Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallamki Bud Dua

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددُعا

ہباربن اسود بیان کرتے ہیں کہ ”ابو لہب اور اس کا بیٹا عتیبہ تجارت کے لیے ملک ِشام کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا ۔سفر پر جانے سے پہلے عتیبہ نے کہا :

rasool allah sallallahu alaihi wasallamki bud dua

علامہ محمد ولید الاعظمی

ہباربن اسود بیان کرتے ہیں کہ ”ابو لہب اور اس کا بیٹا عتیبہ تجارت کے لیے ملک ِشام کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا ۔سفر پر جانے سے پہلے عتیبہ نے کہا :
”خدا کی قسم ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس جاؤں گا اور اس کے رب کے بارے میں اس کے جو عقائد ہیں انکی وجہ سے اسے ضروراذیب پہنچا کررہوں گا۔


چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا :
”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )!میں اس کا انکار کرتا ہوں جس کے بارے میں تم کہتے ہو :
”پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اُتر آیا ۔تو اس جلوے اوراس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم ۔“
ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کی اس گستاخی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالیٰ کی بار گاہ میں عرض کیا:
”اے اللہ! اس(ابو لہب کے بیٹے عتیبہ)پر اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو مسلط فرما۔


عتیبہ اپنے خیال میں بڑا کارنامہ سر انجام دے کر اپنے باپ ابو لہب کے پاس آیا تو ابو لہب نے پوچھا:
”پیارے بیٹے ! تو نے اس (رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )سے کیا کہا ؟“
عتیبہ ابن ابولہب نے بتایا کہ میں نے ایسے اور ایسے ،یہ اور یہ کہا۔
اس نے پوچھا:
”اس کے جواب میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے کیا کہا ؟“
عتیبہ ابن ابولہب نے بتایا کہ انہوں نے بددعا کی اور ایسے ایسے کہا ۔

یہ سنتے ہی ابو لہب کا رنگ اُڑ گیا اور اس نے کہا :
”اے بیٹے ! خداکی قسم ! بیشک میں تم کو اس شخص (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )کی بددُعا سے میں تمہیں محفوظ نہیں سمجھتا ۔(یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بد دعا ضرور پوری ہو گی ۔)“
ہباربن اسود مزید بیان کرتے ہیں کہ ہم ملک ِشام کی طرف روانہ ہو گئے ۔ہم نے کچھ سفر کرنے کے بعد ابراہ کے مقام پر قیام کیا ۔
وہاں ایک گرجا گھر تھا ہم گرجا گھر میں ہی ٹھہرے۔
گرجا گھر کے پادری نے کہا:
”اے عرب کے رہنے والو ! تم یہاں کیوں ٹھہرتے ہو ؟یہ تو بڑی خطر ناک جگہ ہے ۔یہاں پر شیر ایسے گھومتے پھرتے ہیں جیسے عام علاقوں میں بکریاں!“
یہ سن کر ابو لہب کے ہوش اُڑگئے اور اس نے ہم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :
”تم جانتے ہو کہ میں بوڑھا ہوں ۔میرے مقام ومرتبہ سے بھی تم واقف ہو اور میرے جو تم پر احسان ہیں تم ان سے بھی بے خبر نہیں ہو ۔
اس شخص (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )نے میرے اس بیٹے(عتیبہ )کے بارے میں بد دُعا کی ہے جس کی وجہ سے میں فکر مند ہوں ۔پس تم سارا سامان اس گرجا گھر کے صحن میں جمع کردو ! اس کے اُوپر میرے بیٹے کا بستر لگا دو! پھر اس سامان کے گرد تم سب جمع ہو کرسو جاؤ!“
ہبار بن اسود کہتے ہیں کہ ”ہم نے ایسا ہی کیا ۔رات کے وقت جب ہم سو گئے تو جنگل سے شیر آیا ۔
اس نے ہم سب کے چہروں کو سونگھنا شروع کیا ،مگر کسی کو کچھ نہ کہا ۔وہ اپنے شکار (عتیبہ بن ابولہب )کی تلاش میں تھا۔اس نے پیچھے جا کر دوڑ لگائیں اور زور دار چھلانگ لگا کر سامان کے بلند ڈھیر پر چڑھ گیا۔اس نے عتیبہ کے چہرے کو سونگھااور اسے چیر پھاڑ کر دیا۔پھر اس کا سر کھول دیا۔ عتیبہ کے باپ ابو لہب کا برا حال تھا اور وہ کہہ رہا تھا :
”میں جانتا تھا کہ میرا بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کی بد دعاسے کبھی نہیں بچ سکتا۔

فائدہ ازمتر جم :
”پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اترآیا۔تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم ۔“
راقم مناسب سمجھتا ہے کہ ان آیاتِ کریمہ کی مناسب تشریح وتوضیح بیان کردے ۔
چنانچہ آیات کریمہ میں فرمایاگیا ہے کہ ”پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اُتر آیا ۔تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم ۔
“ان آیات سے کیا مراد ہے ؟اس کے متعلق علامہ مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی مایہ ناز اور مشہور ومعروف تفسیر ”خزائن العرفان فی تفسیر القرآن “میں ان آیاتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں :
”پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اُتر آیا۔“
اللہ تعالیٰ کے اس (قول)کے معنیٰ میں مفسرین کے کئی قول ہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ (اس آیتِ کریمہ میں )حضرت جبرائیل علیہ السلام کا سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہونا مراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھا دینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب حاضر ہوئے۔
دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرتِ حق جل جلالہ کے قرب سے مشرف ہوئے ۔تیسرے (معنیٰ)یہ (ہیں )کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قرب سے نوازا اور یہی صحیح تر ہے ۔
”تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم ۔“
اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے اس (فرمان )میں بھی چند قول ہیں ۔
ایک تو یہ کہ نزدیک ہونے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عروج ووصول مراد ہے اور اتر آنے سے نزول ورجوع ۔تو حاصل معنیٰ یہ (ہوا )کہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم )حق تعالیٰ کے قرب میں بار یاب ہوئے ،پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کرخلق کی طرف متوجہ ہوئے ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت ربُ العزت اپنے لطف ورحمت کے ساتھ اپنے حبیب سے قریب ہوا اور اس قرب میں زیادتی فرمائی۔

تیسر ا قول یہ ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقربِ درگاہِ ربوبیت ہو کر سجدئہ اطاعت ادا کیا (روح البیان )بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ قریب ہوا جبار رب العزت ۔
یہاں پر مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے متعدد قول ذکر فرمادئیے۔معلوم ہوا کہ ان آیات سے اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا اپنے لطف ورحمت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اور پھر قریب تر ہونا مراد ہے ۔

Your Thoughts and Comments