Rabi Ul Awal Mubarak Mahina

ربیع الاول مبارک مہینہ

ارشاد باری تعالیٰ ہی۔"یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔(سورة الاحزاب :۲۱)"سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے درمیان کا عرصہ جو کم و بیش 571 سال کا عرصہ ایسا تھا کہ پوری دنیا کفر و ضلالت کے اندھیروں میں تھی۔ لوگوں کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی معیشی اور معاشرتی زندگی موت سے بھی بدتر تھی۔ کفر کی سیاہ راتیں چھا چکی تھیں

Rabi Ul Awal Mubarak Mahina
ارشاد باری تعالیٰ ہی۔"یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔(سورة الاحزاب :۲۱)"سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے درمیان کا عرصہ جو کم و بیش 571 سال کا عرصہ ایسا تھا کہ پوری دنیا کفر و ضلالت کے اندھیروں میں تھی۔ لوگوں کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی معیشی اور معاشرتی زندگی موت سے بھی بدتر تھی۔
کفر کی سیاہ راتیں چھا چکی تھیں۔ شرافت، دیانت، شرم و حیا، انصاف، محبت و اخوت چادر اور چار دیواری کا تقدس بری طرح پامال ہو چکا تھا۔ زنا، شراب نوشی، چوریاں، ڈکیتیاں، لوٹ مار، جدال و قتال، خون ریزی، دختر کشی، ظلم و ستم بامِ عروج پر تھا۔ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے سے نبرد آزما تھا۔

حر بی جذبات اس قدر وافر تھے کہ ذرا سی بات پر خون کی ندیاں بہہ جاتیں اور جدال و قتال کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا۔

الحاد و بے دینی کا دور دورہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ان تمام برائیوں میں سرفہرست تھا۔ چاند سورج اور نجوم، کواکب، جنات اور آگ کی پرستش کی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ کو علیہما السلام کو اللہ وحدہ لا شریک کے بیٹے تصور کیا جاتا تھا۔ بت پرستی عام تھی حتیٰ کہ بیت اللہ میں 360 بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔
عرب کے لوگ جو اپنے افعال و کردار کے لحاظ سے جہنم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے رحمت حق جوش میں آئی اور ان کی اصلاح اور نجات کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
”اللہ نے اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو پسند فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔“ (مشکوٰة)
ربیع الاول کا مہینہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں سرور کائنات، پیکر حسن و جمال، رحمت مجسم پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔
ربیع الاول سوموار کا دن ، وقت صبح صادق کا اور موسم بہار کا ، رات کی ظلمتیں چھٹ رہی تھیں، دن کا اجالا ہر سو پھیل رہا تھا۔ جب نازش انسانیت، نگہبان آدمیت، سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔
پیغمبر دو جہاں اس دنیا میں اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی آپ کے والد گرامی اس دنیا سے رحلت کر چکے تھے۔
چھ سال کے ہوئے تو ماں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا جان کے سایہ عاطفیت سے بھی محروم ہو گئے۔ اس کے بعد آپ کے چچا ابوطالب آپ کے کفیل بنے۔ آپ نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں، جیسے ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو تجارت کی طرف مائل ہو گئے اور مکہ کی مشہور ترین اور صاحب ثروت خاتون خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر ان کے غلام کے ہمراہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام جانے کا قصد کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ ان کا سارا مال تجارت بڑے نفع کے ساتھ فروخت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت اور صداقت سے اور غلام کی زبانی آپ کے اخلاق کریمانہ اور حسن معاملگی سے متاثر ہو کر آپ کو پیغام نکاح بھیج دیا۔ حالانکہ وہ بیوہ تھیں۔ آپ نے اپنے چچا سے مشاورت کے بعد اسے قبول کر لیا۔ آپ کے نکاح کے وقت آپ کی عمر 25 سال اور خدیجة الکبریٰ کی عمر چالیس برس تھی۔

”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا اور آگاہ کر دے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔ اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر۔“(مدثر:1-7)
ان آیات میں اللہ رب العزت نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کا لائحہ عمل بتلایا ہے کہ اب آرام و راحت کا وقت بیت چکا، اب آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے اور شرک کی بیخ کنی کے لئے کمر بستہ ہو جائیے۔
چنانچہ آپ نے مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا پرچم بلند کئے رکھا اس دوران آپ کو بہت زیادہ مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے بڑے بڑے لالچ دئیے گئے۔ مال و منال کے جھانسے دئیے گئے۔ حسیناوٴں کے ساتھ شادی کے چغمے دئیے گئے۔ مکہ کی سرداری کا عہدہ بھی پیش کیا گیا۔ مگر آپ کو کسی بھی ذریعہ سے راہ راست سے پھسلایا نہ جا سکا اور نہ ہی آپ کے قدموں میں جنبش پیدا ہوئی۔
آپ نے ثم استقاموا کی عملی تفسیر پیش کی۔ سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ کو داغ مفارقت دے گئیں، آپ پریشان رہنے لگے۔ ادھر کفار مکہ نے مظالم کی انتہا کر دی۔ اللہ رب العزت نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے اور آپ کی تسلی و تشفی اور اظہار محبت کے لئے معراج کروائی۔ جس کا تذکرہ پارہ نمبر پندرہ کے شروع میں کیا گیا ہے۔ آپ نے اس سفر میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے سدرة المنتہیٰ اور بیت المعمور کا نظارہ کیا۔
اللہ کا قرب حاصل ہوا۔ اور خالق کائنات کے ساتھ ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ پھر اللہ کے حکم سے مکة المکرمہ چھوڑ کر یثرب کی طرف ہجرت کی۔ آپ کی تشریف آوری سے یثرب مدینة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور اسے اسلامی ریاست کا پہلا دارالخلافہ بننے کا عظیم اعزاز اور شرف حاصل ہوا۔

Your Thoughts and Comments