Muashre Per Boojh Na Banain

معاشرہ پر بوجھ نہ بنیں

تم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے اور اُسے بیچے،جس سے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کردے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے بھیک مانگے۔ اُن کی مرضی ہے کہ وہ اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔

پیر مارچ

Muashre per boojh na banain
حافظ عزیز احمد
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے اور اُسے بیچے،جس سے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کردے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے بھیک مانگے۔ اُن کی مرضی ہے کہ وہ اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔
(رواہ البخاری)
محترم سامعین !امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں نقل فرمایا ہے ۔اہل اسلام کے معاشی نظام میں اس حدیث کو ایک کلیدی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔حدیث مبارک میں زور اس بات پر ہے کہ جب کوئی آدمی جسمانی حیثیت سے تندرست اور توانا ہو ،کام کرنے کے قابل ہو ،چل پھر سکتا ہو ،اور سوچ سمجھ رکھتا ہو تو اُسے اپنی ضروریات کے سدباب کے لئے معاشرے کے دیگر افراد پر بوجھ نہیں بننا چاہئے بلکہ حتیٰ الامکان اس کی کوشش یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی ذہنی توانائیوں اور جسمانی قوت کو استعمال میں لا کر اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی روزی اور کھانے پینے کا خود بندوبست کرے ۔

دست سوال دراز کرنا ،بھیک مانگنا،دوسروں کی جیبوں اور کمائی پر نظر رکھنا، طمع،لالچ اور حرص جیسی رذائل کی پرورش کرنا دین اسلام کی نظر میں نہایت ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے ۔کیونکہ اس سے عزت نفس اور خود داری جیسا جوہر زندگی پامال ہوکر رہ جاتاہے۔
اپنے ہاتھ اور اپنی محنت سے کمایا ہوا رزق قلبی سکون کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کی خوشنودی اور رضا مندی کا باعث بھی ہے ۔
حضرت مقداد بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کوئی بھی شخص اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھا سکتا۔اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کرتے تھے ۔علماء محدثین رحمة اللہ علیہ نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے۔
حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی اور بڑھئی کا کام کیا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کپڑوں کی سلائی کیا کرتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے ۔اور خود امام الانبیاء ،سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دست مبارک سے روز مرہ کے کام سر انجام دیا کرتے تھے ۔گھر کے اندر ازواج مطہرات کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے ۔
اپنے اصحاب کرام کے ساتھ جنگل سے لکڑیاں بھی لاتے تھے ۔اس سے بڑھ کر محنت اور جسمانی مشقت کی اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام جیسی برگزیدہ شخصیات کو بھی محنت ومشقت کے کسی کام کو اختیار کرنے میں کوئی عار نہیں ۔تو ہم آخر اپنے ہاتھ سے اپنی روزی کا سامان کیوں نہیں کر سکتے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ بھیک مانگنے اور دست سوال دراز کرنے کی حوصلہ شکنی کی اور صحابہ کرام کی وساطت سے امت کے ہر فرد کو یہ تعلیم دی کہ اللہ کی ذات والا صفات پر توکل کرتے ہوئے اپنی حیثیت، قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اپنی معاش کا خود بندوبست کرنا چاہیے۔
لوگوں کے عطیات، خیرات اور داد ودہش کا ہر گز منتظر نہیں رہنا چاہئے۔
کیونکہ ہر وقت ہر شخص کو کچھ دینے یا عطا کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتا۔ایسے میں شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور ہمارا دین ہمیں شرمندگی سے بچانا چاہتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ مانگا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تمہارے گھر میں کچھ بھی نہیں اس نے جواب دیا:ایک چھوٹا سا کمبل ہے ،جسے سوتے ہوئے آدھا اوپر لے لیتے ہیں اور آدھے کو نیچے بچھا لیتے ہیں۔ اور ایک پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں ۔فرمایا:دونوں میرے پاس لاؤ۔جب وہ صاحب یہ دونوں چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کی مجلس میں ان کی بولی لگائی اور فرمایا کہ کوئی ہے جو ان دونوں کو خریدلے؟ایک صحابی نے ایک درہم کے بدلے خریدنے کی حامی بھری ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دو تین بار فرمایا:کوئی ہے جو ان دونوں کی قیمت ایک درہم سے زیادہ دے؟ایک اور صحابی اس کے لئے تیار ہو گئے اور دو درہم کی بولی لگ گئی ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمبل اور پیالہ اس کے حوالے کئے اور دو درہم مانگنے والے صاحب کو دیتے ہوئے فرمایا:ایک درہم کا کچھ کھانے پینے کا سامان خرید کر گھر میں دے دو اور دوسرے درہم سے کلہاڑا لے کر آؤ۔
وہ صاحب کلہاڑا لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنفس نفیس اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ لگایا اور اُسے دیتے ہوئے فرمایا:جاؤ لکڑیاں کا ٹو اور بیچو،میں تمہیں پندرہ دن یہاں نہ دیکھوں۔چنانچہ وہ صاحب جب پندرہ دن کے بعد واپس آئے تو ان کے پاس دس درہم تھے جس سے انہوں نے کھانے پینے اور پہننے کے کپڑے خرید رکھے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:محنت مزدوری سے رزق کمانا تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے کہ تم روز قیامت اللہ کی بارگاہ میں اس طرح پیش ہو کر بھیک مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر نشان لگا ہو۔
حدیث میں بیان کردہ یہ واقعہ بڑا ہی عبرت انگیز اور سبق آموز ہے ۔اسلامی معاشرے میں غرباء فقراء ،اور مساکین کی مدد کو نظر تحسین سے دیکھا گیا ہے ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو واقعتا ضرور ت مند ہوتے ہیں ۔محنت کے باوجود بنیادی ضروریات سے محروم رہتے ہیں ،ان کی اعانت کرنا موجب اجر وثواب ہے ۔مگر جو عادةً اور بلا ضرورت ہاتھ پھیلاتے اور بازاروں ،چوکوں اور گلیوں میں دست سوال دراز کرتے ہیں ،انہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ رویہ معیوب بھی ہے اور انسانی شرافت کے لئے عار بھی ۔
طبرانی میں ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔کونسا کام سب سے بہتر ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اُصول وضوابط کے مطابق تجارت کرنا۔اس سے معلوم ہوا کہ حالات کے تقاضے کے مطابق عصری تعلیم سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ۔
اپنی ذہانت تعلیم اور قابلیت کے مطابق کوئی ہنر سیکھنا،اس میں ترقی کرنا اور اس سے وسائل رزق کو پیداکرنا اور ان میں اضافہ کرنا دین اسلام کی نظر میں بڑا ہی پسندیدہ عمل ہے۔ایک اور ارشاد نبوی کے مطابق ہنر مند آدمی اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے ۔کیونکہ ایسا آدمی جہاں اپنی ضروریات زندگی کو احسن طریقے سے پورا کرتاہے وہیں وہ معاشرے کے دیگر افراد کی روزی کا ذریعہ بھی بنتاہے ۔
یاد رہنا چاہئے کہ چوری ،ڈاکہ ،خیانت اور بھیک”اکل المال بالباطل“ یعنی دوسرے لوگوں کا مال ناجائز طریقہ سے ہڑپ کر جانے کے مکردہ دھندے ہیں ۔حرام اور ناجائز ذرائع سے روزی کما کر اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ بھرنا دنیوی اور اُخروی خسارے اور نقصان کا موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی معاشی تعلیمات کے مطابق رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔امین یا رب العالمین۔

Your Thoughts and Comments