Nabi (saw) Hamaray Rehbar

عنوان: نبی ﷺ ہمارے رہبر ۔۔۔۔تحریر: عدیل چوہدری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری کی پوری زندگی اپنے ہر پہلو میں اسوہ حسنہ اور حسنہ روشن و نمونہ ہے تمام اہل ایمان کیلئے ہے۔اللہ بزرگ و برتر ہمیں سلامتی کے رستے پہ رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے

جمعہ نومبر

nabi (saw) hamaray rehbar
سلام اُن پر کہ اسرارِ محبت جنہوں نے سمجھائے سلام اُن پر کہ جنہوں نے زخم کھاکر پھول برسائے سلام ان پر کہ جنہوں نے خون کے پیاسوں کو قبائیں دیں سلام اُن پر کہ جنہوں نے گالیاں سُن کر دُعائیں دیں. میری اتنی بساط ہے نہ الفاظ میں اتنی طاقت کہ میں آپ اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ کے متعلق کچھ کہہ سکوں لیکن محبت ہے جو کہتی ہے کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ انکی بارگاہ میں پیش کر دو تحریر نہیں جذبے لکھو بتاؤ کیا تھے میرے نبی اللہ ﷺ تاریخ عالم پہ نظر ڈالتی ہوں تو کوئی شخص ایسا دور دور تک نہیں دکھائی دیتا جو اپنے خون کے پیاسے شخص کے لیے کہہ رہا ہو۔
۔ جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے اس کے لیے امان ہے کون ہے ایسا جو اس بات پہ پریشان ہو اٹھے کہ مجھ پر کوڑا کیوں نہیں پھینکا گیا اور خبرگیری کے لیے جا پہنچے۔

۔ کوئی ہے جو گالیوں کے بدلے دعائیں دے رہا ہو یہ مجھے نہیں جانتے ان کی اولاد میں سے ہدایت یافتہ لوگ ہوں گئے۔۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کون ہو گا جو خود قیدیوں کا فدیہ دیتے دکھائی دیتے ہیں اور قیدی بھی کون جو اسلام کے دشمن آپکی جان کے دشمن ہیں۔

۔۔ تاریخ دیکھتا ہوں تو معمولی گالم گلوچ پر خون کی ندیاں بہتی دکھتی ہیں لیکن ایسے میں ایک انسان صرف ایک انسان ایسا دکھائی دیتا ہے جو کبھی اپنے چچا کے قاتلوں کو تو کبھی اپنی بیٹی کے قاتلوں کو معاف کر کے دنگ کر دیتا ہے میرے پیارے پیغمبر کے سوا کون ہو گا ایسا۔۔۔ بشر نہیں عظمت بشر ہے میرا پیغمبر عظیم تر ہے۔۔ کسی کا معمولی سا رویہ چند تلخ الفاظ عمر بھر کے لیے بھلائے نہیں بھولتا تو ایسے میں جب دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپنی زمین کو تنگ کر دیتے ہیں ہجرت پہ مجبور کرتے ہیں اور وہاں بھی سکون لینے نہیں دیتے آئے دن کی لڑائیاں اور اذیتیں دینے جا پہنچتے ہیں انہیں کتنی آسانی سے کہہ دینا کہ '' جاؤ آج کیدن تم سے کوئی مواخذہ نہیں تم سب آزاد ہو'' میرے نبیاللہ ﷺ کا ہی کام ہے۔
۔ تاریخ اگر ڈھونڈے گی ثانی محمد (اللہ ﷺ) ثانی تو بڑی بات ہے سایہ نہ ملے گا وہی لاثانی ہی ہمارے رہبر ہیں جن کی زندگی ہمہ تن قرآن ہے اور دین کا انتظام بھی اس بات پر موقوف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ''سنتوں'' کی اتباع کی جائے یہ ایک واضح بات ہے کہ نبی کریم اللہ ﷺ کی آمد سے ہرطرح دین کی تکمیل ہو گی ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا دنیا میں درجہ بدرجہ چاند اور ستاروں کے طلوع کے بعد وہ خورشید انور طالع ہوا جس کیلے کبھی غروب نہیں معمار قدرت اپنی عمارت میں آخری پتھر کو اپنی جگہ رکھ کر اپنی تعمیرپوری کر چکا طرح طرح کی بہاروں کیآنے کے بعد کائنات میں وہ سدا بہار موسم آگیا جس کے بعد پھر خزاں نہیں نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن اخلاق اوراسوہ حسنہ سے اپنے تو اپنے غیر بھی اس آفتاب نبوت کو محسن اعظم کہنے پہ مجبور ہوگئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں فرمایا لِیخرجکم من الظلمات الی النور اورپھر اگلی آیت اس مقصد کے حصول کے ذریعے کو سامنے لے آتی ہے کہ ہم نے زندگی کے ہر معاملے میں ہدایت کی راہیں کھول دینے کیلئے یہ شمع روشن رکھ دی ہے،یہ ایک طرف تو بشیر بن کر راہ راست بتائی گی اور دوسری طرف نذیر بن کر تمہیں ضلالت کے رستوں سے خبر دار کرے گی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو محض فانوس نہیں تصور کیا گیا کہ جس میں بجائے خود کوی نور نہ ہو بلکہ وہ اپنے اندر کی مشعل کی شعاوں کو ارد گرد بکھیردے ۔بات اگر صرف ''استعارے'' میں لپیٹ کر چھوڑ دی گی ہوتی اورتمثیل کی حد سے کلام آگے نہ بڑھا ہوتا تو فی الواقع مفسدین کیلئے موقع تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی حیثیت کو امت کیلے مشتبہ بنانے میں بہت کچھ رخنہ اندازیاں کر سکیں۔
لیکن قرآن مجید نے اپنی تمثیل کے مفہوم اور اپنے استعارے کے مدعا کو جا بہ جا کھول کے رکھ دیا اور اس درجہ وضاحت و صراحت اختیار کی ہے کہ فتنہ گروں کیلئے میدان تگ و تاز باقی چھوڑا ہی نہیں لَقد کان لکم فِی رسول اللہِ اُسوة حَسَنہ(الاحزاب) تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے اور بات اتنی ہی نہیں فرمائی، یہ بھی ساتھ فرمایا کہ اس نمونہ کا دامن تھامنا ہر اس شخص کیلئے لازم ہے جو اللہ کے سامنے پیش ہونے اور یوم آخرت کی جواب دہی سے دو چار ہونے کا متوقع ہو ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح اسوہ حسنہ قرار دینا اورپھر اس اسوہ کے اتباع کو واجب ٹھہرانا اس بات پر دلالت ہے کہ تنہا خدا کی کتاب کو لے کر کوئی شخص اس دین کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا جس میں اصولی اتھارٹی اور سند قرآن ہے ۔اور پھر اس کے بعد وعید بھی سن لیجے فَاِنّ اللہ ھُو الغنیُّ الحمید یعنی جو اس اسوہ حسنہ سے منہ موڑے گا تو ایسے لوگوں سے اللہ بے نیاز ہے۔
اب قابل غور امر یہ سامنے آتا ہے کہ تمام انبیا کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا امت کیلئے مثال ہونا کن کن پہلوؤں کو محیط ہے اور اسکی وسعتیں کہاں تک پہنچتی ہیں۔اسکا سیدھا اور مختصر جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری کی پوری زندگی اپنے ہر پہلو میں اسوہ حسنہ اور حسنہ روشن و نمونہ ہے تمام اہل ایمان کیلئے ہے۔اللہ بزرگ و برتر ہمیں سلامتی کے رستے پہ رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔وماعلینا الا البلاغ

Your Thoughts and Comments