Yar E Gar

یارغار

مکہ معظمہ میں جب مسلمانوں کو کفار کی طرف سے بہت ایذادی جانے لگی تو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ معظمہ ہجرت کرجانے کا اذن دے دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا ذکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔

جمعرات جولائی

Yar e Gar
مکہ معظمہ میں جب مسلمانوں کو کفار کی طرف سے بہت ایذادی جانے لگی تو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ معظمہ ہجرت کرجانے کا اذن دے دیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا ذکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔اور فرمایاکہ میں عنقریب یہاں سے ہجرت کرجاؤں گا۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی چلوں گا۔

چنانچہ شب ہجرت جب کفار مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کر دینے کی نیت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورةیسٰین کی تلاوت فرماتے ہوئے اس محاصرہ سے سب کے سامنے گھر سے باہر تشریف لے آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باہر نکلنا کسی کو بھی نظر نہ آسکا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکل کر سیدھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا اے ابو بکر!مجھے ابھی اسی وقت ہجرت فرمانے کا اذن مل چکا ہے اور میں مکہ چھوڑ کر جارہا ہوں۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں۔میں بھی ساتھ چلوں؟فرمایا چلو۔صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معیت کی اجازت پا کر فرط مسرت سے رونے لگے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر مکہ معظمہ سے چل دےئے۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کبھی حضور کے آگے اور کبھی پیچھے رہ کر چلتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وجہ دریافت کی تو عرض کیا یا رسول اللہ!میں چاہتا ہوں کہ دشمن تعاقب کرتا ہوا آگے یا پیچھے سے آجائے تو اس کا وار مجھ ہی پرہو۔اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر میں ہی قربان ہو جاؤں۔قریش مکہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی گزندنہ پہنچے۔
چلتے چلتے ثور پہاڑ پر پہنچے۔اس پہاڑ میں ایک غار تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غار میں تشریف فرما ہونے کا قصد فرمایا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!ٹھہر جائیے پہلے مجھے اندر جانے دیجیے۔پرانا غار ہے پہلے میں اندر جاتا ہوں اور اسے صاف کرتا ہوں ۔جب اسے صاف کرلوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر آجائیے گا۔

چنانچہ پہلے اس غار میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ گئے اور اسے صاف کرنے لگے۔اس غار میں کئی بل تھے۔صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان بلوں کو اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر بند کرنے لگے۔اس لئے کہ کوئی موذی جانور حضور کو تکلیف نہ پہنچائے۔اس غار میں ایک بہت بڑا سانپ رہتا تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کابل جو دیکھا تو کپڑا ختم ہوجانے کے باعث کپڑے سے تو اُسے بند نہ کر سکے اور اپنی ایڑی اس میں رکھ دی۔
اپنی جان کی پرواہ نہ کی اور یہی سوچا کہ مجھے جو چاہے تکلیف پہنچے مگرحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔اس بل پر ایڑی رکھنے کے بعد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر بلا لیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے آئے اور اپنا سر انور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھ کر سو گئے ۔
وہ بل جس پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ایڑی تھی اس میں سے زہریلے سانپ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ڈس لیا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو تکلیف تو ہوئی مگر آپ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند مبارک میں خلل نہ آئے۔سانپ کے زہر کی تکلیف سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے آنسو نکل گئے۔
چند آنسو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گرے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا ابوبکر!کیوں رورہے ہو؟صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے سانپ نے ڈس لیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت مقام ڈنگ پر اپنا لعاب دہن لگادیا توصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ساری تکلیف دور ہوگئی۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب اس غار میں داخل ہوئے تو غار سے دور ایک درخت تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس درخت کو حکم دیا تو وہ درخت اپنی جگہ سے چل کر غار کے منہ پر آکر کھڑا ہوگیا۔یوں معلوم ہونے لگا کہ یہ درخت پہلے سے ہی یہیں اُگا ہوا ہے ۔یوں غار کا منہ اس درخت کی شاخوں سے بند ہو گیا۔جبکہ اللہ نے اسی وقت ایک مکڑی کو بھیجا جس نے اس درخت کی شاخوں کے اندر جالا سابن دیا۔
یہ سب سامان اس لئے کیا گیا تاکہ کافر اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعاقب کرتے ہوئے وہاں تک آجائیں تو وہ غار کے منہ کے آگے درخت اور اس کی شاخوں میں جالا بنا ہوا دیکھیں تو انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر تشریف لے جانے کا شبہ بھی نہ گزرے۔ چنانچہ ادھر جب کافروں کو پتہ چلا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں مکہ سے چلے گئے ہیں تو بہت حیران ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے لگے۔
اور کچھ کھوجی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھوج لگانے کیلئے مقرر کر دئیے۔ان کھوج لگانے والوں میں سے ایک شخص کھوج لگاتا ہوا غار تک آپہنچا۔یہاں پہنچ کر کہنے لگا کہ یہاں تک تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں لیکن اس کے بعد پتہ نہیں چل رہا کہ دائیں گئے یا بائیں۔کافر وہاں جمع ہو گئے ہیں لیکن وہیں حیران کے حیران کھڑے رہے ۔
کچھ پتہ نہ چلے کہ یہاں سے آگے کدھر گئے ہیں ۔صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب کافروں کے قدم غار سے باہر دیکھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر میں آپ رضی اللہ عنہ پریشان سے ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر رضی اللہ عنہ!کوئی غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
اتنے میں ان کافروں میں سے ایک بولا اس غار کے اندر تو جا کر دیکھیں۔
یہ سن کر دوسروں نے جواب دیا بے وقوف ہو غار کے منہ کے آگے درخت اُگا ہوا ہے اور اس پرمکڑی کا جالا بھی بنا ہوا ہے اگر اندر کوئی گیا ہوتاتو یہ شاخیں اور ان کا جالا ضرورٹوٹا پھوٹا نظر آتا۔جب یہ بات نظر نہیں آتی تو پھر اس کے اندر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
چنانچہ وہ مایوس ہو کر وہاں سے لوٹ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنے اللہ کی حفاظت میں بالکل خیریت سے رہے۔

Your Thoughts and Comments