ دو ۔
جو میری اور آپ کے درمیان نشانی اور سندر ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
”ابو بکر !(صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ )اسے لکھ دو۔“
سراقہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہڈی پر لکھ دیا اورہڈی میری جانب پھینک دی ۔میں نے وہ اٹھالی اور اپنی ترکش میں رکھ لی ۔
(ایک روایت میں ہے کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
”اے سراقہ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب کسریٰ کے سونے کے کنگن تیرے ہاتھوں میں پہنادئیے جائیں گے ؟“
اس وقت تو حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر تعجب ہوا مگر یہ غیبی خبر سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں پوری ہوئی کہ روم کے خلیفہ کے سونے کے کنگن حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں ڈالے گئے ۔

اس کے بعد حضرت سراقہ فرماتے ہیں کہ :
”میں وہ تحریر لے کر واپس لوٹا تو اس واقعہ کا کسی سے کوئی ذکر نہ کیا ،یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی فتح سے فارغ ہو کر حنین وطائف کے معر کے بھی سر کر چکے ۔میں تحریر لے کر آ پ کی خدمت میں حاضر ہوا ،مکہ اور طائف کے درمیان جعرانہ کے چشمے پر میں آپ کی خدمت میں پہنچا ،جب انصار کے گھوڑ سوار دستے نے مجھے دیکھا تو نیزوں سے مجھے ڈرانے لگے اور پوچھا:
”تو کون ہے؟اور کیا چاہتا ہے ؟“
میں خدا خدا کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا پہنچا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے ۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی دیکھی ۔خدا کی قسم! وہ ایسی سرخ وسفید تھی جیسے کہ آگ کا انگارہ ۔
میں نے تحریر ہاتھ میں لے کر اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا اور عرض کیا:
”یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرے ہاتھوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کی ہوئی تحریر ہے ۔
میں سراقہ بن جعشم ہوں ۔“
میری یہ صدا سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آج نیکی اور وفا کا دن ہے ۔اسے قریب آنے دو۔“
پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند سوال پوچھوں ۔
میں نے سوال پوچھے ،جن میں سے یہ مجھے یاد ہے میں نے عرض کیا:
”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اپنا حوض اپنے اونٹوں اور مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے بھردوں پھر کوئی آوارہ اونٹ آکر وہاں سے پانی پی لے تو اس سے مجھے کوئی اجر ملے گا ؟“
اس کے جواب میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ہاں ! ہر جاندار کو کھلانے پلانے میں اجر ہے ۔

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں واپس اپنی قوم میں آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقہ بھیجتا رہا تا کہ آپ علیہ السلام وہ صدقہ غریبوں میں تقسیم فرمادیں ۔

Your Thoughts and Comments