Nabi Kareem SAW Ne Shab E Barat Kaise Guzari

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ برات کیسے گزاری؟

شب برات وہ مقدس رات ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”لیلة مبارکة“یعنی برکتوں والی رات کے نام سے ذکر کیا ہے اور یہ مبارک رات شعبان المبارک جیسے مہینہ میں واقع ہوئی ہے

بدھ مئی

Nabi Kareem SAW Ne Shab e Barat Kaise Guzari

مولانا حافظ مجیب الرحمن
شب برات وہ مقدس رات ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”لیلة مبارکة“یعنی برکتوں والی رات کے نام سے ذکر کیا ہے اور یہ مبارک رات شعبان المبارک جیسے مہینہ میں واقع ہوئی ہے جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے ۔رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور رمضان المبارک میری امت کا مہینہ ہے ۔


شعبان المعظم اور شب برات کی احادیث مبارکہ اور روایات میں بہت زیادہ اہمیت وفضیلت آئی ہے ،
اس مبارک رات کے بہت سے نام ہیں اس کو ” لیلة الصّک“یعنی دستاویز والی رات ،”لیلة الرحمة“ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کے نزول کی رات کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔
اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے ،بخشش و مغفرت اور رحمت کے دروازے کھول دےئے جاتے ہیں ،انعام واکرام کی بارش ہوتی ہے توبہ اور دعائیں قبول ہوتی ہیں ،
اس رات میں آئندہ سال کی اموات وپیدائش لکھی جاتی ہیں اور اس رات میں ان کے رزقوں کی بھی تقسیم کر دی جاتی اور اس رات میں بندوں کے اعمال و افعال آسمان پر لیجائے جاتے ہیں اور اس رات میں اللہ تعالیٰ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرماتے ہیں لیکن․․․․․اس بخشش و مغفرت ،اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت اور اس رات کی برکات وثمرات سے مشرک ،کینہ پرور،رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے یعنی ان کے حقوق پورے نہ کرنے والا،والدین کا نافرمان ،کسی انسان کو ناحق قتل کرنے والا،بدکار عورت،تہبند،پاجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا یعنی متکبر،زانی اور شرابی محروم رہتا ہے ․․․․․جب تک یہ سب ان چیزوں سے سچے دل سے توبہ کرکے اپنے آپ کو درست نہیں کر لیتے۔


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جن میں کی جانے والی دعائیں رد نہیں ہوتیں یعنی ضرور قبول ہوتی ہیں ،(1)۔شب جمعہ(2)۔رجب کی پہلی رات(3)۔شعبان کی پندرہویں شب(شب برات)(4)۔عیدالفطر کی رات(5)۔عیدالاضحی کی رات۔خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان (شب برات)کی شب آسمان دنیا کی طرف نزول جلال فرماتے ہیں اور اس شب میں ہر کسی کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے مشرک کے یا ایسے شخص کے کہ جس کے دل میں بغض ہو۔

ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا کی طرف نزول اجلا ل فرماتے ہیں اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں شب (شب برات)میں کیا ہوتا ہے ؟انہوں نے دریافت کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوتا ہے ؟
حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھ دےئے جاتے ہیں اور جتنے اس سال میں مرنے والے ہیں وہ سب بھی اس رات میں لکھ دےئے جاتے ہیں اور اس رات میں سب بندوں کے اعمال (سارے سال)اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اتاری جاتی ہے ۔

مشہور تابعی حضرت عطاء بن یساررحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فہرست ملک الموت کو دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس فہرست میں درج ہیں ان کی روحوں کو قبض کرنا․․․․․کوئی بندہ تو باغوں کے درخت لگا رہا ہوتاہے کوئی شادی کررہا ہوتا ہے کوئی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے حالانکہ اس کانا م مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔

شب برات کی عظمت وفضیلت کے بارے میں جلیل القدرتابعی حضرت عطاء بن یسار رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شب قدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب(شب برات)سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں شب برات تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو،کیونکہ غروب آفتاب سے لیکر صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر رہتے ہیں اور فرماتے ہیں ”’ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں ؟ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دیدوں ؟ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں؟ہے کوئی ایسا․․․․ہے کوئی ایسا۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شب برات کو قبرستان تشریف لیجاتے تھے اور پوری امت محمد یہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش ومغفرت کیلئے دعا فرماتے ۔ہمیں بھی اس رات میں قبرستان جا کر اپنے عزیز واقارت اور تمام فوت شدہ مسلمانوں کیلئے دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔اس رحمت وبرکت اور بخشش و مغفرت والی رات میں خوب عبادت و ریاضت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہو گا اور تکبر ،عناد ،حسد ،بغض کینے سمیت تمام بد اعمالیوں اور رشتہ داروں سے قطع تعلقی کو ختم کرتے ہوئے سچے دل سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشانی کو جھکاتے ہوئے انتہائی خشوع خضوع ،عاجزی وانکساری کے ساتھ اپنی بخشش ومغفرت کیلئے دعا کریں۔

Your Thoughts and Comments