Safar Mairaaj Par Namaz Ka Tohfa

سفر معراج پر نماز کا تحفہ

للہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ؐکو اپنی نشانیا ں دکھانے کیلئے معراج کا سفر کرایا ۔اس سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑکو ان کی درخواست پر اللہ نے اپنی نشانیاں ان کو دکھائی تھیں

safar mairaaj par namaz ka tohfa

بابو عمران قریشی
سورۂ بنی اسرائیل کی ابتدائی آیت کریمہ سے صاف عیاں ہے کہ اس میں کسی غیر معمولی بات اور اہم واقعے کا ذکر ہو نے والا ہے۔ترجمہ:۔"وہ ذات پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصٰی تک جس کے گرداگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تا کہ ہم اُسے اپنی قدرت کی نشانیا ں دکھائیں ۔بے شک وہ سننے والا (اور )دیکھنے والا ہے۔

(سورۂ بنی اسرائیل )۔اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ؐکو اپنی نشانیا ں دکھانے کیلئے معراج کا سفر کرایا ۔اس سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑکو ان کی درخواست پر اللہ نے اپنی نشانیاں ان کو دکھائی تھیں ۔حضرت خلیل ؑاللہ نے عرض کیا ۔اے اللہ!مجھے یقین ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ جی اُٹھیں گے مگر اپنے دل کے اطمینان کیلئے میں نشانی دیکھنا چاہتا ہو ں ۔

اللہ کے حکم سے اُنہوں نے چار پرندو ں کو ذبح کیا ۔ان کی بوٹیاںبناکر چار پہا ڑوں کی چوٹیوں پر رکھ دیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی دکھائی ان بو ٹیوں اور پروں نے جمع ہو کر پھر پرندوں کی شکل اختیار کرلی فضا میں پرواز کر گئے۔حضرت موسٰی ؑ کیلئے یہ معراج تھی کہ اُنہیں کوہ طور پر بلا کر دس احکامات دئیے گئے ۔حضرت موسٰی ؑکی معراج یہ تھی کہ اُنہوں نے ساری رات پہاڑی پر گزارکر پہاڑی کا خطبہ دیا تھا ۔
نبی آخرالزمان ؐ کی معراج یہ ہے کہ آپؐ کو اللہ نے اپنے پاس بلا یا۔اپنی نشانیاں دکھائیں اور پنج گانہ نمازکا تحفہ عنایت فرمایا ۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ معراج طائف کے سفر سے واپسی کے بعد کسی وقت ہوئی تھی اور ابن حزم کا یہی بیان ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔مؤرخین اور سیرت نگاروں کی اکثریت کا رجحان زیادہ تر ماہ رجب کی ستائیسو یں رات اور نبوت کے بارہویں سال کی جانب ہے ۔
اوراس پر اتفاق ہے کہ معراج کا واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل ہوا تھا ۔اسراء اور معراج قرآن اور حدیث کی روشنی میں :۔عظیم ہستی کے عظیم سفر کے دو حصے ہیں۔ایک زمینی سفر جسے اسراء اور دوسرا آسمانی سفر جسے معراج کہتے ہیں۔یعنی حضورؐ کا رات کے ایک حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر اسراء جبکہ بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک عروج کرنا معراج کہلاتا ہے۔
قرآن کریم فرقان حمید میں تین مقامات پر معراج کا ذکر آیا ہے۔سورئہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر(1) اور آیت نمبر( 60اور سورئہ نجم کی ابتدائی آیات میںمعراج کی غرض و غایت بیان ہوتی ہے۔

معراج کے واقعہ کو 22 صحابہ کرامؓ نے بیان فرمایا ہے جس میں سے سات راوی وہ ہیںجو اس واقعہ کے وقت مسلمان تھے اور یہ واقعہ حضورؐ کی زبان مبارک سے خود سُن کر بیان کیا ہے۔
واقعہ معراج کا تحفہ پانچ فرض نمازوں کی صورت میں عطا ہوا۔جن کا ثواب 50فرض نمازوں کے برابر ہوگا۔واپسی کے سفر میں مکہ تشریف لاتے ہو ئے آپؐ کا مختلف قافلوں کے اوپر سے گزر ہوا ۔مقام ذی طویٰ میں حضور پاکؐ نے رفیق سفر حضرت جبرائیل ؑ سے پو چھا کیا قریش میرے معراج کے سفر کی تصدیق کرینگے ؟۔انہوںنے جواب دیا ۔"ابو قحافہ کے فرزند حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپؐ کی تصدیق کرینگے۔
بلاشبہ اس مبارک واقعہ کی تصدیق کیلئے فکر ونظر کا سرمایہ ابوبکر صدیقؓ جیسی بالغ نظر شخصیت ہی کی ضرورت تھی ۔صبح کے وقت اس واقعہ کی خبر سنتے ہی ابو جہل کو تکذیب کا ایک شوشہ ہا تھ لگا ۔چنانچہ کفار کو لے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس پہنچا اور کہا کہ بیت المقدس کے سفر کیلئے آنے جانے میں دو ماہ کا عرصہ درکار ہو تا ہے اور یہ کیو نکر ممکن ہو سکتا ہے کہ حضور پاکؐ راتوں رات یہ سفر طے کرکے واپس بھی پہنچ گئے۔
تمام ماجرا سننے کے بعد آپ نے کہا کہ اگر یہ بات حضورپاک ؐنے فرمائی ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ یہ سچ ہے اسکے بعد حرم میں حضورؐ بیت المقدس کے بارے میں لوگوں کے سوالو ں کے جواب دیتے جاتے اور اقلیم عشق کے تاجدار ،پیکر صدق ویقین حضرت ابو بکرصدیقؓ ایک ایک کرکے دانشورانِ کفر کو محو تماشا کرتے جاتے تھے اسی موقع پر حضورپاکؐ نے آپ کو صدیق اکبر ؓ کا لقب عطا فرمایا تھا ۔دراصل حضورؐ کے زمینی اور آسمانی سفر کو صدیق اکبر ؓ نے والہا نہ جذبہ یقین سے تصدیق کرکے معتبر کردیا تھا۔

Your Thoughts and Comments