Hazrat Umr RA Ki Izzat E Nafs Aur Khud Aitmadi

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عزت نفس اورخود اعتمادی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس ایمان اور اس ایمان کے لیے اُن کے تعصب نے انھیں پیش گاہ نبوت میں بھی عزت نفس اور خود اعتمادی کے اظہار سے نہیں روکا۔

Hazrat Umr RA Ki Izzat e Nafs Aur Khud Aitmadi
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس ایمان اور اس ایمان کے لیے اُن کے تعصب نے انھیں پیش گاہ نبوت میں بھی عزت نفس اور خود اعتمادی کے اظہار سے نہیں روکا۔ اپنی رائے پر انھیں اس قدر اعتماد تھا اور اس کی تائید میں وہ ایسی زبردست دلیلیں پیش کرتے تھے کہ اس خصوصیت میں کوئی مسلمان ان کی برابری نہ کر سکتا تھا ۔ یہ صحیح ہے کہ اس زمانے کے مسلمان جمود وبے عملی سے ناآشنا تھے ۔

ان میں جو صاحب رائے ہوتا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بے جھجک مشورہ پیش کردیتا تھا اور اپنی رائے منوانے یا مخالف رائے قبول کرنے میں بحث واستدلال کو اپنا جائز حق سمجھتا تھا ۔ اس معاملے میں ان کی مثال اُن مسلمانوں کی سی تھی جو شورش وبغاوت کے زمانوں میں چاہتے تھے کہ شورش وبغاوت کو اس کے اصول ومبادی کے آخری نقطے تک پہنچا دیں لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاف گوئی اور جرأت ان سے بڑھی ہوئی تھی ۔ انھیں رسول اللہ ﷺ سے بے انتہا محبت تھی اور وہ حضور ﷺ کی رسالت پرقابل رشک ایمان بھی رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود خدمت نبوی ﷺ میں اپنی رائے کے اثبات واصرار میں انھیں کوئی تکلف نہ ہوتا تھا۔

Your Thoughts and Comments