Taif K Wafd Ki Madina Main Amaad

طائف کے وفد کی مدینہ میں آمد

جب یہ لوگ وادی قنات سے گزر کر مدینہ منورہ کے نزدیک پہنچے تو ان کی ملاقات مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن شعبہ سے ہوئی جو اپنی باری میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اونٹ چرارہے تھے

منگل جولائی

Taif K Wafd Ki Madina Main Amaad

محمد عبداللہ مدنی
جب یہ لوگ وادی قنات سے گزر کر مدینہ منورہ کے نزدیک پہنچے تو ان کی ملاقات مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن شعبہ سے ہوئی جو اپنی باری میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اونٹ چرارہے تھے وہ اپنے اونٹ ان کے پاس چھوڑ کر مدینہ کی طرف دوڑے تاکہ ان کی آمد کی خوشخبری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائیں راستہ میں اُن کو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے تو انہوں نے بتایا کہ ثقیف کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے اور اپنے ملک،اپنی قوم اور ان کے مال واسباب کے تحفظ کے لیے کچھ شرائط لکھوانے کے لیے آیا ہے ۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے”خدا کے لیے جلدی نہ کریں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچانے کا مجھے موقعہ دیں مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مان گئے،چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے کی خبر پہنچائی۔


پھر مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وا پس آگئے۔ان کے ساتھ اپنے اونٹ مدینہ منورہ واپس لائے اور راستہ میں ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام کرنے کا طریقہ بتایا مگر انہوں نے جاہلیت کے طریقہ کے مطابق ہی سلام عرض کیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رہنے کے لیے مسجد کے ایک کونے میں خیمہ لگوا دیا۔صلح کا عہد نامہ لکھوانے تک خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سعیدبن عاص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان سفارت کا فریضہ انجام دیا اور معاہدہ طے پانے کے بعد انہوں نے ہی یہ عہد نامہ اپنے ہاتھ سے لکھا۔اپنے اسلام لانے اور معاہدہ تحریر ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے آیا ہوا کھانا یہ لوگ اس وقت تک نہیں کھاتے تھے،جب تک خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سعید نہیں کھاتے تھے۔

انہوں نے شرط پیش کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بت”لات“تین سال تک نہ توڑیں ،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ شرط تسلیم نہیں کی پھر ایک ایک سال کم کرتے کرتے انہوں نے ایک مہینہ تک کی مہلت مانگی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا کوئی بت باقی نہیں رہنے دیا جائے گا۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس شرط سے اپنے بیوی بچوں اور بے وقوفوں کی ہنگامہ آرائی سے بچنا چاہتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ اسلام پختہ ہونے سے پہلے اپنی قوم کو اس کی شکست وریخت کے صدمہ سے دوچار کریں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سختی سے انکار کیا اور ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حرب اور مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن شعبہ کو بھیجا کہ اس کو توڑ کر پیو ند خاک کردیں۔

انہوں نے بت”لات“نہ توڑنے کے ساتھ یہ شرط بھی پیش کی تھی کہ ان کو نماز پڑھنے سے معاف رکھاجائے اور ان کو اپنے ہاتھوں سے بت توڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”تمہارا اپنے ہاتھوں سے بت نہ توڑنے کا مطالبہ تو پورا ہو سکتا ہے ۔ہم دوسرے لوگوں سے تڑوادیں گے‘لیکن نماز سے معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
کیونکہ جس دین میں نماز نہیں ،اس دین میں کوئی خوبی نہیں“۔اس پر وہ بولے”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اگر چہ یہ دنات ہے‘مگر ہم اسے قبول کرتے ہیں“
جب وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور عہد نامہ لکھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن ابی العاص کو ان پر امیر مقرر کیا۔یہ ان سب سے نو عمر تھے،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین کی طرف راغب اور علم دین دیکھنے کی طرف مائل پایا تھا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کہا تھا”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے ان سب سے اس کو علم دین اور قرآن حاصل کرنے کا زیادہ شوقین دیکھا ہے“۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں :مجھے عیسیٰ بن عبد اللہ ثقفی نے بتایا ہے کہ اس وفد میں شریک ایک آدمی کہتا تھاکہ حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان۔
کے روزے رکھے۔ہمارے لیے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے سحری اور افطاری کا کھانا لاتے۔وہ سحری کا کھانا لاتے ،تو ہم بسا اوقات کہتے”اب تو صبح صادق ہو چکی ہے اور کھانے کا وقت نہیں رہا“وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھاتے چھوڑ کر آیا ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سحری آخروقت میں تناول فرمایا کرتے ہیں “اسی طرح وہ افطاری لاتے تو ہم کہتے ”ابھی تک تو سورج پوری طرح غروب نہیں ہوا“وہ کہتے ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے افطار کرنے کے بعد کھانا لایا ہوں“پھر وہ پیالے سے کھانا شروع کر دیتے ،اور ہم بھی روزہ افطار کر دیتے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں:عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی العاص کہا کرتے تھے ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے قبیلے ثقیف پر امیر مقرر کر کے بھیجا تو آخر میں مجھے وصیت فرمائی کہ”عثمان !نماز میں تحفیف ملحوظ رکھنا،نماز پڑھاتے وقت کمزورلوگوں کا خیال رکھنا کیونکہ ان میں بوڑھے بچے،کمزور اور حاجت مندسب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔“

Your Thoughts and Comments