Khatoon E Jannat

خاتونِ جنت حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا

قرآنِ مجید کے اِرشادِ عظیم کے مطابق اَیسی لڑکی جو بیوہ عورت کے پہلے شوہر سے ہواور وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کرے تو بیوہ عورت کی پہلے شوہر سے لڑکی دوسرے شوہر کی بیٹی نہیں کہلاتی بلکہ ”ربیبہ“ کہلاتی ہے

Khatoon e Jannat
علامہ منیر احمد یوسفی:
حضور نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ کی چار دخترانِ ذیشان ہیں جو سبھی کی سبھی خاتون اوّل اُمّْ الموٴمنین حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطنِ پاک سے آپ ﷺ کی پاک بیٹیاں ہیں۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم نے سورة الاحزاب کی آیت نمبر ۹۵ میں وضاحت فرمائی ہے یْٰاَیُّھَا النَّبِیّْ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاْءِ الْمُوْمِنِیْنَ۔
۔۔۔ ”اے نبی (کریم روٴف ورحیم ﷺ) آپﷺاپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے فرما دیں“۔ اگر آپ ﷺکی اپنی صرف ایک بیٹی پاک ہوتی تو اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم قرآنِ مجید میں اُس کا ذکر خیر بیٹیاں فرما کر نہ کرتا۔
ربِّ ذوالجلال والاکرام کے فرمان سے یہ بات واضح ہوئی کہ رسولِ کریم روٴف ورحیم ﷺ کی اپنی ہی چار بیٹیاں تھیں جن کے نام ترتیب وار اِس طرح ہیں (۱)حضرت سیّدہ زینب (۲)حضرت سیّدہ رقیہ (۳) حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم اور (۴)حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔


قرآنِ مجید کے اِرشادِ عظیم کے مطابق اَیسی لڑکی جو بیوہ عورت کے پہلے شوہر سے ہواور وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کرے تو بیوہ عورت کی پہلے شوہر سے لڑکی دوسرے شوہر کی بیٹی نہیں کہلاتی بلکہ ”ربیبہ“ کہلاتی ہے۔۔۔۔وَرَبَاْئِبْکْمْ الّٰتِیْ فِیْ حْجْوْرِکْمْ مِّنْ نِّسَاْءِ کْمْ الّٰتِیْ دَخَلْتْمْ بِھِنَّ۔۔۔۔ (النساء:۳۲) ”اور اُن کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو“۔

حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسولِ کریم روٴف ورحیم ﷺ کی پاک بیٹیوں میں سے سب سے چھوٹی شہزادی ہیں۔
آپ کا اِسم مبارک ”فاطمہ“ ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ آپ کا لقب بتول اور زہرا ہے۔ بتول کا معنی ہے منقطع ہونا‘ کٹ جانا چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے اَلگ تھیں۔ لہٰذا بتول لقب ہوا۔ زہرا بمعنی کلی ‘آپ جنت کی کلی تھیں۔
آپ کے جسم پاک سے جنت کی خوشبو آتی تھی۔ حضور نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ سونگھا کرتے تھے۔ اِس لئے آپ کا لقب زہرا ہوا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
مختلف روایات کے مطابق آپ اِعلانِ نبوت سے ایک سال یا پانچ سال پہلے پیدا ہوئیں۔
حضرت مسور بن مخرمہ ص سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم روٴف ورحیم ﷺ نے فرمایا: فَاطِمَةْ بْضْعَْ مِّنِّیْ فَمَنْ اَغْضَبَھَا اَغْضَبَنِیْ وَفِیْ رِوَایٍَْ یْرِیْبْنِیْ مَا اَرَابَھَا وَیْوْذِیْنِیْ مَا اٰذَاھَا ۱ْ ”(حضرت) فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میرا ٹکڑا ہے جس نے اِنہیں ناراض کیا اْس نے مجھے ناراض کیا اور ایک روایت میں ہے جو چیز اِنہیں پریشان کرے مجھے پریشان کرتی ہے اور جو اِنہیں تکلیف دے وہ مجھے ستاتا ہے“۔
(مشکوٰة حدیث نمبر ۹۳۱۶‘ بخاری حدیث نمبر ۷۶۷۳‘ )
ہجرت کے دوسرے سال غزوئہ بدر کے بعد نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ نے اِن کا نکاح امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کر دیا۔ نکاح کے موقعہ پر حضور نبی کریم روٴف ورحیمﷺ نے پوچھا: اے علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم آپ کے پاس کوئی چیز ہے؟
امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک گھوڑا اور ایک زرہ ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑا جہاد کے لئے ضروری ہے۔ زرہ کو فروخت کر ڈالو۔ امیر الموٴمنین حضرت سیّدناعلی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں‘ میں نے زرہ اُٹھائی اور بازارِ مدینہ منورہ میں چلا گیا اور میں نے یہ زرہ امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا عثمان بن عفان ذوالنورین کے ہاتھ 400 (چار سو) درہم میں فروخت کر دی۔ امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا عثمان بن عفان ص نے زرہ خریدنے کے بعد مجھے تحفہ کے طور پر واپس کر دی اور میں دونوں چیزیں لے کر نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ کی بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہو گیا۔
حضور نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ سے امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ کی خدمت کا ذکر کیا۔ آپﷺ نے امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا عثمان غنی کے حق میں دُعائے خیر فرمائی۔ حضور نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ نے حضرت سلمان فارسی اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلا کر امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق ص کے ساتھ روانہ فرمایا۔ امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق ص فرماتے ہیں آپ ﷺ نے مجھے 63 درہم عطا فرمائے جن سے میں نے مندرجہ ذیل چیزیں خریدیں۔
ایک مصری بچھونا‘ ایک چمڑے کا گدا‘ ایک چمڑے کا بالین جو کھجور کی چھال سے پُر تھا‘ ایک خیبری قسم کی چادر‘ پانی کے لئے ایک مشکیزہ‘ کوزے‘ گھڑے‘ وضو کے لئے ایک برتن‘ صوف کا ایک باریک کپڑا‘ یہ تمام چیزیں امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے اآن پیسوں سے خریدی گئیں جو آپ زرہ بیچ کر لائے تھے (آج ہم جن رسومات میں گرفتار ہیں۔
اُن کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ اِس قسم کی تمام چیزیں لڑکی کے والدین کو خریدنا پڑتی ہیں چاہے وہ غریب ہوں یا امیر۔ پھر ہم دعویٰ مسلمانی بھی رکھتے ہیں)۔ امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق فرماتے ہیں یہ سامان کچھ میں نے خود اُٹھا لیا کچھ حضرت سلمان فارسی اور حضرت سیّدنا بلال نے اْٹھا لیا اور سب لا کر آپﷺ کی پاک بارگاہ میں پیش کر دیا۔
(جلاالعیون فارسی ص۶۲۱ ملا باقر مجلسی‘ کشف الغمہ فی معرفة الائمہ جلد۱ص۵۸۴۔۶۸۴)
علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے سیدئہ عالم حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پاک بارگاہ میں نہایت جامع اَنداز میں ہدیہ عقیدت پیش کیا ہے۔ جس میں آپ کی عظمت و شان‘ عفت و پاک دامنی‘ فقرو استغنا اور اَولاد کی اعلیٰ تربیت اَیسی خوبیوں کو بڑے اَحسن پیرائے میں بیان کیا ہے۔

علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے لکھا ہے:
مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمة للعالمین
آن اِمام الاوّلین و آخرین
آں کہ جاں در پیکر گیتی دمید
روزگار تازہ آئین آفرید
بانوے آن تاج دار ھل اتی
مرتضی‘ مشکل کشا‘ شیر خدا
پادشاہ و کلبہء ایوان اُو
یک حسام و یک زرہ سامان اُو
مادرِ آں مرکز پرکار عشق
مادر آں کاروان سالار عشق
”حضرت سیّدہ مریم علیہا السلام کا عزّت و مرتبہ صرف ایک نسبت سے ثابت ہے کہ وہ حضرت سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں مگر حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عزت و مرتبہ تین نسبتوں سے ثابت ہے۔
ایک تو آپ حضور رحمﷺ للعالمین اوّلین اور آخرین کے قائد اور اِمام ﷺ کی آنکھوں کا نور اور لخت جگر ہیں۔ وہ ہستی کہ جنہوں نے روئے زمین کے جسم میں از سر نو جان ڈالی اور ایک نئے نظام اور نئے عہد کی تخلیق فرمائی۔ آپ کی دوسری نسبت یہ ہے کہ آپ اُس ہستی کی رفیقہء حیات ہیں جو مرتضیٰ بھی ہیں‘ مشکل کشاء بھی ہیں اور شیر خدا بھی ہیں۔ بادشاہ وقت ہوتے ہوئے بھی اُن کا شاہی دربار ایک جھونپڑی پر مشتمل ہے۔
اور یہ خود اِختیاری تھا۔ آپ کی ایک ذوالفقار حیدری اور ایک زرہ کل کائنات تھی۔
حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عزت و عظمت کی تیسری نسبت یہ ہے کہ آپ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں جن میں سے ایک رونقِ عشق اور مرکز رعنائی عشق ہیں اور دوسرے اِسی قافلہ عشقِ الٰہی کے سالار و میرِ کاروان ہیں۔
نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ کو اپنے اہل میں حضرت سیّدہ فاطمة الزہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا سب سے پیاری تھیں۔
جب سفر پر تشریف لے جایا کرتے تھے تو آخیر میں حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی للہ تعالیٰ عنہا سے مل کر جاتے تھے۔ جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملتے۔ حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نسبت نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: خَیْرْ نِسَاءِ ھٰذِہِ الْاْمَّةٍ‘ سَیِّدَةْ النِّسَاءِ الْعَالَمِیْنَ‘ سَیِّدَةْ النِّسَاءِ اَہْلِ الْجَنَّةِ‘ سَیِّدَةْ النِّسَاءِ الْمْوْمِنِیْنَ‘ اَفْضَلْ النِّسَاءِ الْجَنَّةِ۔
صاحبزادیوں میں صرف حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا سے حضور نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ کا سلسلہ نسل جاری ہوا اور قیامت تک رہے گا۔
نبی کریم روٴف ورحیم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت سیّدة فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کبھی ہنستی نہ دیکھی گئیں اور وصال شریف کے چھ ماہ بعد ۳ رمضان المبارک ۱۱ھء میں اِنتقال فرما گئیں۔ حضرت سیّدنا عباس ص نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
جنت البقیع میں رات کے وقت دفن ہوئیں حضرت علی‘ حضرت عباس اور حضرت فضل بن عباس ث نے قبر میں اُتارا۔
حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کی شادی امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا فاروق اعظم سے ہوئی اور حضرت سیّدہ زینب جن کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر ص سے ہوا۔ حضرت سیّدنا محسن اور حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بچپن میں اِنتقال کر گئے۔ آپ کی اَولادِ پاک میں سے سوائے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی کی نسل پاک جاری نہیں ہوئی۔

Your Thoughts and Comments