Hazrat Imam Jaffar Sadiq

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت امام جعفر صادق نے اپنی زندگی حق وصداقت کا پیغام انسانوں تک پہنچانے کے لیے وقف کررکھی تھی ۔ ایک مرتبہ کاذکر ہے کہ امام شافعی پران کے مخالفین نے رافضیت کا الزام لگادیا اور اس الزام میں آپ کو قید میں ڈال دیا گیا

Hazrat Imam Jaffar Sadiq
ع ع ف :
محبت اہل بیت :
حضرت امام جعفر صادق نے اپنی زندگی حق وصداقت کا پیغام انسانوں تک پہنچانے کے لیے وقف کررکھی تھی ۔ ایک مرتبہ کاذکر ہے کہ امام شافعی پران کے مخالفین نے رافضیت کا الزام لگادیا اور اس الزام میں آپ کو قید میں ڈال دیا گیا ۔ حضرت امام جعفر صادق نے اس بات پر دکھ کا اظہار فرمایا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ امام شافعی کو اہل بیت کی محبت کے باعث رافضی کا خطاب دے کر قید میں ڈال دیا گیا ہے جس کے بارے میں امام صاحب اپنے اشعار میں خود ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر اہل بیت سے محبت کا نام رفض ہے تو پھر تمام عالم اسلام کو میرے رافضی ہونے پر گواہ رہنا چاہیے اور اگر بالفرض اہل بیت عظام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت رکھنا ایمان کے ارکان میں داخل نہ ہو تو پھر بھی ان سے محبت کرنے اور ان کے حالات کے بارے میں معلومات کرتے رہنے میں کیا حرج واقع ہوتا ہے ۔

اس لئے ہر اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ جس طرح وہ دل وجان سے حضور نبی کریم ﷺ کے مراتب سے آگاہی حاصل کرتا ہے اسی طرح وہ خلفائے ارشدین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے مراتب کو بھی ان کے مرتبہ اور مقام کی نسبت سے افضل تصور کرے ۔
ادب کی باتیں :
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضر سفیان ثوری حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر مجھے نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا : اے سفیان جھوٹے میں مروت نہیں ہوتی حاسد میں خوشی نہیں ہوتی ، غمگین میں بھائی چارہ نہیں ہوتا اور بدخلق کے لیے سرداری نہیں ہوتی ۔
حضرت سفیان ثوری نے پھر کہا ، اے فرزند رسول ﷺ کچھ مزید نصیحت فرمائیں ۔حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا : اے سفیان اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے رک جا، تو عابد ہوگا اللہ کی تقسیم پر راضی ہوتو مسلمان ہوگا جیسی تم لوگوں سے دوستی چاہتے ہوتم بھی ان کے ساتھ ویسی ہی دوستی رکھو تب تم مومن ہوگے بروں ست دوستی نہ رکھ ورنہ تو بھی برے کام کرنے لگے گا ۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے تم یہ دیکھو کہ تمہاری دوستی کس سے ہے اور اپنے کاموں میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوں ۔ حضرت سفیان ثوری نے پھر عرض کی ، اے فرزند رسول ﷺ کچھ مزید نصیحت فرمائیں ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا : جو بغیر قبیلہ کے عزت اور بغیر حکومت کے ہیبت چاہے اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ذلت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں آجائے ۔
حضرت سفیان ثوری نے پھر کہا :اے فرزند رسول ﷺ کشھ مزید نصیحت فرمائیں ۔آپ نے فرمایا مجھے میرے والد نے تین بہترین باتیں سکھائیں اور ارشاد فرمایا : اے بیٹے جوبروں کی صحبت میں بیٹھتا ہے سلامت نہیں رہتا جو بری جگہ پاتا ہے مثمہم ہوتا ہے اور جو اپنی زبان کی حفاظت نہیں ترتا شرمندگی کا سامنا کرتا ہے ۔
ہمہ وقت عبادت الٰہی :
حضرت امام جعفر صادق کی حیات طیبہ کے دوران زندگی کا سفراس موڑ پر بھی پہنچا کہ جب آپ نے گوشہ نشینی اختیار فرمالی اور لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہمہ وقت مشغول ہوگئے ۔
حضرت سفیان ثوری آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہا آپ کے گوشہ نشین ہوجانے سے لوگ بہت بڑی نعمت سے محروم ہوگئے ہیں۔ وہ آپ کے فیوض وبرکات سے محروم ہوگئے ہیں آپ کے کلام وعظ سے محروم ہوگئے ہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ ان کی خاطر گوشہ نشینی ترک کردیں اور لوگوں کو دوبارہ اپنی صحبت کے فیض سے مستفید فرمائیں ۔
حضرت امام جعفر صادق نے حضرت سفیان ثوری کی بات سی تو آپ کے پیارے لبوں پر ایک معنی مسکراہٹ پھیل گئی چند لمحے خاموشی اختیار کی اور پھر حضرت سفیان وثوری کو اپنے دواشعار پڑھ کر سنائے جن کا ترجمعہ یہ ہے ۔

”کسی جانے والے انسان کی طرح وفا بھی چلی گئی اور لوگ اپنے اپنے خیالات میں ڈوب گئے اگرچہ وہ بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ وفا ومحبت کا اظہار کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں بچھوؤں کا زہر بھر ہوا ہے “ ۔
آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اس افراتفری اور نفسانفسی کے دور میں انسان کو انسان کے دکھ درد سے کوئی تعلق نہیں رہا اور وہ صرف دنیا داری رکھنے کی خاطر اور دکھاوے کے طور پر ایک دوسرے سء محبت کا اظہار کرتے ہیں اور وفا کادم بھرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ زہریلے بچھوؤں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور کسی بھی وقت ایک دوسرے کو ڈنگ مارنے اور نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں ۔
حضرت سفیان ثوری نے حضرت امام جعفر صادق کا جواب سنا تو خاموشی سے واپس تشریف لے گئے ۔
عقل مند کون :
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت امام جعفر صادق نے امام اعظم ابو حنیفہ سے پوچھا کہ عقل مند کی تعریف کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اچھائی اور برائی میں تمیز کرسکے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : کہ یہ تمیز تو جانور بھی کر لیتے ہیں اس لیے کہ جوان کی خدمت کرتا ہے اس کو نقصان نہیں پہچاتے اور جوان کو تکلیف دیتا ہے اس کو ایذا پہچاتے ہیں اور کاٹنے کو دوڑتے ہیں ۔
یہ سن کر امام اعظم ابوحنیفہ نے پوچھا کہ پھر آپ عقل مند کس کو شمار کرتے ہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق نے جواب دیا کہ عقل مند وہ ہے جو دوبھلائیوں میں سے بہتر بھلائی کو اختیار کرے اور دوبرائیوں میں سے مصلحتاََ کم برائی پر عمل کرے ۔
ٰٓایک دن مشہور ولی اللی تشریف لائے حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا : اے ابو سفیان آپ اس زمانہ کے بڑے زاہدوں میں سے ہیں آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے ۔
انہوں نے عرض کیا اے فرزند رسول ﷺ آپ کو اللہ تعالیٰ نے سب پر فضیلت بخشی ہے ۔ آپ پر نصیحت کرنا واجب ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا : اے ابوسفیان میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں قیامت کے دن میرے جدامجد مجھے یہ نہ فرمائیں کہ تم نے ہماری اطاعت کا حق کیوں نہیں ادا کیا اس لیے کہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں بلکہ اعمال صالحہ پر موقوف ہے ۔ یہ سن کر حضرت داؤد طائی روپڑے اور کہنے لگے یا اللہ جن ہستیوں کا خمیر آب نبوت سے ہوا اور جن کی ترکیب طبعی اصول دین پر اور برہان وحجت قرآن سے ہو جن کے دادا رحمةاللعالمین اور والدہ ماجدہ زہرہ بتول رضی اللہ عنہ ہوں وہ بھی اس خوف اور حیرانی میں رہ کر اپنے اعمال کا اس شان سے مجاسبہ فرمارہے ہیں تو پھر داؤد طائی کس شمار میں ہے اور وہ کس چیز پر فخر کر سکتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments