Ameer Ul Momineen Syedna Ali Al Mutaza RA

امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ٓآپ کا نام مبارک علی ہے اور لقب اسداللہ،حیدرِ کرار اور مرتضی تھا۔ابوالحسن اور ابو تراب آپ کی کنیت تھے۔ آپ کانسب رسول ﷺ سے بہت قریب ہے۔آپ کے والد ابو طالب رسولﷺ کے چچا تھے۔

Ameer Ul Momineen Syedna Ali Al Mutaza RA
محمد عمر قاسمی:
ٓآپ کا نام مبارک علی ہے اور لقب اسداللہ،حیدرِ کرار اور مرتضی تھا۔ابوالحسن اور ابو تراب آپ کی کنیت تھے۔ آپ کانسب رسول ﷺ سے بہت قریب ہے۔آپ کے والد ابو طالب رسولﷺ کے چچا تھے۔
ٓٓآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کانام فاطمہ بنت اسد بنت ہاشم تھا۔اس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے ہاشمی ہیں۔
رازم بن سعد الضبی سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میانہ قد سے قدرے بڑے، بھاری کندھوں والے اور لمبی داڑھی والے تھے۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دور سے دیکھا جاتا تو کہا جا سکتا تھا کہ گندمی رنگت والے ہیں۔مگر جب قریب سے دیکھا جاتاتو گندمی رنگت کی بجائے سانولی رنگت دکھائی دیتی تھی۔


ٓآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار ایسے نفوس قد سیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے رسولﷺ کواعلان نبوت سے لیکر وصال تک،خلوت وجلوت میں ،سفروحضرمیں،کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔

نبی اکرمﷺکے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو،جسم اطہر کے ایک ایک اندازکواپنے اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بلکہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔جب حضور نبی ﷺ نے ا علان نبوت کیااس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر دس سال تھی اور آپﷺ کے گھر ہی میں رہائش پذیر تھے۔اس لئے وہ ان نیک اور مقدس شخصیات میں شامل ہوگئے جنہوں نے اسلام کو اس کی ابتدائی ساعتوں میں ہی قبول کرلیا تھا۔

حضرت امیر المومنین قبول اسلام کے واقع کو خود اس طرح بیان فرماتے تھے کہ جب رسولﷺ کو اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے قریبی لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا حکم دیاتو نبیﷺ نے خاندان ہاشم کے لوگوں کو کھانے کی دعوت پر جمع کیا۔چنانچہ کھانا لا کر رکھا گیا ۔اور تمام لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھایا۔مگر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کھانے کو کسی نے چھوا تک نہیں پھر آپﷺ نے شربت کا پیالہ منگوایا جس کو تمام لوگوں نے خوب سیر ہوکر پیا۔
مگر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ اسے بھی کسی نہیں چھوا تک نہیں ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! مجھے اللہ تعالی نے تمھاری طرف خصوصی طور پر اور باقی لوگوں کی طرف عمومی طور پر بھیجا ہے۔اور تم نے اس کھانے میں جو نشان دیکھا ہے وہ تو دیکھ ہی لیا ہے۔تم میں سے کون شخص اس امر پر میری بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہو گا ؟حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپﷺکی یہ بات سن کر کوئی شخص بھی آپﷺ کی حمایت کے لئے نہ اٹھا۔
کہتے ہیں کہ میں وہاں موجود تمام لوگوں سے کم عمر تھالیکن اسکے باوجود میں اپنی جگہ سے اٹھامگرآنحضورﷺ نے کہا کہ تم بیٹھ جاؤ۔دوسری مرتبہ ایسا ہی ہوا کہ میں جب بھی اٹھتا تو آنحضورﷺ فرماتے تم بیٹھو ۔پھر جب میں تیسری مرتبہ اٹھا تو رسولﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا(اوربیعت لی)۔
قبول اسلام کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ کے دست وبازو بن گئے۔
مصائب آلام کی ہر گھڑی میں آپﷺ کے ساتھ رہے۔فرماتے ہیں کہ ”جب رسولﷺ ہجرت کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اورمیرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔اسی لئے رسو ل اکرمﷺ”امین“ (امانت دار) کہلاتے تھے۔میں نے نبی اکرمﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔
ایک دن کے لئے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)
اسی طرح غزوہ بدر میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت پہلی مرتبہ لوگوں کے سامنے آئی جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نامور قریشی سردارعقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا۔اور اپنے قومی وخاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہوا تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکی تلوار نے اسکا کام تمام کیا۔
اس دن رسو ل اکرمﷺ کا لواء (جھنڈا) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں تھا ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کر دیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کے وہ غزوہ بدر وخیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے ”علم بردار“ رہے ۔
غزوہ بدر کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسا اعزاز حاصل ہواجس نے انکی عظمت کو چار چاند لگا دیئے۔
یہ اعزاز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی خانہ آبادی کا تھا ۔اور اللہ تعالی نے روز ازل سے انکے لئے مقدر کررکھا تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ کی ازدواجی زندگی گو کہ مختصر تھی مگر امت کے لئے لازوال نمونہ تھی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو صاحبزادے حسن اور حسین اور دو ہی صاحبزادیاں زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ تھیں۔

حضورنبی کریم ﷺ کے وصال کے بعدجب خلافت علی منھاج النبوة قائم ہوگئی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت اور ابھر کر سامنے آئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقیہہ، مجتہد، مفسر قرآن، ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ سو بتیس احادیث روایت کی ہیں۔مسند احمد میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آٹھ سو آٹھارہ احادیث مروی ہیں اور ان روایات مین بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو نبی اکرمﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہے۔چونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لئے آپکی معلومات کو زیادہ صحیح اور بہتر تصور کیا جاتا ہے۔
حضورنبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خودتعریف کی ہے۔ آپکی فقہی مہارت ،اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجہ تھا کہ ایک موقع پر نبی کریمﷺ نے انہیں ”اقضاکم“ (تم میں سے اچھے یا سب سے بڑے قاضی)قرار دیا۔ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔
یہی وجہ تھی کہ خلافت کے شروع دور سے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہم عہدوں پر فائزرہے۔ دورفاروقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھ رکنی شوری کے اہم رکن تھے۔اور خلیفہ وقت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنے بہترین مشوروں کے ساتھ مدد فرمایا کرتے تھے۔
پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد آپکو رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ چنا گیا۔
اور تقریباً چارسال نو ماہ مسند خلافت پر مسند نشیں رہے۔آپکے دور خلافت میں ایک دفعہ دو عورتیں کچھ مالی مدد لینے کے لئے حاضر ہوئیں۔ان میں سے ایک عرب تھی اوردوسری خادمہ اسرائیلی تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کی برابر مدد فرمائی۔ عرب عورت نے اسے اپنے وقار کے خلاف سمجھا کہ اسکی حوصلہ افزائی زیادہ کیوں نہ کی گئی۔اس عورت نے جب اسکا اظہار کیا تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”میں نے قرآن کریم میں غور کیا ہے اس میں مجھے اولاد اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اسحاق علیہ السلام پر کوئی فضیلت نہیں ملی“۔
اب اگر سوچا جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرب ہونے کے ساتھ ساتھ بنو اسماعیل علیہ السلام ہی میں سے تھے۔اورجس عورت نے یہ سوال پیدا کیا اسکا تعلق بھی بنو اسماعیل علیہ السلام سے تھا۔ اس نے ادھر توجہ دلا کر آپکو ایک جاہلی جذبے کی طرف کھینچنا چاہا۔مگر آپکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی راست بازی اور عدل و انصاف کے کیا کہنے ۔ ۔ ۔فوراً اسکی اصلاح کی کہ قرآن ہمیں جاہلی رعائت نہیں دیتا۔
شعوب وقبائل صرف تعارف کے لئے ہیں بڑائی کے لئے نہیں۔اللہ رب العزت کے ہاں زیادہ عزت اسکی ہے جو ایمان و تقوی میں اونچا ہے۔یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ عدل و انصاف اور حسن قضاکی ایک کھلی کتا ب بن کر مثل آفتاب چمک اور دمک رہی ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔
چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپکو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ ” اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ!اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا“۔
چنانچہ تین خارجی مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور ان تینو ں میں باہم تین شخصیات کو قتل کرنے کا معاہدہ ہوا۔
جن میں سے پہلی شخصیت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھی دوسری شخصیت حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور تیسری عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی۔اور یہ بھی طے ہوا کہ تینوں شخصیات کو ایک ہی وقت میں حملہ کر کے قتل کیا جائے گا۔عبدالرحمن ابن ملجم خارجی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کی حامی بھر کر کوفہ کی طرف چل پڑا۔اب کوفہ میں فجر کی نماز کا وقت تھا۔
اور امیرالمومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت کہ نماز کے لئے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔اسی دن ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔بس جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں پہنچے اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا۔جو دماغ تک جا پہنچااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خون سے نہا گئے اورداڑھی مبارک خون سے تر ہو گئی۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھایکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی۔اور میں نے امیر المنین کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے سنا ”قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی“۔اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اورابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔
ابن ملجم کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ اور فرمایا کہ اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیا رہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا۔اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اسکو ایک ضرب مارنا۔
پھر اپنے صاحبزادوں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر وصیت لکھوائی۔
اور کلمہ پڑھتے ہوئے اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔ہمیشہ سے تاریخ دان ”باب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ کو ان” الفاظ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ کے ساتھ ہی ختم کرتا آیا ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو غسل دیتے وقت ارشاد فرماتے ہوئے امت محمدیہ کے لئے ایک پیغام کی صورت میں چھوڑے تھے کہ”اگر آپﷺ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتااور آہ زاری سے نہ روکا ہوتا تو ہم (آج آنسوؤں میں)آنکھوں کا آخری پانی تک بہا دیتے“۔ (نہج البلاغہ۲ص۶۵۲)

Your Thoughts and Comments