Hazrat Habib Bin Aslam Raai RA

حضرت حبیب بن اسلم راعی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت حبیب بن اسلم راعی رحمتہ اللہ علیہ بکریاں پالتے تھے اور فرات کے کنارے چرایا کرتے تھے آپ کا مسلک خلوت گزینی تھا ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا گذر اس طرف ہوا تو کیا دیکھتا ہوں

Hazrat Habib Bin Aslam Raai RA
حضرت حبیب بن اسلم راعی رحمتہ اللہ علیہ بکریاں پالتے تھے اور فرات کے کنارے چرایا کرتے تھے آپ کا مسلک خلوت گزینی تھا ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا گذر اس طرف ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ تو نماز میں مشغول ہیں اور بھیڑیا ان کی بکریوں کی رکھوالی کر رہا ہے۔میں ٹھہر گیا کہ اس بزرگ کی زیارت سے مشرف ہونا چاہیے جن کی بزرگی کا کرشمہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں بڑی دیرتک انتظار میں کھڑا رہا یہاں تک کی جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تومیں نے سلام عرض کیا۔
آپ نے جواب سلام کے بعد فرمایا کس کام آئے ہو؟میں نے عرض کیا بغرض زیارت۔فرمایا”جزاک اللہ“اس کے بعد میں نے عرض کیایا حضرت!آپ کی بکریوں سے بھیڑیے کو ایسا لگاؤ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ بکریوں کے چرواہے کو حق تعالیٰ سے دلی ربط ہے۔

یہ فرما کر آپ نے لکڑی کے پیالے کو پتھر کے نیچے رکھ دیا۔پتھر سے دو چشمے جاری ہوئے۔

ایک دودھ کا اور دوسرا شہد کا۔پھر فرمایا نوش کرو۔میں نے عرض کیا آپ نے یہ مقام کس طرح پایا؟آپ نے جواب دیا سید عالم صلی اللہ وسلم کی متابعت کے ذریعہ اے فرزند!حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ میں نہ تھے۔جب کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمانبردار ہوں تو یہ پتھرمجھے دودھ اور شہد کیوں نہ دے گا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں۔پھر میں نے عرض کیا مجھے نصیحت فرمائیے۔آپ نے فرمایا”لاتجعل قلبک ضدوق الحرص وبطنک وعاء الحرام“یعنی اپنے دل کو حرص کی کوٹھری اور اپنے پیٹ کو حرام کی گٹھری نہ بنانا کیونکہ لوگوں کی ہلاکت انہیں دو چیزوں میں مضمر ہے اور ان کی نجات ان سے دوررہنے میں ہے۔

Your Thoughts and Comments