Sayeda Zainab Bint Ali

سیدہ زینب بنت علی

رسول خداؐ کی نواسی جناب زینب بنت علی ؓ نے دربار یزید میں جو جرأت مندانہ خطبات ارشاد فرمائے وہ تاقیامت ایک مثال ہیں،انہو ں دین محمدی ؐ کی ترجمان اور قیام حسینیؓ کی مبلغ بن کر اپنی ذمہ داریاں ایسے سر انجام دیں کہ پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی کوکہنا پڑا

Sayeda zainab Bint Ali

آغا سید حا مد علی شاہ موسوی
رسول خداؐ کی نواسی جناب زینب بنت علی ؓ نے دربار یزید میں جو جرأت مندانہ خطبات ارشاد فرمائے وہ تاقیامت ایک مثال ہیں،انہو ں دین محمدی ؐ کی ترجمان اور قیام حسینیؓ کی مبلغ بن کر اپنی ذمہ داریاں ایسے سر انجام دیں کہ پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی کوکہنا پڑا
وہ خُطبہ زینب کہ علی بول رہے تھے ہر لفظ پہ فق تھا، بھرے دربار کا چہرا
’’یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہوگا۔

خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے۔


اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔

تو یہ خیال بھی اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو سکتا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔ تیری حیات اقتدار میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کیلئے حسرت و پریشانی کے سواء کچھ بھی نہیں جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کیلئے خدا کی لعنت ہے۔
‘‘
بلا شبہ یہ جرأت اور دلیری والا خطبہ فاتح خیبر کی بیٹی ہی دے سکتی تھیں۔آج بھی تاریخ طبقہ نسواں میں سیدہ زینب بنت علیؓ جیسے عظیم کردار کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔جاہ و جلال کا مالک حکمران اپنے ناپاک عزائم کے خلاف اٹھنے والی نواسہ رسول امام حسینؓ کی آواز کو بظاہر خاموش کرکے یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اب اسے اسلامی نظریات و مصطفوی ؐتعلیمات میں بگاڑ اور تخریب سے کوئی نہیں روک سکتا ۔
لیکن زینبی تحریک نے نہ صرف حسینی تحریک کو زندہ و جاوید رکھا بلکہ یزید کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ جناب زینبؓ کا عزم حوصلہ استقامت رہتی دنیا تک یادگاراور ضرب المثل رہے گی آپ کی عظمت کا حکیم الامت علامہ اقبال ؒنے یوں اعتراف کیا
حدیث عشق دو باب است،کربلا و دمشق
یکے حسینؓ رقم کرد و دیگرے زینبؓ
نواسی رسو ل ؐ سیدہ زینبؓ از نظر کمال زہد و تقویٰ ،علم و آگہی ،صبر و برداشت بلکہ تمام فضائل حسنہ کے اعتبار سے عالم نسواں کیلئے نمونہ حسنہ ہیں ۔
آج چودہ صدیاں بیت چلی ہیں جہاں بھی ایثار ،قربانی ،حلم و بردباری ،استقامت و استقلال اور دلیر ی و شجاعت کا تذکرہ ہوتا ہے وہ اس بطلہ جلیلہ کی حیاتِ طیبہ کو دہرائے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
حضرت زینب بنت علیؓ 5 جمادی الاول یا بعض روایات میں یکم شعبان 5یا 6ھ کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد گرامی شیرخدا حضرت علی ابن ابی طا لب ؓاور مادر گرامی خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرؓ ہیں۔
ان کے مشہور القاب ثانیِ زہرا،شریکۃ الحسین، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃالزھراء ، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، راضیہ بالقدر والقضاء
پیدائش کے وقت رسالت مآب ؐ سفر میں تھے اور حضرت زہراؓ نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طا لبؓ سے درخواست کی کہ بچی کا نام تجویز فرمائیے ،علیؓ نے فرمایا کہ کبھی ایسا ہوا کہ میں نے رسو ل ؐ سے سبقت کی ہو ،پیغمبرؐ کا انتظار ہونے لگا ۔
رسول خداؐ ؐ کا ہمیشہ سے یہ معمول تھا کہ جب بھی کہیں جاتے تو اپنی بیٹی فاطمہؓ کے دروازے پر سلام کرکے رخصت ہوتے اور جب بھی کہیں سے واپس ہوتے تو سب سے پہلے خاتون جنت کے دروازے پر آکر بآوازبلند سلام کرتے اور بیٹی سے ملاقات کے بعد کہیں اور جاتے تھے۔نواسی کی ولادت کے بعدجیسے ہی سفر سے پلٹے سب سے پہلے فاطمہ سلام اللہ کے گھر میں داخل ہوئے اہل خانہ کو سلام اور نو مولود کی مبارک باد پیش کی ، رسولؐ کو دیکھ کر سب تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے اور حضرت علی ؑ نے بیٹی کو ماں کی آغوش سے لے کر نانا کی آغوش میں دے دیا۔

آنحضرت نے فرمایا فاطمہ ؐ کی اولاد میری اولاد ہے لیکن ان کے بارے میں اللہ فیصلہ کرتا ہے چنانچہ جبرائیل امین نازل ہوئے اور عرض گزار ہوئے کہ اللہ نے درود و سلام بھیجا ہے اور فرمایاہے کہ دختر کا نام زینب رکھ دیجیئے ۔میں نے لوح محفوظ میں یہی نام رقم کررکھا ہے اس وقت رسول ؐ نے حضرت زنیبؓ کو آغوش میں لیا ،بوسہ دیا اور فرمایا میری وصیت ہے سب اس بیٹی کا احترام کریں کیونکہ یہ خدیجۃ الکبریٰ کی مانند ہے (ریاحین الشریعہ )۔

جس طرح دین و شریعت کے تحفظ و عروج اور پیمبر اسلامؐ کی حفاظت،پاسداری اور معاونت کیلئے ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؑ کی کوششیں بے مثال و لازوال تھیں اسی طرح آپکی نواسی کا صبر واستقامت،راہِ خدا میں جذبہ ایثار و فداکاری اور بقائے دین و شریعت کیلئے عظیم ترین قربانی کائنات کیلئے مثال رہے گی۔ جناب زینبؓجہاں خانوادہ اہل بیت کی عظیم ترین فرد تھیں وہیں انہیں صحابیہ نبی ؐ کا شرف بھی حاصل تھا ۔
ثانی زہرا ؐ نے نورِ پیغمبر ؐکی تابش سے فیض حاصل کیا ۔آپ نے آغوشِ نبوت و ولایت و عصمت میں پرورش پائی ،علم و عرفان کے سرچشموں سے سیراب ہوئیں اور صبر و استقامت و شجاعت کا درس حاصل کیا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ثانی ز ہراؓ نے برداشت و پائیداری کو روشن کردیا تاکہ راہِ مستقیم پر چلنے والے انسانوں کیلئے تاابدالآباد نمونہ عمل بن جائیں۔
گویا حضرت زینبؓنے آنے والے حوادثات و سانحات کیلئے عہد طفلی میں ہی اپنے آپ کو تیار کرلیا۔
پھر وہ وقت آہی گیا جب رسول کے پیارے نواسے امام حسین ؑ ؑ روزعاشورہ اپنے 72جانثاروں کے ساتھ دین و شریعت کی پاسداری ، حرمتِ انسانی کی پاسبانی اور دین الہی کی ترجمانی کیلئے وہ عظیم قربانی پیش کرتے ہیں جسے فدیناہ بذبح عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔
عاشورہ کربلا کے بعد تحریک زینبیؑ کا آغاز ہوتا ہے۔اب زینبؓ اس کاروان کی سید و سردار ہیں جس کے سید و سردار مدینہ سے کربلا تک امام حسینؓ تھے۔حسین کے کاروان میں اکبر و عباس ،عون و محمد و قاسم اور حبیب ابن مظاہر زہیر ابن قین جیسے جانثار تھے لیکن زینبی کارواںمیںبیمار بھتیجا سید سجا دؓبے یار و مددگار خواتین اور کم سن بچے تھے۔ گیارہ محرم61ہجری کو یزیدی لشکراس کاروان کو اسیر کرکے کوفہ و شام کی جانب چلا ۔
کوفہ و شام کے بازاروں اور ابن زیاد و یزید کے درباروں میں بنتِ حیدرکرا ر کے خطبات ،بیانات و تقریرات شاہد وگواہ ہیں جنہوں نے یزیدیت اور اس کے ہمنوائوں کے چہروں پر پڑے ہوئے اسلام کے مصنوعی نقاب کو اتار پھینکا اور ظلم و جبرو اسلام شکنی کی بنیادوں پر ایستادہ قصر ہائے یزیدیت میں زلزلہ برپا کردیا۔
دانش کدہ ادبیات قاہرہ کی مشہور و معروف ادیبہ ڈاکٹر عائشہ بنت شاطی بعنوان ’’ انعکاس دائمی صدائے زینبؓ‘‘ رقم کرتی ہیں ’’ شہادت حسینؓ بعد جناب زینبؓ نے اپنے ہیجان آفرین اور موثر ترین خطاب میں کوفہ والوں کے افعال و کردار کو واضح کردیا اور انہیں سمجھا دیا کہ وہ لوگ کتنے بڑے خطا کار ہیں اور انہوں نے کتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے‘‘۔
آگے جا کر پھر لکھتی ہیں ’’عقیلہ بنی ہاشم نے اپنی ذمہ داری کو اس طرح واضح طور پر پورا کیا کہ قیام قیامت تک سانحہ فاجعہ کربلا کو جاوداں کردیا۔

Your Thoughts and Comments