Ghazi Ilm Deen Shaheed RA

غازی علم الدین شہیدرحمتہ اللہ علیہ

عشق رسول میں جان قربان کردینے والے وہ گستاخان رسول کے گلے کی پھانس بن گئے

Ghazi Ilm Deen Shaheed RA
محمد ابوبکرصدیق قادری
سرورکونین حضرت محمدﷺ کی مقدس تعلیمات نے پوری دنیاکو روشن کردیا خطرت کے چھپے ہوئے تمام رازبنی نوح انسان پر عیاں کردیئے اور انسان کو معبددکائنات کے احکامات کاحامل بنا کرخدا کانائب بنادیا۔
مطلع ایمان ویقین پرعشاق محمدﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ایک درخشندہ نام غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔
غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کانذرانہ پیش کرکے مسلمانوں کوعشق محمدﷺ کی لازوال تڑپ عطا کرکے انہیں حُب رسول ﷺ کی تقاضوں سے آشنا کردیا۔شوق شہادت کی یہ سبیل آج بھی جاری وساری ہے۔
جس دور میں غازی علم الدین رحمتہ اللہ علیہ نے راجپال کو واصل جہنم کیا تھاوہ دور مسلمانوں کیلئے انتہائی کٹھن تھا ہندو رہنما اور ہندوپریس اسلام اور حضورﷺ کے خلاف ہرزہ سرائیوں میں مصروف تھے۔

آریہ سماجی لیڈر شدہی اور سنگھٹن جیسی تحریکیں چلا کر مسلمانوں کے دلوں میں چرکے لگا رہے تھے۔ان ہرزہ سرائیوں سے اُن کامقصد مسلمانوں کے دلوں عظمت شان مصطفوی ﷺ کی متاع عزیز چھیننا تھاتاکہ مسلمان ایک فعاال اور عظمت اسلام کی ترجمان قوم کی حیثیت سے نہ ابھر سکیں۔
یکم نومبر1927ء کولاہور کے ایک متعصب ہندو کتب فروش راجپال نے نعوذباللہ’رنگیلا رسول‘ کے نام سے رسوائے زمانہ کتاب کا شائع ہوناتھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں آتش غیظ غضب بھڑک اٹھی انہوں نے راجپال پر زوردیاکہ اس کتاب کوتلف کردے مگر راجپال نے سُنی ان سُنی کردی۔
جس پر مسلمانوں کے بڑے بڑے اجتماعات ہوئے۔مسلم رہنما راجپال کو عدالت تک لے آئے ابتدائی عدالتی کارروائی میں راجپال کو6ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزادی گئی مگر جب ملزم کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو متعصب ہندو چیف جسٹس سرشادی لال نے راجپال کورہا کردیا اور فیصلہ کیاکہ ایسی کتاب لکھنا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے مسلمانوں کے جذبات کے الاؤ پرتیل کاکام دیااور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر میں مسلمان،راجپال اور اُس کی کتاب کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔
اس سلسلہ میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ4جولائی1927ء کو درگاہ شاہ محمد غوث کے بالمقابل احاطہ شیخ عبدالرحیم میں منعقد ہوا۔امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے تقریر کرتے ہوئے کہاکہ آج ہم فخر رسل محمد عربیﷺ کے عزت وناموس کوبرقرار رکھنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں آج جنس انسان کوعزت بخشنے والے کی عزت خطرے میں ہے آج اس جلیل المرتبت کاناموس خطرے میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پرتمام موجودات کوناز ہے۔
اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی رحمتہ اللہ علیہ بھی موجودتھے۔اس تقریر نے ساعے شہر میں آگ لگادی۔ لاہور میں بدنام زمانہ کتاب اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جابجاجلسے جماعت شاہ رحمتہ اللہ علیہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ ،مولانا ظفرعلی خان رحمتہ اللہ علیہ ،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے زغماء نے مسلمانوں کے اندر عشق رسول کی لافانی محبت کودوچند کردیا اور برصغیر کے کونے کونے سے گستاخان بارگاہ نبوت ﷺ کے خلاف سخت ترین کارروائی کامطالبہ ہونے لگا۔
اہل ایمان کی آنکھوں میں راجپال کاوجود کاٹنے کی طرح چبھ رہا تھا اوروہ اسے مزید زندہ رہنے کی مہلت دینے کے لئے تیار نہ تھے جذبہ ایمان سے سرشار ہوکر پہلے غازی خدابخش نے 26ستمبر1927ء کو راجپال پرحملہ کیا راجپال کوچار زخم آئے لیکن وہ بچ گیا۔غازی خدابخش کودودن کی عدالتی کارروائی کے بعد7سال قیدبا مشقت اور تین ماہ قید تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
اس کے بعد 9اکتوبر1927ء کو عبدالعزیزنامی مسلمان نے حملہ کیا۔پے درپے حملوں کی وجہ سے راج پال نے خود کوہروقت خطرے میں محسوس کیا اس کاکاروبار بھی متاثر ہونے لگا۔اُس نے حکومت سے استدعاکی کہ اس کی جان کی حفاظت کابندوبست کیاجائے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پولیس کے دوہندو سپاہی اور ایک سکھ حوالدار اس کی نگہداشت پرمامور کر دئیے راجپال نے پہرے کی زندگی کوحراست کی زندگی دسمجھا چانچہ وہ لاہور سے دوسرے شہروں میں تفریح کے لئے چلاگیا اور دوچار ماہ کے بعد واپس آگیا۔
اُس کاخیال تھا کہ اب معاملہ رفع دفع ہوچکا ہوگا اور اب مسلمانوں کے جذبات سرد ہوچکے ہوں گے اس نے کتب فروشی کاکاروبار پھر شروع کردیا اور پولیس کی امداد طلب نہ کی۔
راجپال کوفنافی النار کرنے کی سعادت عظمیٰ حضرت غازی علم الدین شہید کے نامہ اعمال میں لکھی تھی چنانچہ جب غازی نے قوت ایمانی کے ساتھ اس ظالم پروارکیا تویی جانبر نہ ہوسکا۔
16اپریل 1929ء ہفتے کے روز غازی علم الدین نے ایک تیز چھرا ہاتھ میں لیا۔تقریباََایک بجے کے بعد دوپہر راجپال کی دکان واقع ہسپتال روڈ نزد مزار قطب الدین ایبک لاہور پہنچے۔ اتفاق سے وہ موذی اُس وقت دکان میں لیٹا ہوا تھا نہوں نے اسے للکار اور کہا اپنے جرم کی معافی مانگو۔کتاب کو فوراََ تلف کرنے کاوعدہ کرو اور آئندہ ایسی کمینی حرکتوں کے کرنے سے توبہ کروورنہ مقابلے کے لئے تیار ہوجاؤ۔
راجپال نے غازی علم الدین کے اس انتباہ کومحض گیدر بھکی سمجھا اور یہ خیال کیا کہ یہ ازخودواپس چلاجائے گا اس لئے وہ خاموش بیٹھارہا اُس پر غازی علم الدین نے بھرپور وارکیا کہ وہ بغیر آواز نکالے جہنم رسید ہوگیا۔ اُس وقت دکان پر راج پال کے دوملازم بھگت رام اور کیدارناتھ بھی موجودتھے جوکتابوں کوترتیب دے رہے تھے انہوں نے غازی کااعلان بھی سنا اور حملہ کرتے بھی دیکھا مگران پر ایسی ہیبت طاری ہوگئی کہ وہ بت بن کرکھڑے رہے لیکن اپنے آقا کوبچانے کے لئے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکے۔
غازی علم الدین وہاں سے دویارتن کے ٹال پر پہنچے نلکا چلاکراپنے ہاتھوں کوراج پال کے ناپاک لہوسے صاف کیاپانی پی رہے تھے کہ یکا یک راج پال کے قتل کاشوربرپاہو گیا شوروغل سن کراطمینان سے کھڑے ہوگئے اور ہاآواز بلنداعلان کیا کہ راجپال کاقاتل میں ہی ہوں اور میں نے اس کاقتل فرط عشق رسولﷺ میں کیا ہے۔پولیس نے راجپال کی لاش کوپوسٹ مارٹم کے لئے بھجوایا۔
ہندوؤں میں خوف دہراس پھیل گیا۔ اگر چہ سیشن کورٹ میں ایے مقدمات کی سماعت کے لئے کم ازکم ایک سال کے بعد آتی ہے لیکن یہ مقدمہ ایک ہفتے بعد ہی سماعت کے لئے پیش کردیا گیا مسٹرٹیپ سیشن جج تھا مسٹرسلیم بارایٹ لاء نے معقوم اور مدلل دلائل پیش کیے لیکن عدالت نے غازی علم الدین پر دفعہ302فروجرم عائدکرکے22مئی 1929ء کوپھانسی کی سزا کاحکم سنادیا۔

قائداعظم محمد علی جناح بیرسڑایٹ لاء ان دنوں ممبئی میں وکالت کرتے تھے انہیں اس مقدمے کے لئے طلب کیا گیا تو 14 جولائی 1929ء کو تشریف لائے لاہور کے ماہرقانون فرخ حسین بیرسٹرایٹ لاء نے اُن کی معاونت کی۔ 15 جولائی 1929ء کو فرنگی ججوں نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد غازی علم الدین کی اپیل خارج کردی اروسیشن جج کے فیصلے کوبرقراررکھا شام کوجب غازی علم الدین کوہائی کورٹ کافیصلہ جیل میں سنایا گیا تو انہوں نے نے مسکرا کرکہا الحمداللہ میں یہی چاہتا تھا بزدلوں کی طرح قیدی بن کرجیل میں گلنے سڑنے کے بجائے تختہ دار پرچڑھ کررحمت للعالمین ﷺ پر اس حقیرسی جان کوقربان کردینا موجب سکون دراحت ہے خود میری اس ادنیٰ اور پُرخلوص قربانی کوقبول فرمائے۔
14اکتوبر1929ء کوغازی علم الدین شہید میانوالی جیل میں منتقل ہوئے تو چاروں طرف اس عاشق رسول ﷺ کی آمد کر چرچا ہوگیا اور لوگ جیل میں آپ کی جھلک دیکھنے کے لئے پردانہ وار آنے لگے بالآخر شہادت کی گھڑی آپہنچی۔30اکتوبر1929ء کوآخری ملاقات کے لئے غازی علم الدین کے ورثا کوجیل میں بلایا گیاآپ نے والد محترم سے استدعاکی کہ میری قبر اپنے ہاتھوں سے تیار کرنا اور میرے حق میں دعائے خیر کرتے رہنا۔
غازی نے اس روز روزہ رکھا ہوا تھا مگر مہمانوں کواپنے پاس رکھے ہوئے کھڑے دودو گھونٹ پانی پلا رہے تھے پھر آپ نے اپنی والدہ محترمہ سے کہاکہ آپ اس بات پر فخر کریں کہ آپ نے ایسا فرزند جنا ہے جس کو شہادت کااعلیٰ منصب نصیب ہورہاہے یہ سب آپ کی دُعاؤں اور تربیت کافیض ہے۔31اکتوبر1929ء جمعرات کے روز مجسٹریٹ نے غازی علم الدین سے آخری خواہش دریافت کی انہوں نے کہا صرف دورکعت نماز شکر ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے دورکعت نفل پڑھے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے تختہ دار پرچڑھ گئے۔

Your Thoughts and Comments