Nabi Akra SAW Per Darood Parhna

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر درود پڑھنا ہر مسلم پر لازم ہے

بدھ مئی

Nabi Akra SAW Per Darood Parhna
مُبشّر احمد رَبّاَنی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر درود پڑھنا ہر مسلم پر لازم ہے اور درود نہ پڑھنے والابخیل وغیرہ ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس نبی پر صلاة وسلام بھیجتے رہو۔“
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر صلاة وسلام پڑھنا چاہئے اور احادیث صحیحہ میں آپ پر صلوة بھیجنے کے بہت سارے فضائل بھی وارد ہوئے ہیں لیکن یہ بات کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ دنیا میں جہاں بھی درود پڑھا جارہا ہو اس کی آواز آپ سنتے ہیں یا وہ آواز آپ تک پہنچ جاتی ہے۔

امام ابن القیم رحمة اللہ علیہ نے صلوة وسلام پر جو کتاب بنام”جلاء الافھام“تحریر کی ہے اس میں ایک روایت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس سند کی ساتھ درج ہے:
”ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جمعہ والے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو یہ ایسا دن ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔


جو بھی آدمی مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے وہ جہاں کہیں بھی ہو۔

ہم نے کہا آپ کی وفات کے بعد بھی ؟تو آپ نے فرمایا میری وفات کے بعد بھی ۔بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“
یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے ۔حافظ عراقی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
بلاشبہ اس کی سند صحیح نہیں۔ اس کی سندصحیح نہ ہونے کی دو علتیں ہیں۔
(1) سعید بن ابی مریم اور خالد بن یزید کے درمیان انقطاع ہے یعنی سعید نے یہ روایت خالد سے نہیں سنی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خالد بن یزید139ھ میں فوت ہوئے۔(تہذیب التہذیب178/2)
سعید بن ابی مریم کی ولادت 144ھ میں ہوئی ۔(تہذیب التہذیب296/2)
یعنی سعید خالد کی وفات کے پانچ سال بعد پیدا ہوا۔لہٰذا جوراوی اوپر والے راوی کے پانچ سال بعد پیدا ہواس کا سماع کس طرح ہو سکتا ہے اور اس کی روایت کیسے درست اور صحیح ہو سکتی ہے ؟
(2) دوسری علت یہ ہے کہ سعید بن ابی حلال اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھی انقطاع ہے سعید بن ابی حلال مصر میں 70ھ میں پیدا ہوئے۔
(تہذیب التہذیب342/2)
جب کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخر میں فوت ہو چکے تھے۔(تقریب ص:52)
اور عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات کے تقریباً 35سال بعد سعید بن ابی حلال مصر میں پیدا ہوا۔
امام صلاح الدین العلائی رحمة اللہ علیہ نے (جامع التحصیل:ص224)میں لکھا ہے کہ سعید کی روایت جابر رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے اور جابر رضی اللہ عنہ مدینہ میں 70ھ کے بعد فوت ہوئے۔
(تقریب ص:52)
جب اس کی روایت جابر رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے تو جابر رضی اللہ عنہ سے پہلے فوت ہونے والے صحابی ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے ۔لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے اور قابل حجت نہیں۔
علاوہ ازیں امام سخاوی رحمة اللہ علیہ نے (القول البدیع ص:185)میں طبرانی کبیر سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے لکھاہے کہ :
اور امام طبرانی نے ”معجم الکبیر“میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ نکالی ہے :
”جمعہ والے دن کثرت سے صلاة بھیجو یہ ایسا دن ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔
نہیں ہے کوئی بندہ جو مجھ پر صلاة بھیجتا ہے مگر مجھے اس کی صلاة پہنچ جاتی ہے وہ جہاں کہیں بھی ہو“۔
یعنی جلاء الافہام میں بلغتنی صوة ہے جب کہ القول البدیع میں طبرانی کے حوالے سے صوتہ کی بجائے صلاتہ ہے پہلے الفاظ کا مطلب مجھ پر صلاة پڑھنے والے کی آواز پہنچ جاتی ہے جب کہ دوسرے الفاظ کا مطلب مجھے اس کی صلاة پہنچ جاتی ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کے متن کے نقل کرنے میں بھی اختلاف ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جلاء الافھال میں تصحیف ہو گئی ہے صلاتہ کا لفظ صوتہ سے بدل گیا ہے اور صحیح یہی ہے کہ آپ کو درود پڑھنے والے کا درود پہنچ جاتا ہے نہ کہ اس کی آواز ۔
اس کی تائید دیگر احادیث صحیحہ سے بھی ہوتی ہے ۔
آواز پہنچنے والی روایت سند اور متن کے لحاظ سے کمزور ہے ۔اس لیے جو لوگ کہتے ہیں ”ہم یہاں پہ پڑھیں وہ وہاں پہ سنیں ۔ان کی سماعت پر لاکھوں سلام“ان کی یہ بات بے دلیل ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر 3)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments