Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Abu Talib Ko Quraish Ki Dhamki

الرحیق المختوم، ابو طالب کو قریش کی دھمکی

آپﷺ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ تو ابو طالب نے کہا بھتیجے! جاﺅ جو چاہو کہو‘ خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی، کسی بھی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتا

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Abu Talib ko Quraish ki dhamki

اس تجویز کے بعد سرداران قریش ابو طالب کے پاس حاضر ہوئے اور بولے: ابو طالب آپ ہمارے اندر سن و شرف اور اعزاز کے مالک ہیں۔ ہم نے آپ سے گذارش کی کہ اپنے بھتیجے کو روکئے لیکن آپ نے نہیں روکا۔ آپ یاد رکھیں ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے آباﺅاجداد کو گالیاں دی جائیں، ہماری عقل و فہم کو حماقت زدہ قرار دیا جائے اور ہمارے خداﺅں کی عیب چینی کی جائے۔

آپ روک دیجیے ورنہ ہم آپ سے اور ان سے ایسی جنگ چھیڑ دیں گے کہ ایک فریق کا صفایا ہو کر رہے گا۔
ابو طالب پر اس زوردار دھمکی کا بہت زیادہ اثر ہوا اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو بلا کر کہا: بھتیجے تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اب مجھ پر اور خود اپنے آپ پر رحم کرو اور اس معاملے میں مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔


یہ سن کر رسول اللہﷺ نے سمجھا کہ اب آپﷺ کے چچا بھی آپﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ اور وہ بھی آپﷺ کی مدد سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس لیے فرمایا: چچا جان! خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو اس حد تک پہنچائے بغیر چھوڑ دوں کہ یا تو اللہ اسے غالب کر دے یا میں اسی راہ میں فنا ہو جاﺅں تو نہیں چھوڑ سکتا۔

اس کے بعد آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ آپﷺ رو پڑے اور اُٹھ گئے، جب واپس ہونے لگے تو ابو طالب نے پکارا اور سامنے تشریف لائے تو کہا بھتیجے! جاﺅ جو چاہو کہو‘ خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی، کسی بھی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتا۔ اور یہ اشعار کہے:
بخدا وہ لوگ تمہارے پاس اپنی جمعیت سمیت ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن کر دیا جاﺅں، تم اپنی بات کھلم کھلا کہو۔
تم پر کوئی قدعن نہیں، تم خوش ہو جاﺅ اور تمہاری آنکھیں اس سے ٹھنڈی ہو جائیں۔
قریش ایک بات پھر ابو طالب کے سامنے:
پچھلی دھمکی کے باوجود جب قریش نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ اپنا کام کئے جارہے ہیں تو ان کی سمجھ میں آگیا کہ ابو طالب رسول اللہﷺ کو چھوڑ نہیں سکتے بلکہ اس بارے میں قریش سے جدا ہونے اور ان کی عداوت مول لینے کو تیار ہیں چنانچہ وہ لوگ ولید بن مغیرہ کے لڑکے عمارہ کو ہمراہ لے کر ابو طالب کے پاس پہنچے اور ان سے یوں عرض کیا:
اے ابو طالب! یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے، آپ اسے لے لیں، اس روایت اور نصرت کے آپ حقدار ہوں گے۔
آپ اسے اپنا لڑکا بنا لیں۔ یہ آپ کا ہوگا اور آپ اپنے اس بھتیجے کو ہمارے حوالے کر دیں جس نے آپ کے آباؤاجداد کے دین کی مخالفت کی ہے، آپ کی قوم کا شیرازہ منتشر کر رکھا ہے اور ان کی عقلوں کو حماقت سے دوچار بتلایا ہے۔ ہم اسے قتل کریں گے۔ بس ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے۔
ابو طالب نے کہا: خدا کی قسم! کتنا برا سودا ہے جو تم لوگ مجھ سے کہہ رہے ہو! تم اپنا بیٹا مجھے دیتے ہو کہ میں اسے کھلاﺅں پلاﺅں، پالوں پوسوں اور میرا بیٹا مجھ سے طلب کرتے ہو کہ اسے قتل کر دو۔
خدا کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا۔
اس پر نوفل بن عبد مناف کا پوتا مطعم بن عدی بولا: خدا کی قسم! اے ابو طالب! تم سے تمہاری قوم نے انصاف کی بات کہی ہے اور جو صورت تمہیں ناگوار ہے اس سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم ان کی کسی بات کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
جواب میں ابو طالب نے کہا بخدا تم لوگوں نے مجھ سے انصاف کی بات نہیں کی ہے بلکہ تم بھی میرا ساتھ چھوڑ کر میرے مخالف لوگوں کی مدد پر تلے بیٹھے ہو تو ٹھیک ہے جو چاہو کرو۔

سیرت کے مآخذ میں پچھلی دونوں گفتگو کے زمانے کی تعیین نہیں ملتی لیکن قرائن و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں گفتگو سنہ 6 نبوی کے وسط میں ہوئی تھیں اور دونوں کے درمیان فاصلہ مختصر ہی تھا۔
نبیﷺ کے قتل کی تجویز:
ان دونوں گفتگوﺅں کی ناکامی کے بعد قریش کا جذبہ جور و ستم اور بھی بڑھ گیا اور ایذا رسانی کا سلسلہ پہلے سے فزوں تر اور سخت ہوگیا۔
ان ہی دنوں قریش کے سرکشوں کے دماغ میں نبیﷺ کے خاتمے کی ایک تجویز ابھری لیکن یہی تجویز اور یہی سختیاں مکہ کے جانبازوں میں سے دو نادرہٓ روزگار سرفروشوں یعنی حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور ان کے ذریعے اسلام کی تقویت پہچانے کا سبب بن گئیں۔
جور و جفا کے سلسلہ دراز کے ایک دو نمونے یہ ہیں کہ ایک روز ابو لہب کا بیٹا عتیبہ رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور بولا میں وَالنجمِ اِذَا ھَوٰی اور ثُم دَنَا فَتَدَلیٰ کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔
اس کے بعد وہ آپﷺ پر ایذا رسانی کے ساتھ مسلط ہو گیا۔ آپ کا کرتا پھاڑ دیا اور آپﷺ کے چہرے پر تھوک دیا۔ اگرچہ تھوک آپﷺ پر نہ پڑا۔ اسی موقع پر نبیﷺ نے بددعا کی کہ اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے، نبیﷺ کی یہ بددعا قبول ہوئی چنانچہ عتیبہ ایک بار قریش کے کچھ لوگوں کے ہمراہ سفر میں گیا، جب انہوں نے ملک شام کے مقام زرقا میں پڑاؤ ڈالا تو رات کے وقت شیر نے ان کا چکر لگایا۔
عتیبہ نے دیکھتے ہی کہا: ہائے میری تباہی! خدا کی قسم مجھے کھا جائے گا۔ جیسا کہ محمدﷺ نے مجھ پر بددعا کی ہے۔ دیکھو میں شام میں ہوں۔ لیکن اس نے مکہ میں رہتے ہوئے مجھے مار ڈالا۔ احتیاطاً لوگوں نے عتیبہ کو اپنے اور جانوروں کے گھیرے کے بیچوں بیچ سلایا۔ لیکن رات کو شیر سب کو پھلانگتا ہوا سیدھا عتیبہ کے پاس پہنچا۔ اور سر پکڑ کر ذبح کر ڈالا۔

ایک بات عقبہ بن ابی معیط نے رسول اللہﷺ کی گردن حالت سجدہ میں اس زور سے روندی کہ معلوم ہوتا تھا دونوں آنکھیں نکل آئیں گی۔
ابن اسحاق کی ایک طویل روایت سے بھی قریش کے سرکشوں کے اس ارادے پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ نبیﷺ کے خاتمے کے چکر میں تھے، چنانچہ اس روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک بار ابو جہل نے کہا:
برادران قریش! آپ دیکھتے ہیں کہ محمدﷺ ہمارے دین کی عیب چینی ہمارے آباؤاجداد کی بدگوئی، ہماری عقلوں کی تخفیف اور ہمارے معبودوں کی تذلیل سے باز نہیں آتا۔
اس لیے میں اللہ سے عہد کر رہا ہوں کہ ایک بھاری اور بمشکل اُٹھنے والا پتھر لے کر بیٹھوں گا اور جب وہ سجدہ کرے گا تو اسی پتھر سے اس کا سر کچل دوں گا۔ اب اس کے بعد چاہے تم لوگ مجھ کو بے یارومددگار چھوڑ دو، چاہے میری حفاظت کرو۔ اور بنو عبد مناف بھی اس کے بعد جو جی چاہے کریں۔ لوگوں نے کہا: نہیں واللہ ہم تمہیں کبھی کسی معاملے میں بے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتے۔
تم جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو۔
صبح ہوئی تو ابو جہل ویسا ہی ایک پتھر لے کر رسول اللہﷺ کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہﷺ حسب دستور تشریف لائے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ قریش بھی اپنی اپنی مجلسوں میں آ چکے تھے۔ اور ابو جہل کی کارروائی دیکھنے کے منتظر تھے۔ جب رسول اللہﷺ سجدے میں تشریف لے گئے تو ابو جہل نے پتھر اٹھایا۔ پھر آپﷺ کی جانب بڑھا۔
لیکن جب قریب پہنچا تو شکست خوردہ حالت میں واپس بھاگا۔ اس کا رنگ فق تھا اور وہ اس قدر مرعوب تھا کہ اس کے دونوں ہاتھ پتھر پر چیک کر رہ گئے تھے۔ وہ بمشکل ہاتھ سے پتھر پھینک سکا۔ ادھر قریش کے کچھ لوگ اُٹھ کر اس کے پاس آئے اور کہنے لگے ابو الحکم تمہیں کیا ہو گیا ہے؟، اس نے کہا میں نے رات جو بات کہی تھی وہی کرنے جارہا تھا لیکن جب اس کے قریب پہنچا تو ایک اونٹ آڑے آ گیا۔
بخدا میں نے کبھی کسی اونٹ کی ویسی کھوپڑی، ویسی گردن اور ویسے دانت دیکھے ہی نہیں۔ وہ مجھے کھا جانا چاہتا تھا۔
ابن اسحاق کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ جبریل علیہ السلام تھے، اگرابو جہل قریب آتا تو اسے دھر پکڑتے۔
اس کے بعد ابو جہل نے رسول اللہﷺ کے خلاف ایک ایسی حرکت کی جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب بن گئی۔

جہاں تک قریش کے دوسرے بدمعاشوں کا تعلق ہے تو ان کے دلوں میں بھی نبیﷺ کے خاتمے کا خیال برابر پک رہا تھا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو عاص رضی اللہ عنہ سے ابن اسحاق نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک بار مشرکین حطیم میں جمع تھے۔ میں بھی موجود تھا۔ مشرکین نے رسول اللہﷺ کا ذکر چھیڑا اور کہنے لگے اس شخص کے معاملے میں ہم نے جیسا صبر کیا اس کی مثال نہیں۔
درحقیقت ہم نے اس کے معاملے میں بہت بڑی بات پر صبر کیا ہے۔ یہ گفتگو چل رہی تھی کہ رسول اللہﷺ نمودار ہوگئے۔ آپﷺ نے تشریف لاکر پہلے حجر اسود کو چوما، پھر طواف کرتے ہوئے مشرکین کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے کچھ کہہ کر طعنہ زنی کی جس کا اثر میں نے آپﷺ کے چہرے پر دیکھا۔ اس کے بعد جب دوبارہ آپﷺ کا گزر ہوا تو مشرکین نے پھر اسی طرح کی لعن طعن کی۔
میں نے اس کا بھی اثر آپﷺ کے چہرے پر دیکھا۔ اس کے بعد آپﷺ سہ بارہ گزرے تو مشرکین نے پھر آپﷺ پر لعن طعن کی۔ اب کی بار آپﷺ ٹھہر گئے اور فرمایا:
قریش کے لوگو! سن رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس (تمہارے) قتل و ذبح (کا حکم) لے کر آیا ہوں۔
آپﷺ کے اس ارشاد نے لوگوں کو پکڑ لیا، ان پر ایسا سکتہ طاری ہوا کہ گویا ہر آدمی کے سر پر چڑیا ہے۔
یہاں تک کہ جو آپﷺ پر سب سے زیادہ سخت تھا وہ بھی بہتر سے بہتر لفظ جو پا سکتا تھا اس کے ذریعے آپﷺ سے طلب گارِ رحمت ہوتے ہوئے کہنے لگا: ابو القاسم! واپس جائیے، خدا کی قسم آپﷺ کبھی بھی نادان نہ تھے۔
دوسرے دن قریش پھر اسی طرح جمع ہو کر آپﷺ کا ذکر کررہے تھے کہ آپﷺ نمودار ہوئے۔ دیکھتے ہی سب یکجان ہو کر ایک آدمی کی طرح آپﷺ پر پل پڑے اور آپﷺ کو گھیر لیا۔
پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے گلے کے پاس سے آپﷺ کی چادر پکڑ لی۔ (اور بل دینے لگا۔) ابوبکر رضی اللہ عنہ آپﷺ کے بچاﺅ میں لگ گئے۔ وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے۔
ترجمہ: کیا تم لوگ ایک آدمی کو اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ اس کے بعد وہ لوگ آپﷺ کو چھوڑ کر پلٹ گئے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ سب سے سخت ترین ایذا رسانی تھی جو میں نے قریش کو کبھی کرتے ہوئے دیکھی۔

صحیح بخاری میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ان کا بیان مروی ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مشرکین نے نبیﷺ کے ساتھ جو سب سے سخت ترین بدسلوکی کی تھی آپ مجھے اس کی تفصیل بتائیے؟ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ خانہ کعبہ کے پاس حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آگیا۔ اس نے آتے ہی اپنا کپڑا آپﷺ کی گردن میں ڈال کر نہایت سختی کے ساتھ آپﷺ کا گلا گھونٹا۔
اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آ پہنچے۔ اور انہوں نے اس کے دونوں کندھے پکڑ کر دھکا دیا اور اسے نبیﷺ سے دور کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ: تم لوگ ایک آدمی کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے!
حضرت اسما رضی اللہ عنہا کی روایت میں مزید تفصیل ہے کہ حضرت ابو بکر کے پاس یہ چیخ پہنچی کہ اپنے ساتھی کو بچاﺅ۔ وہ جھٹ ہمارے پاس سے نکلے۔ ان کے سر پر چار چوٹیاں تھیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے گئے کہ (ترجمہ) تم لوگ ایک آدمی کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ مشرکین نبیﷺ کو چھوڑ کر ابوبکر پر پل پڑے۔ وہ واپس آئے تو حالت یہ تھی کہ ہم ان کی چوٹیوں کا جو بال بھی چھوتے تھے، وہ ہماری چٹکی کے ساتھ چلا آتا تھا۔

Your Thoughts and Comments