Syeda FATIMA RA Ki Shaadi

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی

سیدہ فاطمہ بنت محمد جنھیں فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ رسول اللہ اور سید خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعث کے پانچوں سال مکہ مکرمہ میں ہوئی۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی شادی حضرت علی ابن ایوب طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی

Syeda FATIMA RA Ki Shaadi
سیدہ فاطمہ بنت محمد جنھیں فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ رسول اللہ اور سید خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعث کے پانچوں سال مکہ مکرمہ میں ہوئی۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی شادی حضرت علی ابن ایوب طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی ۔
بعض روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے علی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا )کی شادی تم سے کر دوں۔حضرت علی رضیاللہ تعالیٰ عنہ نے اقرار کر لیا چنانچہ شادی ہو گئی ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی یکم ذی الحجہ 2 ہجری کو انجام پائی۔

شادی کے اخراجات کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہ 500 درہم میں بیچ دی۔زرہ کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ کے حوالے کردی جوسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہرقرارپایا جبکہ بعض دیگر روایات میں مہر 480 درہم تھا ۔ جہیز کے لیے رسول اللہ نے حضرت مقدادا بن سودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رقم دے کر اشیا ء خریدنے کے لیے بھیجا۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ساتھ گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے چیزیں لاکر رسول اللہ کے سامنے رکھیں۔اس وقت حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی موجود تھیں۔مختلف روایات میں جہیز کی فہرست میں ایک قمیص ایک مقنع (یاخماریعنی آسرڈھانکنے کے لیے کپڑا) ایک سیاہ کمبل کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر موٹے ٹاٹ کے دوفرش چار چھوٹے تکیے ہاتھ کی چکی ‘ کپڑے دھونے کے لیے تانبے کا ایک برتن، چمڑے کی مشک ، پانی پینے کے لیے لکڑی کا ایک برتن (باویہ) کھجور کے پتوں کا ایک برتن جس پر مٹی پھیر دیتے ہیں، دو مٹی کے آبخورے مٹی کی صراحی زمین پر بچھانے کا ایک چمڑا ایک سفید چادر ایک لوٹا شامل تھے۔
یہ مختصر جہیز دیکھ کر رسول اللہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اورآپ نے دعا کی اے اللہ ان پر برکت نازل فرما جن کے اچھے سے اچھے برتن مٹی کے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سید ہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دوبیٹوں اور دوبیٹیوں سے نوازا دو بیٹے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بیٹیاں زینب بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا وام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عناہ ہیں۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دونوں بیٹوں کو رسول اللہاپنے بیٹے کہتے تھے اور بہت پیار کر تے تھے۔رسول اللہ کا فرمان عالیشان ہے کہ حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ان کے نام بھی رسول اللہ نے خود رکھے تھے۔حضرت خدیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہواور یہ خوشخبری دی کہ فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ”فاطمہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔حضرت عبداللہ بن رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میری جان کا حصہ ہے۔اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات اپنے والد رسول اللہ کے دنیائے فانی سے رحلت فرمانے کے چند ماہ بعد632 میں ہوئی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوزہراسیدہ النساء العالمین (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار) اور بتول جیسے القابات سے پکاراجاتا تھا۔

Your Thoughts and Comments