Nasir-Al-Din Tusi Qist 2 - Article No. 3508

نصیر الدین طوسی قسط 2 - تحریر نمبر 3508

منطق کے میدان میں الطوسی نے ابن سینا کی تعلیمات کی پیروی سر انجام دی

بدھ اکتوبر

Nasir-Al-Din Tusi Qist 2
مسعود مفتی
سائنسی کامیابیاں
منطق کے میدان میں الطوسی نے ابن سینا کی تعلیمات کی پیروی سر انجام دی لیکن منطق اور ریاضی کے درمیان تعلق کے مطالعہ میں ایک نیا اقدام سر انجام دیا۔انہوں نے الخیامی کے کام کو جاری رکھا۔جیو میٹری کے میدان میں بھی الطوسی نے الخیامی کے کام کی پیروی سر انجام دی ۔ریاضی کے میدان میں الطوسی نے جو نمایاں خدمات سر انجام دیں وہ غالباً ٹریگنو میٹری کے میدان میں تھیں۔
الطوسی کو علم فلکیات کے ماہر کے طور پر بھی یادکیا جاتا ہے۔ہلاکو خان کے تعاون کی بنا پر اسے مالی معاونت میسر آئی اور اس نے ایک جدید مشاہدہ گاہ کی تعمیر کی نگرانی سر انجام دی۔اس کی مالی معاونت جو عطیاتی فنڈز پر بنیاد کرتی تھی․․․․․اس کی زندگی کا دورانیہ جو اس کے بانی کی زندگی کے دورانیے سے زیادہ تھا․․․․․․سائنس اور فلسفے کے میدان میں اس کی ہدایات کے ایک مرکز کی حیثیت․․․․․اور اس کی کارکردگی میں کئی ایک سائنس دانوں کی شمولیت․․․․․․یہ سب کچھ اس مشاہدہ گاہ کو سائنس کی تاریخ میں ایک بڑا سائنسی ادارہ بنانے میں کامیاب ہوا۔

یہ مشاہدہ گاہ بہترین سازو سامان اور آلات سے مزین تھی۔اس میں ایک بہترین لائبریری بھی موجود تھی جس میں تمام تر سائنسوں پر کتب موجود تھیں۔اس مشاہدہ گاہ کا کام محض علم فلکیات تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس نے تمام تر سائنسوں اور فلاسفی کی نشوونما سر انجام دینے میں بہترین معاونت سر انجام دی تھی۔
اخلاق مہاتاشامی
یہ کتاب اخلاقی عمل درآمد پر مشتمل ہے۔
اخلاقیات کی بنیاد علم(معرفہ)ہے․․․․․خدا کا علم․․․․پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں علم اور ان کے جانشینوں کے بارے میں علم۔انسانی رنج والم،محبت اور نفرت کے جذبات کی وجہ سے ہیں۔الطوسی یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو ان افراد کی محبت پر انحصار کرنا چاہیے جو نیک ہیں اور گناہ گاروں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ایک مرتبہ لوگ جب خدا کو جان جاتے ہیں۔
اپنے دوستوں سے محبت کرتے ہیں۔اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں،اور اپنی مسلم انسانی برادری کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں تب وہ خدا کے راستے میں لڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔(جہاد)اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی سر انجام دینا ہی پارسائی کے عمل درآمدکی نگرانی سر انجام دیتا ہے۔(الاعمال الصالح)خدا کی عبادت اور خدا کی راہ میں کی گئی خیرات کی بدولت دنیاوی انعامات میسر آتے ہیں۔
خوف خدا کا حامل بننا چاہیے اور تکالیف اور مصائب میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیے۔خدا پر بھروسہ اور انحصار بہترین عمل ہے۔ظلم و تشدد اور نا انصافی سے بچنا چاہیے۔الطوسی کہتے ہیں کہ ایک متقی اور پارسا شخص ہمیشہ آخرت پر نظر رکھتا ہے اور اس کا مطمع نظریہ فانی دنیا ہر گز نہیں ہوتی۔دولت اکٹھی کرنا گناہ ہے۔غیر ضروری اور فضول عمل ہے۔
لالچ اور طمع سے بچنا چاہیے۔معاف کر دینے کا عمل اور اپنے غصے پر قابو پانے کا عمل نیکی کے زمرے میں آتا ہے۔کسی سے عداوت اور دشمنی نہیں رکھنی چاہیے۔عاجزی اور انکساری بہترین عمل ہے اور غرور تکبر سے بچنا چاہیے۔سخاوت․․․․فیاضی․․․․․اور معاف کر دینے کا عمل ایک نیک اور پارسا شخص کا وطیرہ ہے۔نیک اور دانش ور دوستوں کی دوستی اختیار کرنی چاہیے اور گناہ گار اور جاہل لوگوں سے بچنا چاہیے۔
وہ یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں کہ:۔
”صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا اور علم کے حصول کا جدوجہد سر انجام دینا۔دانشوروں کی محبت اختیار کرنا اور ان کے ساتھ بحث مباحثے سے اعتراز کرنا۔مادی اشیاء کے حصول میں وقت برباد نہ کرنا بلکہ آخرت کی نجات کے لئے جدوجہد سر انجام دینا۔“
”بہت زیادہ فضول بات چیت ہر گز بہتر نہیں ہے۔

اداسی دماغ کو متاثر کرتی ہے اور اس کی بہتر کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔نوجوان لوگوں کو اپنے تمام تر علم اور اہلیتوں کا انکشاف یک دم نہیں کرنا چاہیے اور دوستی میں ثابت قدم رہنا چاہیے لیکن اگر دوست ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہوں تب ان کے ساتھ مزید روابط منقطع کر دینے چاہئیں۔اعتمادی کامیابی کی کلید ہے جب وہ اعلیٰ عہدے تک پہنچ جائیں تب انہیں غرور و تکبر سے بچنا چاہیے۔
سوالات پوچھنے سے قبل یا سوالات کے جوابات دینے سے قبل ان کی پیشگی بخوبی سوچ بچار سر انجام دینی چاہیے تاکہ اپنے آپ کے لئے خوف وہراس تخلیق نہ کر سکیں۔علم میں اور عہدے میں اپنے سے بڑے لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے چاہئیں اور اپنے ہم رتبہ اور ہم مرتبہ لوگوں کو توقیر سر انجام دینی چاہیے،اور اپنے سے کم تر لوگوں کے ساتھ میل جول نہیں رکھنا چاہیے۔
اخلاقیات پر الطوسی کا عظیم ترین کام متاثر کن حیثیت کا حامل ہے۔
اخلاق نصیری(Akhlaq-i-Nasiri)
اخلاق نصیری فلسفے کے حصوں بخروں پر معیاری مباحثہ ہے جسے اسلامی فلاسفروں نے اختیار کیا تھا اور اس کا آغاز ارسطو کے دور سے ہوتا ہے۔حکمت یا فلاسفی چیزوں کے بارے میں جاننے کا عمل ہے اور جیسی ہیں ویسی کی بنیاد پر جاننے کے عمل ہیں،اور چیزوں کو سر انجام دینے کا عمل ہے جسے سر انجام دینا چاہیے۔
بقول الطوسی،فلسفے کا مقصد بلند ترین انسانی آئیڈیل کا حصول ہے۔انسان کو جسمانی اہلیتوں کے علمی (علم) اور عملی علم میں دسترس حاصل کرنی چاہیے جب کوئی علم میں کاملیت حاصل کرتا ہے․․․․․وہ شریفانہ کردار اپناتا ہے۔
اپنے والدین کا احترام اور توقیر سر انجام دینے سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں ہے․․․․․کوئی پارسائی نہیں ہے۔بچوں کے لئے والدین کی محبت فطری امر ہے جبکہ والدین کے لئے بچوں کی محبت دانستہ اور ارادی امر ہے۔
اپنے والد کے لئے محبت کا اظہار اس کی تابعداری سے ہوتا ہے اور والدہ کے لئے محبت کا اظہار اسے مالی اور جسمانی آسودگی فراہم کرنے سے ہوتا ہے۔بچوں کو والدین کے ساتھ بحث مباحثے اور گستاخی سے بچنا چاہیے۔خادموں اور غلاموں کے ساتھ برتاؤ اور سلوک کے بارے میں الطوسی کہتا ہے کہ اگرچہ وہ ادنیٰ فعال کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کے ساتھ مہربانی اور شفقت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔

اثرورسوخ
الطوسی کا اثرورسوخ بالخصوص مشرقی اسلام میں عظیم حیثیت کا حامل تھا اگر ہم تمام تر میدانوں کو زیر غور رکھیں تب وہ غالباً کسی بھی ہستی سے بڑھ کر اسلامی سائنس کی نشوونما سر انجام دینے کے ذمہ دار تھے۔انہوں نے بہت سے مفکرین اور سائنس دانوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا جس کے نتیجے میں ریاضی اور فلکیات کے میدانوں میں گراں قدر پیش رفت ممکن ہوئی اس کے علاوہ اسلامی فلسفے اور علم دین کے میدانوں میں بھی گراں قدر پیش رفت ممکن ہوئی۔
الطوسی کی تحریروں کو صدیوں تک اسلامی تعلیمات کے کئی ایک میدانوں میں مستند حیثیت حاصل رہی اور ان کے کئی ایک طلباء غیر معمولی مفکرین اور سائنس دانوں کے روپ میں منظر عام پر آئے۔علم فلکیات کے میدان میں ان کے مشاہدات نے سمر قند اور استنبول پر اپنے گراں قدر اثرات مرتب کیے اور مغرب کو بھی متاثر کیا اور ریاضی کے میدان کے مطالعہ نے بھی مابعد آنے والے مسلم ریاضی دانوں پر اپنے اثرات مرتب کیے۔چینی سائنس بھی ان کے اثرات قبول کرنے سے اپنا دامن نہ بچا کسی جو منگول حملے کے نتیجے میں اسلام کے ساتھ قریبی تعلقات کی حامل تھی۔الطوس کے افکار نے مابعد ہندوستانی سائنسوں کو بھی متاثر کیا۔

Your Thoughts and Comments