Musa 1300 Qabl Maseeh

موسیٰ علیہ السلام (1300قبل مسیح)

ایک ہی صدی کے بعد ( حضرت ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو ایک سچا پیغمبر تسلیم کیا اور اسلام کے فروغ کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام بھی بشمول مصر تمام مسلم دنیا میں ایک قابل تحسین شخصیت بن گیا۔۔۔

Musa 1300 Qabl Maseeh
محمد عاصم بٹ:
تاریخ میں غالبا عظیم عبرانی پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ کسی دوسرے شخص کی اس قدر وسیع پیمانے پر پذیرائی نہیں ہوئی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت اور پیروکاروں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ یہ امر ترین قیاس ہے کہ تیرھویں صدی میں جب ریمس دوم جو ایک رائے کے مطابق آکسوڈس شہر میں فرعون تھا اور 1237قبل مسیح میں فوت ہوا ‘ موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی ۔
اپنی زندگی کے دوران جیسا کہ کتاب آکسوڈس سے واضح ہے عبرانیوں کے لیے محترم رہا ۔ 500ء تک اس کی شہرت عیسائیت کے ساتھ ساتھ یورپ بھر میں پھیل گئی ۔ ایک ہی صدی کے بعد ( حضرت ) محمد ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کو ایک سچا پیغمبر تسلیم کیا اور اسلام کے فروغ کے ساتھ موسیٰ بھی بشمول مصر تمام مسلم دنیا میں ایک قابل تحسین شخصیت بن گیا۔

آج بتیس صدیوں کی مدت کے بعد موسیٰ علیہ السلام یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے لیے ایک سا مقدس ہے جبکہ لاادریوں ( Agnostics) کی ایک بڑی مقدار بھی اسے عزت دیتی ہے جدید نظام ابلاغ عامہ کا بھلا ہو کہ آج ہم ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر انداز میں اس کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔


موسیٰ علیہ السلام کی اس قدر شہرت کے باوجود اس کی زندگی کے متعلق ہمیں معتبر معلومات حاصل نہیں ہیں ۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے ( جسے بیشتر علماء درست تسلیم نہیں کرتے ) کہ موسیٰ علیہ السلام مصری باشندہ تھا جبکہ اس کا نام عرانی نہیں بلکہ مصری ہے ۔ ( اس کا مطلب بچہ یا بیٹا ہے اور متعدد معروف فراعنہ مصر کے نام کا حصہ بھی ہے ) عہد نامہ قدیم کی موسیٰ سے متعلق حکایات پر اعتماد کرنا مشکل ہے وہ بے شمار معجزات پر مبنی ہیں جیسے جلتی ہوئی راکھ کی حکایات یا موسیٰ علیہ السلام کا اپنے عصاکو سانپ میں بدل دینا۔
یہ اپنی نوعیت میں معجزات ہیں مثلاََ ہر بات ماننے کے لیے آپ کا خوش اعتقاد ہونا ضروری ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جو آکسوڈس دور میں چور اسی برس کا تھا مزید چالیس برس تک عبرانیوں کو لیے صحرا میں مار ا مارا پھر تا رہا بلاشبہ ہمیں یہ جاننے کی خواہش ہے کہ ان تمام اسطور ریات کے بوجھ تلے دبے جانے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اصل کوائف کیا تھے۔

متعدد احباب نے طاعون کی دس باؤں اور بحیرہ احمر کو عبور کرنے سے متعلق انجیل کی کہانیوں کی فطری توضیحات پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاہم موسیٰ علیہ السلام سے متعلق عہد نامہ قدیم کی بیشتر معروف حکایات اسطوریاتی (Mythological) ہیں ۔جن کی دیگر قوموں کی اسطوریات سے گہری مماثلت ہے ۔ مثال کے طورپر موسیٰ علیہ السلام اور دلدلی گھاس والی حکایت کی باہلی اسطورہ سے حیرت انگیز طور پر گہری مماثلت موجود ہے جو عظیم عکادی بادشاہ سارگون سے متعلق ہے اور جس کا دور حکومت 2360سے 2305قبل مسیح بنتا ہے۔

عمومی طور پر موسیٰ سے تین اہم کارنامے منسوب کیے جاتے ہیں ۔ اول اسے ایک سیاسی شخصیت کے طور پرپیش کیا جاتا ہے جس نے عبرانیوں کی مصر سے آکسوڈس تک رہنمائی کی ۔ اس حوالے سے کم ازکم یہ امرتو واضح ہے کہ اسی کے سریہ سہرا بندھنا چاہیے دوئم انجیل کی پہلی پانچ کتابوں ( جینس “آکسوڈس “ لیویٹی کس “ نمبرز “ اور ڈیوونومی “) کی تصنیف اسی سے منسوب کی جاتی ہے ۔
انہیں موسیٰ علیہ السلام کی پانچ کتب کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔ یہ یہودیوں کی توریت کی تشکیل کرتی ہیں ان کتابوں میں موسوی شریعت کا بیان ہے جو قوانین کا مجموعہ ہے ۔جنہوں نے انجیل کے دور میں یہودیوں کے کردار کی نگرانی کی اور جن میں ہی احکامات عشرہ شامل ہیں ۔ ان کے بے انتہا اثرات کے پیش نظر جو توریت نے من حیث المجموع اور دس احکامات بالخصوص لوگوں پر مرتب کیے ان کے مصنف کو ایک عظیم اور بے انتہا متاثر کن فرد تصور کیا جاسکتا ہے ۔
تاہ، انجیل کے متعدد علماء کا متفقہ خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اکیلا ان تما کتابوں کا مصنف نہیں تھا ۔ واضح طور پر یہ کتابیں ایک سے زائد مصنفین کی قلمی کاوش کا نتیجہ ہیں جبکہ اس جملہ مواد کا بیشتر حصہ تو موسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد ضابطہ تحریر میں لایا گیا ۔ ایسا ممکن ہے کہ موسیٰ نے رائج عبرانی رسوم کی تربیت وتدوین یا عبرانی قوانین وضع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہو تاہم ہمارے پاس واقعتا کو ئی ایسا پیمانہ نہیں ہے جس سے اس کے قد کاٹھ کا تعین کیا جا سکے۔

سوم بیشتر لوگ موسیٰ کو یہودی وحدانیت کا بانی قرار دیتے ہیں ۔ ایک اعتبار سے ایسے دعویٰ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ موسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہماری تمام معلومات کا واحد منبع عہد نامہ قدیم جبکہ عہد نامہ قدیم میں بین اور غیر مبہم انداز میں ابراہیم کو واحدانیت کے فلسفہ کا بانی قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام نہ ہوتا تو یہودی وحدانیت دم توڑدیتی ۔
اس نے اس کے تحفظ اور اگلی نسلوں تک اس کے انتقال میں ایک بنیادی کردار ادا کیا اسی حقیقت پر اس کی اہمیت کی بنیاد قائم ہے ۔ جبکہ دنیا کے دو عظیم مذاہب عیسائیت اور اسلام دونوں یہودی وحدانیت کے ہی پروردہ ہیں ایک سچے خدا کا تصور جس پر موسیٰ علیہ السلام کا ایسا گہرا اعتقاد تھا اسی کے سبب دنیا کے بڑے حصے میں مقبول ہوا۔

Your Thoughts and Comments