Madinay Ka Azeem Ghulam

مدینہ کا عظیم غلام

مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے۔ایک تاجراپنے ساتھ ایک غلام کولیے پریشان کھڑا تھا۔غلام جوابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑا پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔۔۔

Madinay Ka Azeem Ghulam
ندیم گلاب
مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے۔ایک تاجراپنے ساتھ ایک غلام کولیے پریشان کھڑا تھا۔غلام جوابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑا پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔ تاجر کاسارا مال اچھے داموں بک گیا تھا بس یہ غلام ہی باقی تھا جسے خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں رکھا رہاتھا۔
تاجر سوچ رہا تھا کہ اس غلام کو خرید کرشایداس لے گھاٹے کاسوداکیا ہے۔اس نے توسوچا تھا کہ اچھا منافع ملے گا لیکن یہاں تو اصل لاگت ملنا بھی دشوار ہورہا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اگریہ غلا پوری قیمت پر بھی بکاتووہ اسے فوراََ بیچ دے گا۔
مدینہ کی ایک لڑکی کی اس غلام پر نظر پڑی تو اس نے تاجر سے پوچھا کہ یہ غلام کتنے کا بیچو گے۔

تاجر نے کہاکہ میں نے اتنے میں لیا ہے اور اتنے کاہی دے دوں گا۔

اس لڑکی نے بچے پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید لیا۔تاجر نے بھی خداکاشکر ادا کیا اور واپسی کے راہ لی۔
مکہ سے ابوحذیفہ مدینہ آئے تو انہیں بھی اس لڑکی کاقصہ معلوم ہوا۔لڑکی کی رحم دلی سے متاثر ہوکر انہوں نے اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جوقبول کرلیا گیا۔یوں واپسی پر وہ لڑکی جس کانام ثہیتہ بخت بعارتھا انکی بیوی بن کر انکے ہمراہ تھی اور وہ غلام بھی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔

ابوحذیفہ مکہ آکر اپنے پرانے دوست عثمان رضی اللہ عنہ ابن عفان سے ملے تو انہیں کچھ بدلا ہواپایا اور اگلے رویت میں سردمہری محسوس کی۔انہوں نے اپنے دوست سے استفسار کیا کہ عثمان یہ سرد مہری کیوں !!۔تو عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان نے جواب دیاکہ میں نے اسلام قبول کرلیاہے اور تم ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے توا ب ہماری دوستی کیسے چل سکتی ہے ۔

ابوحذیفہ نے کہا تو پھر مجھے بھی محمد ﷺ کے پاس لے چلو اور اس اسلام میں داخل کردو جسے تم قبول کرچکے ہو،چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم ﷺکی خدمت میں پیش کیااور وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔پھر آکرانہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تو ان دونوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔
حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ چونکہ تم بھی مسلمان ہوگئے ہواس لیے میں اب تمہیں غلام نہیں رکھ سکتا لہٰذا میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔
غلام نے کہا آقا میرااب اس دنیا میں آپ دونوں کے سواکوئی نہیں۔آپ نے مجھے آزاد کردیا تو میں کہاں جاؤں گا۔حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اپنا بیٹا بنالیا اور اپنے پاس ہی رکھ لیا۔غلام نے قرآن پاک سیکھنا شروع کردیا اور کچھ ہی دنوں میں بہت ساقرآن یادکرلیا۔اور وہ جب قرآن پڑھتے تو بہت خوبصورت لہجے میں پڑھتے۔
ہجرت کے وقت نبی کریم ﷺ سے پہلے جن صحابہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ اور انکایہ لے پالک بیٹا بھی تھا۔
مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کاوقت آیاتو اس غلام کو خوبصورت تلاوت اور سب سے زیادہ قران حفظ ہونے کی وجہ سے انہیں امام چن لیاگیا۔اور انکی امامت میں حجرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی نماز ادا کرتے تھے ۔مدینہ کے یہودیوں نے جب انہیں امامت کرواتے دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ وہی غلام ہے جسے کوئی خریدنے کے لیے تیار نہ تھا۔
آج دیکھو کتنی عزت ملی کہ مسلمانوں کا امام بنا ہواہے۔
اللہ پاک نے انہیں خوش گلواس قدربنایا تھا کہ جب آیات قرآنی تلاوت فرماتے تولوگوں پرایک محویت طاری ہوجاتی اور راہ گیرٹھٹک کرسننے لگتے۔ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺکے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی۔آپ ﷺ نے توبولیں کہ ایک قاری تلاوت کررہا تھا اسکے سننے میں دیر ہوگئی اور خوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ آنحضرت ﷺ خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔
دیکھا تو وہ بیٹھے تلاوت کررہے ہیں ۔آپ ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا : اللہ پاک کاشکر ہے کہ اس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا۔
یہ خوش قسمت صحابی حضرت سالم رضی اللہ عنہ تھے۔انہوں نے جنگ موتہ میں جام شہادت نوش کیا۔اللہ کی کروڑہارحمتیں ہوں ان پر۔

Your Thoughts and Comments