Umra Ada Karnay Ka Tareeqa

عمرہ اداکرنے کا طریقہ

عمرہ میں گزشتہ کام یعنی بیت اللہ کا طواف‘مقام ابراہیم پردورکعتیں‘آب زم زم کا پینا اور حجراسود کا دوبارہ استلام کرنے کے بعد دو کام مزید کرنے ہوتے ہیں‘ایک صفاومروہ کی سعی اور دوسرا کام حجامت بنوایا۔دونوں کاموں کی تفصیل اور طریقہ ملاحظہ ہو:

umra ada karnay ka tareeqa

مُبشّر احمد رَبّاَنی
عمرہ میں گزشتہ کام یعنی بیت اللہ کا طواف‘مقام ابراہیم پردورکعتیں‘آب زم زم کا پینا اور حجراسود کا دوبارہ استلام کرنے کے بعد دو کام مزید کرنے ہوتے ہیں‘ایک صفاومروہ کی سعی اور دوسرا کام حجامت بنوایا۔دونوں کاموں کی تفصیل اور طریقہ ملاحظہ ہو:
صفاومروہ کی سعی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق آپ ”باب الصفا“کے راستے مسجد حرام سے نکلیں ‘بایاں پاؤں باہر رکھیں اور مسجد سے نکلنے کی دُعا پڑھیں:
جب صفا پہاڑی کے قریب ہوں تو آیت تلاوت کرتے ہوئے جس قدر ممکن ہو پہاڑی پر چڑھ جائیں حتیٰ کہ بیت اللہ نظر آجائے ۔

پھر بیت اللہ کی طرف منہ کرکے”اللہ اکبر“کہیں ۔پھر یہ کلمات پڑھیں:
پھر ہاتھ اُٹھا کر دُعا کریں ۔

یہ عمل تین مرتبہ کریں۔
جب وادی(سبز نشانوں کے درمیان)میں پہنچیں تو ہلکی ہلکی دوڑ لگائیں ۔وادی ختم ہو جائے تو حسب معمول چلیں تاکہ مروہ پر پہنچ جائیں ۔پھر مروہ پر وہی عمل دہرائیں جو صفا پر کیا تھا۔اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتواں چکر مروہ پر آکر ختم کیا۔

(مسلم 396/1)
صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر شمار ہوتا ہے ۔پھر واپس صفا پر آنے سے دوسرا چکر ہو گا۔
ساتویں چکر میں جب مروہ پر پہنچ جائیں تو اب تکبیر وذکر اور دُعا کا عمل نہ دہرائیں ۔سعی مکمل ہو چکی ہے۔
مردوں کی طرح خواتین بھی سزب نشانوں کے درمیان ہلکی دوڑلگائیں کیونکہ یہاں دوڑنے کا اصل سبب عورت سیّدہ ہاجرہ ہے ۔کتاب اللہ اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں عورت کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔

حائضہ اور نفاس والی عورت صفاومروہ کی سعی کر سکتی ہے جیسا کہ اس مضمون کے آخر میں سیّدہ عائشہ اور سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ۔(مسلم385/1)
طوافِ قدوم کے بعد جو سعی ہو گی ‘وہ تمتع کرنے والے کے لیے صرف عمرہ کی ہوگی ‘حج کی نہ ہوگی ۔اس کے حج کی سعی طواف زیارت کے ساتھ ہو گی ۔حج افراد کرنے والے کے لیے حج کی ہوگی ۔حج قران کرنے والے کے لئے عمرہ اور حج دونوں کی ہوگی۔
یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ حج قران کیا تھا۔اس لیے سعی ایک بار کی تھی۔
حجامت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کرنے والوں کو سعی کے بعد حجامت بنوانے کا حکم دیا تھا تاکہ یہ لوگ عمرہ مکمل کرکے احرام کھو ل دیں ۔اس طرح صرف عمرہ کرنے والے حضرات بھی حجامت بنوا کر اپنا عمرہ مکمل کریں گے اور احرام کھول دیں گے۔

حج قران کرنے والے یا صرف حج کرنے والے اگر سعی پہلے کرلیں تو صفا اور مروہ کی سعی کے بعد نہ حجامت بنوائیں گے اور نہ ہی احرام کھولیں گے ۔یہ دونوں کام دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور قربانی کرنے کے بعد ہوں گے۔
بالوں کو منڈوانا‘کتروانے سے افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کترانے والوں کے لیے ایک بار جب کہ منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعاءِ رحمت فرمائی ہے۔(مسلم420/1)
سُنّت کے مطابق پہلے دائیں جانب پھر بائیں جانب منڈوائیں یا کتروائیں۔(مسلم421/1)
عورتیں سر کے بال کٹوائیں ،انہیں منڈوانے کا حکم نہیں۔(ابوداؤد150/2)

Your Thoughts and Comments