Musafir Ki Imamat Ka Hukum

مسافر کی امامت کا حکم

اگر کوئی شخص کسی قوم کے ہاں مہمان بنے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرائے اگر وہ اجازت دے دیں تو

musafir ki imamat ka hukum

مُبشّر احمد رَبّاَنی
اگر کوئی شخص کسی قوم کے ہاں مہمان بنے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرائے اگر وہ اجازت دے دیں تو انہیں نماز پڑھا سکتا ہے اور مسافر مقیم کی امامت جب کرائے اور دورکعت پر سلام پھیر دے تو مقیم اٹھ کر اپنی بقیہ دورکعتیں پوری کرلے اس سے مقیم کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔


ابوعطیہ سے روایت ہے کہ مالک بن الحویرث ہماری نماز کی جگہ میں آئے ایک دن نماز کا وقت آگیا ہم نے انہیں کہا کہ تم آگے بڑھو تو انہوں نے کہا تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھے یہاں تک کہ میں تمہیں بیان کروں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھتا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے:
”جو آدمی کسی قوم کی زیارت کے لئے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کروائے ان میں سے کوئی آدمی ان کی امات کرائے۔


اس کی سند میں ابوعطیہ ہے جس کے بارے میں امام ابوحاتم،امام علی بن مدینی اور یحی القطان نے کہا کہ یہ مجہول ہے لیکن امام ترمذی نے اس کی حدیث کی تحسین اور امام ابن خزیمہ نے لتصحیح کی ہے ۔اس حدیث کے بعض شواھد بھی ہیں۔
نافع سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک جانب مسجد میں نماز کیلئے اقامت کہی گئی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی اس مسجد کے قریب زمین تھی جس میں وہ کام کررہے تھے اور اس مسجد کا امام ان کا غلام تھا اس غلام اور اس کے ساتھیوں کا مسکن بھی وہاں ہی تھا۔
جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے انہیں سناتو ان کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے تشریف لائے تو مسجد کے امام نے انہیں کہا آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”تم اپنی مسجد میں نماز پڑھانے کا مجھ سے زیادہ حق رکھتے ہو پس غلام نے نمازپڑھائی۔“
ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ مقرر امام امامت کا زیادہ حق رکھتا ہے اور دوسرے شخص کو اس کے ہوتے ہوئے نماز نہیں پڑھانی چاہئے ہاں اگرمقرر امام کسی دوسرے شخص کو اجازت دے دے۔
تووہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔جیسا کہ ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کسی شخص کیلئے حلال نہیں جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ کسی قوم کی امامت کرائے ماسوائے ان کی اجازت کے۔“
ایک حدیث میں ہے کہ:
”کوئی آدمی دوسرے آدمی کی حکومت میں امامت نہ کرائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ(مسند وغیرہ)میں بیٹھے مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر مقرر امام کسی آنے والے شخص کو امامت کی اجازت دے دے تو وہ شخص نماز پڑھا سکتا ہے امام ترمذی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور اھل علم کا اس پر عمل ہے آگے مزید لکھتے ہیں :امام احمد بن جنبل رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ کوئی آدمی کسی آدمی کی حکومت وسلطہ والی جگہ میں امامت نہ کرائے اور نہ اس کی عزت والی جگہ میں بیٹھے مگر اس کی اجازت سے ۔
یہ اجازت امامت اورعزت والی جگہ دونوں کے متعلق ہے اور جب اسے نماز پڑھانے کی اجازت دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
علامہ احمد شاکر فرماتے ہیں :امام احمد بن حنبل نے جوبات استنباط کی ہے یہ اس حدیث کی بعض روایات میں بطور نص واقع ہوئی ہے جیسا کہ المنتقیٰ مع نیل الاوطار 1192/میں کہا ہے اور سعید بن منصور نے روایت کیا ہے :
”کوئی شخص دوسرے شخص کی سلطنت میں اس کی امامت نہ کرائے مگر اس کی اجازت کے ساتھ اور نہ اس کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھے مگر اس اجازت کے ساتھ۔

پس اجازت ان دونوں صورتوں میں ہے یعنی صاحب بیت کی اجازت سے اس کی مسند پر بھی بیٹھ سکتا ہے اور آدمی کی حکومت اورسلطہ والی جگہ میں اس کی اجازت سے امامت کرواسکتاہے مذکورہ توضیح سے معلوم ہوا کہ مسافر اور زائر آدمی مقیم کی اجازت سے نماز پڑھا سکتا ہے اس میں شرعی طور پر رخصت ہے اگر چہ زیادہ حق مقرر امام کا ہے ۔اور جب مسافر مقیم امام کی اجازت سے نماز پڑھائے اور وہ قصر کرنا چاہتا ہوتو مقیم کھڑے ہو کر اپنی نماز پوری کرلیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
”بے شک عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب مکہ تشریف لاتے تو انہیں دورکعت پڑھاتے پھر کہتے اے مکہ والو! اپنی نماز پوری کر لو بلاشبہ ہم مسافر قوم ہیں۔“
عمر ان بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور فتح مکہ کے موقع پر میں آپ کے ساتھ حاضر تھا آپ مکہ میں 18راتیں مقیم رہے آپ صرف دورکعت نماز پڑھتے اور کہتے:اے شہر والو تم چار رکعات پڑھو بیشک ہم مسافر قوم ہیں۔

(ابوداؤد کتاب الصلوة باب متی یتم المسافر(1229)بیھقی157/3دلائل النبوة105/5لیکن اس کی سند میں علی بن زیدبن جدعان کمزورراوی ہے۔
صفوان سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عبداللہ بن صفوان کی عیادت کے لئے آئے انہوں نے ہمیں دورکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیر دیا ہم کھڑے ہوگئے تو ہم نے نمازپوری ادا کی۔
مذکورہ بالااحادیث سے معلوم ہوا کہ مسافر نماز پڑھائے تو اگر وہ دورکعت پر سلام پھیر دے تو مقیم آدمی کھڑے ہو کر اپنی بقیہ نماز پوری کرلیں۔

اس میں شرعی طور پر رخصت ہے اس سے مقیم لوگوں کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا اگر کسی قسم کا خلل واقع ہوتا تو خلیفہ المسلمین عمر بن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کبھی ایسا نہ کرتے جو لوگ اس بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں ان کا یہ رویہ نامناسب ہے ۔
جب شریعت میں رخصت موجود ہے تو اسے شرح صدر کے ساتھ قبول کرنا چاہئے اور مسافر کی اقتداء میں مقیم کی نماز بالاتفاق صحیح ہے اور میرے علم میں کسی اہل علم نے اس میں اختلاف نہیں کیا۔
فقہ حنفی کی کتاب قدوری باب صلوة المسافرص53فقہ حنبلی کی المغنی146/3رقم المسئلہ276فقہ شافعی کی کتاب الام اور فقہ مالکی کے لئے موٴطاملاحظہ ہو۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر3)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments