Khatoon E Jannat

خاتون جنت

سیرت وکردار،فضائل ومناقب کا روشن باب۔۔۔۔۔ ایک موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے شیر خدا سید نا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم ان کے متعلق سوال کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺکے محبوب ترین لوگوں میں سے تھے

Khatoon e Jannat
ڈاکٹر حافظ محمد ثانی:
ایثار وسخاوت انفاق فی سبیل اللہ اور دریادلی خانو ادئہ رسولﷺ اور خاتون جنت سیدہ فا طمة الزہراء رضی اللہ خصائل وشمائل اور سیرت وکردار کا ایک روشن حوالہ ہے۔آپ کے ایثار وسخاوت کے یوں تو متعددواقعات مشہور ہیں تاہم ذیل میں اس سلسلے کا ایک تاریخی واقعہ پیش کیا جاتا ہے۔جس سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت اور انفاق فی سبیل اللہ کا پتا چلتا ہے۔

ایک دفعہ قبیلہ بنو سلیم کے ضعیف العمر اور انتہائی بزرگ شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں دین کے ضروری احکام ومسائل بتائے اور پھر ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ قسم ہے اللہ کی (قبیلہ) بنو سلیم کے تین ہزار آدمیوں میں سب زیادہ غریب اور متحاج میں ہی ہوں۔

یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا اور فرمایا تم میں سے کون اس مسکین کی مدد کرے گا؟قبیلہ خزرج کے سر دار حضرت سعد بن عبادہ اٹھے اور عرض کیا رسول اللہ ﷺ میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو میں انہیں دیتا ہوں ۔بعدازاں رسالت مآب ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون ہے جواس کا سر ڈھانک دے ؟ آپﷺ کا یہ ارشاد گرامی سن کر شیر خدا سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ اٹھے اور اپنا عمامہ اتار کر نومسلم اعرابی کے سر پر رکھ دیا ۔
پھر رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کون ہے جو اس کی خوراک کا بندوبست کرے؟ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد سن کر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان صاحب کو اپنے ساتھ لیا اور ان کی خوراک کا انتظام کرنے لگے چند گھروں سے دریافت کیا لیکن وہاں سے کچھ نہ ملا ۔آخر انہوں نے دختر رسولﷺخاتون جنت سیدہ عالم حضرت فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
سیدہ فا طمة الزہراء رضی اللہ عنہا نے پوچھا کون ہے؟ حضرت سلامن فارسی رضی اللہ عنہ نے سارا واقعہ بیان کیا اور التجا کی اسے سچے رسول ﷺ کی بیٹی اس بوڑھے مسکین کی خوراک کو بندوبست کیجیے سید عرب وعجم شاہ دوعالم سرور کائنات ﷺ کی دختر گرامی سیدہ عالم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آبدیدہ ہو کر فرمایا اے سلمان خدا کی قسم آج ہمارے ہاں تیسرا فاقہ ہے بچے فاقے سے بھوکے سوئے ہوئے ہیں۔
لیکن سائل کو خالی ہاتھ نہ جانے دوں گی ۔جاؤ یہ میری چادر شعمون یہودی کے پاس لے جاؤ اور اس سے کہو کہ فاطمہ بنت محمدﷺ کی یہ چادر رکھ لو اور اس کے عوض اس مسکین کو کچھ دے دو۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس نو مسلم ضعیف العمر اعرابی کولے کر شعمون کے پاس پہنچے اور اس سے تمام کیفیت بیان کی۔یہ تمام جراسن کر وہ یہودی حیرت میں ڈوب گیا اس ک سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا کے پاکیزہ کردار کا اس یہودی پر ایسا اثر پوا کہ وہ بے اختیار پکار اٹھااے سلمان خدا کی قسم یہ وہی لاگ ہیں جن کی کبر تورات میں دی گئی ہے تم گواہ رہنا کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے والد گرامی حضرت محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ اس کے بعد اس نے کچھ غلہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کودیا اور چادر بھی سیدہ فا طمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دی۔
وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آئے تو سیدہ عالم نے اپنے ہاتھ اناج پیسا اور جلدی سے اس نومسلم عرابی کے لیے روٹیاں پکا کر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دیں ۔انہوں نے عرض کیا اے میرے آقا کی لخت جگران میں سے کچھ بچوں کے لیے رکھ لیجیے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جو چیز میں راہ خدا میں دے چکی وہ میرے بچوں کے لیے جائز نہیں ۔
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روٹیاں لے کر حضور اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے روٹیاں اعرابی کو دے دیں اور پھر جگر گوشہ اور چہیتی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ان کے سر پردست شفقت پھیر اآسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی ” بارالٰہی فاطمہ تیری کنیز ہے اس سے راضی رہنا ۔شاعر مشرق علامہ اوبال نے اس شعر میں اسی واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔

ایک محتاج کی خاطر ان کا دل ایسا تڑ پا کہ اس کی اعانت کے لیے ایک یہودی کے پاس اپنی چادر فروخت کرنے کے لیے پیش کردی ۔خاتون جنت سیدہ فا طمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا کے متعلق سرور کائنات شاہ دوعالم امام الا نبیا ء سید المر سلین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو اسے ناراض کرے گا وہ مجھے ناراض کرے گا۔
ایک موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے شیر خدا سید نا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم ان کے متعلق سوال کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺکے محبوب ترین لوگوں میں سے تھے اور جن کی اہلیہ رسول اللہ ﷺ کی وہ بیٹی تھیں جو آپ گوسب سے بڑھ کر محبوب تھیں۔
سیدہ فاطمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا کی زندگی سیرت وکردار کا ایک روشن باب ہے۔رسالت مآب ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔ فاطمہ اہل جنت کی خواتین کی سردار ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا”فاطمہ سیدہ نساء العالمین“ فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ۔ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”تمہاری تقلید کے لیے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم خدیجہ رضی اللہ عنہا، فاطمہ رضی اللہ عنہ اور آسیہ (زوجہ فرعون ) کافی ہیں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے کتب حدیث میں متعد دروایتیں معقول ہیں جنہیں جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہ نے ان سے روایت کیا ہے حضرت علی ابن ابی طالب حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ، امام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا، ام رافع رضی اللہ عنہا اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان سے روایت کرتے ہیں۔
دختر شاہ دوعالم جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا کے فضائل ومناقب کا یہ ایک روشن باب ہے کہ امام الانبیاء ،سیدالمر سلین محبوب رب العا لمین حضرت محمدﷺ کی نسل آپ رضی اللہ عنہ سے باقی ارو جاری ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اپنے پدربزرگو ار خیر الخلائق سید دوعالم حضرت محمد ﷺ کے وصال قبل سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا آپﷺ کے قریب بیٹھ کر رونے لگیں۔
اس موقع پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جان پدر رونہیں تمہارے رونے سے عرش الٰہی بھی رورہا ہے پھر آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنسو پونچھے انہیں تسلی اور تشفی دی ۔جس وقت سرورکونین ﷺ کی روح اقدس عالم قدس میں پہنچی تو سیدہ فا طمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا پر غم واندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا شدت الم میں ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے ”پیارے اباجان جبرائیل کو آپﷺ کی رحلت کی خبر کون پہنچائے گا آپ کے بعد اب وحی کس پر اترے گی اور جبرئیل کے پاس آئیں گے۔

پھر انہوں نے دعا مانگی اء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح کو محمد ﷺ کی روح کے پاس پہنچا دے الٰہی مجھے رسول اللہ ﷺ کے دیدار سے مسرور کردے الٰہی مجھے یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دے الٰہی حشر کے دن مجھے رسول اللہ ﷺکی شفاعت نصیب فرما۔
تمام اہل سیر متفق ہیں کہ رسول اکرمﷺ کے وصال کے بعد کسی نے سیدہ فا طمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔
ایک روز آپ رسول اللہ ﷺ کی قبر اطہر پر تشریف لے گئیں اور اشک بار ہو کر یہ اشعار پڑھنے لگیں جو شخص احمد ﷺ کی تربیت کی مٹی ایک بار سونگھ لے اس پر لازم ہے کہ پھر کبھی کوئی خوشبو نہ سونگھے ۔یعنی اس کے بعد اسے کسی خوشبو کے سونگھے کی حاجت نہیں مجھ پر مصیبتیں پڑیں اگر وہ دنوں پر پڑ تیں تو وہ راتوں میں تبدیل ہوجاتے۔
آپ ﷺ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر وقت غمگین اور دل گرفتہ رہتی تھیں رسول اللہ ﷺ کے وصال کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ خاتون جنت سید ہ فا طمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا کو بھی ان کے رب کی طرف سے بلاوا آپہنچا جس کی وہ اسی دن سے منتظر تھیں جب حضوراکرم ﷺ نے انہیں آگاہ فرمایا تھا کہ میرے اہل بیت رضی اللہ عنہ میں سب سے پہلے تم مجھے عالم آخرت میں ملوگی ۔
آپ کی تاریخ وافات کے بارے میں مورخین اور تذکرہ نگاروں کے مختلف اقوال ہیں جہمور اہل سیر کے قول کے مطابق آپ نے 3 رمضان المبارک سن 11ھ کو سفر آخرت اختیار فرمایا: جب کہ ایک اور اقول کے مطابق سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا نے 3جمادی الآخرہ سن 11ھ کو وفات پائی۔بہر کیف یہ بات ثابت ہے کہ خاتون جنت سیدہ نسا العالمین حضرت فا طمة الزہراء رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد چند ماہ بعد زیادہ آپ ﷺ سے جذانہ رہیں اور بہت جلد اس دنیا ئے فانی کو خیر باد کہہ کر جنت الفردوس میں پہنچ گئیں۔

آپ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کی لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے اور انہیں رات کے وقت اس طرح کیا جائے کہ یہ اندازہ نہ ہو کہ یہ جنازہ کسی مرد کا ہے یا عورت کا۔روایت کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کو دفن کیا گیا۔
امام محمد بن الحسن زبالہ المدنی المتوفیٰ سن 200ھ جن کی کتاب ”تاریخ المدنیہ مدینہ منورہ کی تاریخ پر سب سے قدیم اور سب سے جامع سمجھتی جاتی ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ مزار کے قریب ہے جب کہ مورخ مسعودی نے بھی یہی تصریح کی ہے مورخ موصوف نے 332ھ میں جنت البقیع کی ایک قبر پر ایک کتبہ دیکھا تھا جس پر تحریر تھا کہ یہ فا طمة الزہرا ء رضی اللہ عنہا کی قبر ہے۔ کے مولف علامہ محمد بن محمود النجا ر البغد ادی المتوفی 643ھ نے عبادل نامی شخص کے غلام فائدے کے حوالے سے لکھا ہے کہ جنت البقیع کے گورکن نے ایک قبر پر تختی دیکھی تھی جس پر تحریر تھا کہ یہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کی ہے ۔
چناں چہ علامہ محمد بن محمود ابن النجاد البغدادی فرماتے ہیں کہ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی قبر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی قبر کے ساتھ ہی جنت البقیع میں ہے۔
چناں چہ مدینہ منورہ کے تاریخی قبر ستان جنت البقیع میں سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا سے منسوب مزار پر صدیوں تک ایک شان دار عمارت قائم رہی۔آپ کی قبر مبارک مرجع خلائق ہے جرمنی کی مشہوراسکالر اور نامور محقق این میری شمل اپنے ایک مضمون ”خواتین اور پیغمبر اسلام میں سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا کے حضور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تاریخ اسلام میں متعدد قصے اور واقعات معروف ہیں جواس امر سے متعلق ہیں کہ انہوں نے غربت اور تنگ دستی کیونکر سہی ۔
یہ واقعات اہل تقویٰ کے خوش کن تصور میں اضافہ کرتے ہیں جن کے لیے وہ درحقیقت انسانیت کی ملکہ تھیں ان کی غرباو مساکین کے لیے ایثار وسخاوت اور فیاضی (درآں حالیکہ ان کا اپنا گھرانا بھوکار ہتا) یہ تمام واقعات اتنے متاثر کن اتنے اثر انگیز اور اتنے خوب صورت ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تمام مسلمان خواتین کے لیے ایک سوہ روشن نمونہ اور ول ماڈل نظر آتی ہیں۔شاعر نشرق علامہ محمد اقبال نے آپ رضی اللہ عنہا کے متعلق بجا طور پر کہا ہے:
حضرت سیدہ بتول کی شان یہ ہے کہ وہ تسلیم ورضا کی کھیتی کی حامل ماؤں کے لیے تقلید کا مکمل اور بہترین نمونہ ہیں۔

Your Thoughts and Comments