Qoum Ka Aizaz O Ehtram

قوم کا اعزازواحترام

دوسروں کا ادب واحترام کرنا اور باوجود اپنے علو مرتبت کے اوروں کے ساتھ تواضع وانکسار سے پیش آنا انسانی خصائل میں ایک ایسی شریفانہ اور نیک خصلت ہے

qoum ka aizaz o ehtram

دوسروں کا ادب واحترام کرنا اور باوجود اپنے علو مرتبت کے اوروں کے ساتھ تواضع وانکسار سے پیش آنا انسانی خصائل میں ایک ایسی شریفانہ اور نیک خصلت ہے جس سے اخوت واتحاداور مساوات ویگا نگت کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں ۔اس لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کے ادب واحترام کا بہت خیال رہتا تھا اور اس امر خاص میں جو اسوئہ حسنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے کئے پیش فرمایا ہے اگر مسلمان اس پر عمل کرنے لگیں تو بہت جلد اپنی کھوئی ہوئی عزت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔


حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ آپ کبھی مجلس میں پائے مبارک دراز کرکے تشریف نہیں رکھتے تھے اور اپنے اصحاب کو کنیت کے نام سے پکارتے تھے (عرب میں عزت سے بلانے کا یہی دستور ہے )اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص بلاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں لبیک (حاضرہوں )فرمایا کرتے ۔

کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آتا تو اس کی تعظیم کرتے ۔

اس کا ادب بجالاتے ۔ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ میں تشریف رکھتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس کثرت سے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے کہ حجرہ شریف بھر گیا۔بیٹھنے کو جگہ نہ رہی۔
حضرت جربر رضی اللہ عنہ جو ایک صحابی تھے تشریف لائے اندر جگہ نہ دیکھی تو دہلیز پر بیٹھ گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لپیٹ کر ان کے پاس پھینک دی اور فرمایا کہ اس پر بیٹھ جاؤ۔
انہوں نے چادر مبارک کو اٹھا کر آنکھوں سے لگایا اور بوسہ دے کر رونے لگے اور تہہ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کردی اور عرض کیا کہ میں اس لائق نہیں کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم کی چادر مبارک پر بیٹھو ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں بائیں دیکھ کر فرمایا۔جب تمہارے پاس کوئی آدمی آئے تو تم اس کی تعظیم وتکریم کیا کرو۔
بعض اوقات آپ کی خدمت اقدس میں کوئی حاضر ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے بیٹھے ہوتے جس میں اتنی گنجائش نہ ہوتی کہ اس کو اپنے ساتھ بٹھالیں تو تکیہ نکال کر اسے دے دیتے اگر وہ لینے سے انکار کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصرار کرکے اسے دے ہی دیتے تھے۔
یہ یاد رہے کہ یہ تکیہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔
ایک دفعہ ایک بڑھیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بہت تعظیم کی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال پوچھا گیا تو فرمایا۔یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلی ہے اور ان کے پاس اکثر آیا کر تی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بزرگوں کی بڑی عزت کرتے اور ان کی بات مان لیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک ان کے لئے بچھادی۔

ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر اپنے ایک صحابی کے ساتھ غسل کرنے گئے انہوں نے ایک چادر کی آڑ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرلی ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہا چکے تو وہ صحابی نہانے لگے ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کپڑا روک کر کھڑے ہوگئے تاکہ ان کا پردہ ہو جائے انہوں نے کہا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کریں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مانا اور جب تک وہ غسل سے فارغ نہ ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دہ کئے کھڑے رہے۔
جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے اور عاجزوں پر رحم کرتے تھے وہاں جو لوگ نیک اخلاق ہوتے ان کی بڑی عزت اور احترام کرتے تھے چنانچہ حاتم طائی ایک مشہور سخی ہوا ہے اس کا نام سب لوگوں میں مشہور ہے جب اس کے قبیلہ کے لوگ قید ہو کرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔
اس نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں تو ہمیں رہا کردیں اور عرب قبیلوں کو ہم پر ہنسنے کا موقعہ نہ دیں ۔میں اپنی جماعت کے سردار کی بیٹی ہوں۔ میرا باپ اپنی قوم کی حمایت کرتا تھا۔
قیدیوں کو چھوڑ دیا کرتا تھا۔بھوکوں کا پیٹ بھرتا تھا انہیں کھانا کھلاتا تھا۔ننگوں کو کپڑا پہنا تا تھا۔مسافروں کی خدمت کیا کرتا تھا۔جو حاجتمند شخص اس کے پاس آتا تھا۔مقدور کے مطابق اس کی حاجت پوری کیا کرتا تھا۔اس کانام حاتم طائی تھا۔

Your Thoughts and Comments