Khaleefa Soum Syedna Usman RA

خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی

آپ کا نام عثمان کنیت ابوعبداللہ، ابو عمر ، لقب ذو النورین، والد کا نا م عفان اورو الدہ کا نام ارویٰ ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب پا نچویں پشت میں عبد مناف پر رسول کریم ﷺسے مل جا تا ہے

Khaleefa Soum Syedna Usman RA
مو لا نا محمد امجد خان:
آپ کا نام عثمان کنیت ابوعبداللہ، ابو عمر ، لقب ذو النورین، والد کا نا م عفان اورو الدہ کا نام ارویٰ ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب پا نچویں پشت میں عبد مناف پر رسول کریم ﷺسے مل جا تا ہے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نا نی صاحبہ بیضا ام الحکیم حضرت عبد اللہ بن عبد المطلب کی سگی بہن اور آپﷺ کی پھو پھی تھیں۔
اس لئے وہ ماں کی طرف سے آپﷺ کے قریشی رشتے دار ہیں ۔حضرت عثمان نے مکہ میں تو حید کی صدا سنی تو یہ آواز تخیل کے لحاظ سے حضرت عثمان کے لئے نا ما نوس تھی تا ہم وہ اپنی فطری عفت،پارسائی، دیا نتداری اور ر است بازی کے باعث اس داعی حق کو لبیک کہنے کے لئے با لکل تیار تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ایمان لا ئے تو انہوں نے دین متین کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا نصب العین قرار دیا اور اپنے حلقہ احباب میں تلقین وہدا یت کا کام شروع کر دیا۔

ایام جاہلیت میں ان کا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ربط وضبط رہتا تھا اور اکثر مخلصانہ صحبت رہتی تھی ایک روز وہ حسب معمول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے توآپ نے اسلام کے متعلق گفتگو شروع کر دی۔ حضرت ابوبکر صدیق کی گفتگو سے آپ اتنے متاثر ہوئے کہ با رگاہ نبوت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کر نے پر آمادہ ہو گئے ابھی دو نوں بزرگ جا نے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ خود سرور کا ئناتﷺ تشریف لے آئے اور حضرت عثمان غنی کو دیکھ کر فر ما یا عثمان خدا کی جنت قبول کر میں تیری اور تمام خلق کی ہدا یت کے لئے معبوث ہوا ہوں ،حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ زبان نبوت کے ان سادہ و صاف جملوں میں خدا جا نے کیا تاثیر تھی کہ میں بے اختیار کلمہ شہا دت پڑھنے لگا اور دست مبار ک میں ہاتھ دیکر حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آپﷺ کی دو بیٹیاں حضرت ر قیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اس وجہ سے آپ کو ذو النورین کہا جا تا ہے مکہ میں اسلام کی روز افزوں تر قی سے مشرکین قریش کے غضب کی آگ روز بروز زیا دہ مشتعل ہو تی جا تی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنی وجا ہت اور خاندانی عزت کے باجود جفاکا روں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ، ان کو خودا ن کے چچا نے باندھ کر مارا اور اعزہ واقارب نے طعنے دینے شروع کر دیئے رفتہ رفتہ ان کی سخت گیری اور جفا کاری یہاں تک بڑی کہ وہ خود ان کی برداشت سے باہر ہو گئی اور با لا آخر رسول کریم ﷺکے حکم پر آپ اپنی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لیکر ملک حبشہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
چنا نچہ یہ پہلا قافلہ تھا جو حق وصداقت اور ایمان کی محبت میں وطن اور اہل وطن کو چھوڑ کر جلا وطن ہوگیا ۔حضور پاکﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی زوجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی۔
ہجرت کے بعد آپ کو ان کا حال کچھ معلوم نہ ہو سکا اس لئے آپﷺ پریشان تھے کہ ایک عورت نے خبر دی کہ اس نے ان دونوں کو حبشہ میں دیکھا تھا۔
حضرت عثمان غنی حبشہ چند سال رہے اس کے بعد جب بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے قبولِ اسلام کی غلط خبر پا کر اپنے وطن واپس آئے تو حضرت عثمان بھی آگئے یہاں آ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے اس بنا پر بعض صحابہ پھر ملک حبشہ کی طرف لوٹ گئے مگر حضرت عثمان پھر واپس نہ گئے۔ اس اثناء میں مدینہ منورہ کی ہجرت کا سا مان پیدا ہو گیا اور رسول اللہﷺ نے اپنے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم فر ما یا تو حضرت عثمان بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے جہاں آپ حضرت اوس بن ثابت کے مہمان ہوئے اور آپﷺ نے ان میں اور حضرت اوس بن ثابت میں بھائی چارہ قائم کر دیا۔
اس مواخات سے دو نوں خاندانوں میں جس قدر محبت اور یگا نگت پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مدینہ منورہ آنے کے بعد مہاجرین کو پانی کی سخت تکلیف تھی تمام شہر میں صرف بئیر رومہ ایک کنواں تھا جس کا پانی پینے کے لائق تھا مگر اس کا مالک ایک یہودی تھا اور اس نے اسے ذریعہ معاش بنا رکھا تھا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مصیبت کو دور کر نے کے لیئے اس کنویں کو خرید کر اللہ تعالی کی راہ میں وقف کر دیا لیکن یہودی صرف نصف حق پر فروخت کر نے پر راضی ہوا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارہ ہزار درہم میں نصف کنواں خرید لیا اور شرط یہ قرار پائی کہ ایک دن حضرت عثمان کی باری ہو گی اور دوسرے دن اس یہودی کے لئے کنواں مخصوص ہو گا جس روز حضرت عثمان کی باری ہوتی تھی اس روز مسلمان اس قدر پانی بھر لیتے تھے کہ وہ پانی دو دن کے لئے کافی ہو تا تھا یہودی نے دیکھا کہ اسے اب کچھ نفع نہیں ہو سکتا تو وہ بقیہ نصف حصہ بھی فروخت کر نے پر راضی ہو گیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آٹھ ہزار درہم میں بقیہ حقوق خرید کر اسے مکمل وقف کر دیا اس طرح اسلام میں حضرت عثمان کے فیض کرم کا یہ پہلا منظر تھا جس نے تو حید کے تشنہ لبوں کو سیراب کر دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مر ض وفات میں خلافت کے لیئے چھ آدمیوں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نا م پیش کیا گیا کہ ان میں سے کسی کو منتخب کر لیا جا ئے اور تا کید کی گئی کہ تین دن کے اندر انتخا ب کا فیصلہ کیا جا ئے حضرت عمر فارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تجہیز وتکفین کے بعد انتخاب کا فیصلہ پیش ہوا اور دودن تک اس پر بحث ہو تی رہی لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوا آخر تیسرے دن حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ وصیت کے مطابق خلافت چھ آدمیوں پر دائر ہے لیکن اس کو تین شخصوں تک محدودکر دینا چاہئے اور جو اپنے خیال میں جس کو مستحق سمجھتا ہو اس کا نام لے حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں اپنے حق سے باز آتا ہوں اس لئے اب یہ معا ملہ صرف دو آدمیوں پر منحصر ہے اور ان دو نوں میں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سنت شیخین کی پابندی کا عہد کرے گا اس کے ہاتھ پر بیعت کی جا ئے گی اس کے بعد علیحدہ علیحدہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ دو نوں اس کا فیصلہ میرے ہاتھ میں دیدیں۔
ان دونوں حضرات کی رضا مندی لینے کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور باقی تمام صحابہ کرام مسجد میں جمع ہوئے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مختصر لیکن موٴثر تقریر کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کے لئے ہاتھ بڑھا دیا چنا نچہ تمام حاضرین بیعت کے لئے لپک پڑے اور یوں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ سوم قرار پائے۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں تاریخی کارنامے سرانجام دیئے آپ کا سب سے اہم کارنامہ امت کو قرآن مجید کی ایک متفقہ قرآن پر جمع کر نا تھا چنانچہ آپ بجا طور پر ناشر قرآن کریم کہلائے آپ کے دور کی فتوحات اسلام مخالفین کو برداشت نہ ہو سکیں چنانچہ آپ کے خلاف بڑی گہری سازشیں کی گئیں آپ کے گھر کا دانہ پانی بند کیا گیا۔
یہ ظلم چالس روز تک روا رکھا گیا جس وقت آپ پر حملہ کیا گیا آپ اس وقت قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے وہ قرآن مجید آج بھی استنبول میں آپ کے خون کا گواہ بن کے محفوظ ہے۔ حضرت عثمان کی زندگی مسلمانوں کو یہ درس دیتی ہے کہ قر آن مجید کو کسی حال میں نہیں چھوڑنا اور دین اسلام کے لئے مال و دولت قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے اور صلح جوئی کو فروغ دینا چاہیے۔
شہا دت کے وقت آپ روزے سے تھے۔ شہادت سے ایک روز پہلے خواب میں آقا ئے دوجہاںﷺ کی زیارت ہو ئی آپﷺ نے افطاری اپنے ساتھ کر نے کافر ما یا چنانچہ اسی روز شہا دت کا تاج اپنے سر سجا کر اللہ کو پیارے ہو گئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اشاعت اسلام کے لئے خدمات تاریخ اسلام کا لازمی حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر خلفائے راشدین و صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Your Thoughts and Comments