Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Arab Adyan O Mazahib

الرحیق المختوم، عرب ادیان و مذاہب

بَنُو خُزَاعہ کا سردار عَمْرو بن لُخَی ملک شام گیا۔ دیکھا تو وہاں بتوں کی پوجا کی جا رہی تھی۔ وہ اپنے ساتھ ہُیَل بُت بھی لے آیا۔ اور اسے خانہ کعبہ کے اندر نصب کر دیا اور اہل مکہ کو اللہ کے ساتھ شرک کی دعوت دی

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Arab Adyan o Mazahib

عام باشندگان عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔ اس لیے صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے اور توحید پر کاربند تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خدائی درس و نصیحت کا ایک حصہ بھلا دیا۔ پھر بھی ان کے اندر توحید اور کچھ دین ابراہیمی کے شعائر باقی رہے، تاآنکہ بَنُو خُزَاعہ کا سردار عَمْرو بن لُخَی منظرعام پر آیا۔

اس کی نشوونما بڑی نیکوکاری، صدقہ، خیرات اور دینی امور سے گہری دلچسپی پر ہوئی تھی، اس لیے لوگوں نے اسے محبت کی نظر سے دیکھا اور اسے اکابر علماء اور افاضل اولیاء میں سمجھ کر اس کی پیروی کی۔ پھر اس شخص نے ملک شام کا سفر کیا۔ دیکھا تو وہاں بتوں کی پوجا کی جا رہی تھی۔ اس نے سمجھا کہ یہ بھی بہتر اور برحق ہے۔

کیونکہ ملک شام پیغمبروں کی سرزمین اور آسمانی کتابوں کی نزول گاہ تھی۔

چنانچہ وہ اپنے ساتھ ہُیَل بُت بھی لے آیا۔ اور اسے خانہ کعبہ کے اندر نصب کر دیا اور اہل مکہ کو اللہ کے ساتھ شرک کی دعوت دی۔ اہل مکہ نے اس پر لبیک کہا۔ اس کے بعد بہت جلد باشندگان حجاز بھی اہل مکہ کے نقش قدم پر چل پڑے، کیونکہ وہ بیت اللہ کے والی اور حرم کے باشندے تھے۔ اس طرح عرب میں بُت پرستی کا آغاز ہوا۔
ہُبَل کے علاوہ عرب کے قدیم ترین بتوں میں سے مناة ہے۔
یہ بحر احمر کے ساحل پر قُدَید کے قریب مُشَلَّل میں نصب تھا۔ اس کے بعد طائف میں لَات نامی بُت وجود میں آیا۔ پھر وادی نخلہ میں عُزُّی کی تنصیب عمل میں آئی، یہ تینوں عرب کے سب سے بڑے بُت تھے۔ اس کے بعد حجاز کے ہر خطے میں شرک کی کثرت اور بُتوں کی بھرمار ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک جن عَمرو بن لُحَی کے تابع تھا۔ اس نے بتایا کی قوم نوح کے بُت ۔
۔۔ یعنی وَدّ، سُوَاع، یَغُوث، یَعُوْقْ اور نَسْر۔۔۔ جَدّہ میں مدفون ہیں۔ اس اطلاع پر عمرو بن لُحَی جدہ گیا اور ان بتوں کو کھود نکالا۔ پھر انہیں تَہامَہ لایا اور جب حج کا زمانہ آیا تو انہیں مختلف قبائل کے حوالے کیا۔ یہ ان بتوں کو اپنے اپنے علاقوں میں لے گئے۔ اسی طرح ہر ہر قبیلے میں، پھر ہر ہر گھر میں ایک بُت ہو گیا۔
پھر مشرکین نے مسجد حرام کو بھی بتوں سے بھر دیا چنانچہ جب مکہ فتح کیا گیا تو بیت اللہ کے گردا گرد تین سو ساٹھ بُت تھے جنہیں خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے توڑا۔
آپ ہر ایک کو چھڑی سے ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور وہ گرتا جاتا تھا۔ پھر آپﷺنے حکم دیا اور ان سارے بتوں کو مسجد حرام سے باہر نکال کر جلا دیا گیا۔
غرض شرک اور بت پرستی اہل جاہلیت کے دین کا سب سے بڑا مظہر بن گئی تھی جنہیں گھمنڈ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہیں۔
پھر اہل جاہلیت کے یہاں بت پرستی کے کچھ خاص طریقے اور مراسم بھی رائج تھے جو زیادہ تر عمرو بن لُحَیْ کی اختراع تھے۔
اہل جاہلیت سمجھتے تھے کہ عمرو بن لُحَی کی اختراعات دین ابراہیمی علیہ السلام میں تبدیلی نہیں بلکہ بدعتِ حسنہ ہیں۔ ذیل میں ہم اہل جاہلیت کے اندر رائج بُت پرستی کے چند اہم مراسم کا ذکر کررہے ہیں:
۱۔ دور جاہلیت کے مشرکین بتوں کے پاس مجاور بن کر بیٹھتے تھے، ان کی پناہ ڈھونڈتے تھے، انہیں زور زور سے پُکارتے تھے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے ان سے فریاد اور التجائیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اللہ سے سفارش کرکے ہماری مراد پوری کرا دیں گے۔

۲۔ بتوں کا حج و طوائف کرتے تھے، ان کے سامنے عجز و نیاز سے پیش آتے تھے اور انہیں سجدہ کرتے تھے۔
۳۔ بتوں کے لیے نذرانے اور قربانیاں پیش کرتے اور قربانی کے ان جانوروں کو کبھی بتوں کے آستانوں پر لے جا کر ذبح کرتے تھے اور کبھی کسی بھی جگہ ذبح کر لیتے تھے مگر بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ ذبح کی ان دونوں صورتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں کیا ہے۔
ارشاد ہے:
ترجمہ:
”یعنی وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر ذبح کیے گئے ہوں“
دوسری جگہ ارشاد ہے:
ترجمہ:
”یعنی اُس جانور کا گوشت مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو“
۴۔ بتوں سے تقّرب کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ مشرکین اپنی صوابدید کے مطابق اپنے کھانے پینے کی چیزوں اور اپنی کھیتی اور جو پائے کی پیداوار کا ایک حصہ بتوں کے لیے خاص کر دیتے تھے۔
اس سلسلے میں ان کا دلچسپ رواج یہ تھا کہ وہ اللہ کے لیے بھی اپنی کھیتی اور جانوروں کی پیداوار کا ایک حصہ خاص کرتے تھے۔ پھر مختلف اسباب کی بنا پر اللہ کا حصہ تو بتوں کی طرف منتقل کر سکتے تھے لیکن بتوں کا حصہ کسی بھی حال میں اللہ کی طرف منتقل نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:
”اللہ نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کئے ہیں اس کا ایک حصہ انہوں نے اللہ کے لیے مقرر کیا اور کہا یہ اللہ کے لیے ہے۔
۔۔ ان کے خیال میں۔۔۔۔ اور یہ ہمارے شرکاء کیلئے ہے، تو جو ان کے شرکاء کے لیے ہوتا ہے وہ تو اللہ تک نہیں پہنچتا (مگر) جو اللہ کے لیے ہوتا ہے وہ ان کے شرکاء تک پہنچ جاتا ہے۔ کتنا بُرا ہے وہ فیصلہ جو یہ لوگ کرتے ہیں۔“
۵۔ بتوں کے تقرب کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ مشرکین کھیتی اور چوپائے کے اندر مختلف قسم کی نذریں مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:
”ان مشرکین نے کہا یہ چوپائے اور کھیتیاں ممنوع ہیں۔
انہیں وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں ۔۔۔۔۔ ان کے خیال میں ۔۔۔۔۔ اور یہ وہ چوپائے ہیں جن کی پیٹھ حرام کی گئی ہے (نہ ان کی سواری کی جا سکتی ہے نہ سامان لادا جا سکتا ہے) اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن پر یہ لوگ اللہ پر افتراء کرتے ہُوئے ۔۔۔۔۔۔ اللہ کا نام نہیں لیتے۔“
۶۔ ان ہی جانوروں میں بَحِیْرہَ، سائِبَہ، وَصِیْلہَ اور حامی تھے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بَحِیْرہَ، سائِبَہ کی بچی کو کہا جاتا ہے اور سائبہ اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس سے دس بار پے دَر پے ماَدَہ بچے پیدا ہوں، درمیان میں کوئی نَر نہ پیدا ہو۔
ایسی اونٹنی کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، اس پر سواری نہیں کی جاتی تھی، اس کے بال نہیں کاٹے جاتے تھے، اور مہمان کے سوا کوئی اس کا دودھ نہیں پیتا تھا۔
اس کے بعد یہ اونٹنی جو مادہ بچہ جنتی اس کا کان چیر دیا جاتا اور اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ اس پر سواری نہ کی جاتی، اس کا بال نہ کاٹا جاتا اور مہمان کے سوا اس کا دودھ نہ پیتا۔
یہی بَحیرہ ہے اور اس کی ماں سائِبہ ہے۔
وصِیْلَہ اُس بکری کو کہا جاتا تھا جو پانچ دفعہ پے در پے دو دو مادہ بچے جنتی (یعنی پانچ بار میں دس مادہ بچے پیدا ہوتے) درمیان میں کوئی نَر نہ پیدا ہوتا۔ اس بکری کو اس لیے وصیلہ کہا جاتا تھا کہ وہ سارے مادہ بچوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی تھی۔ اس کے بعد اس بکری سے جو بچے پیدا ہوتے انہیں صرف مرد کھا سکتے تھے عورتیں نہیں کھا سکتی تھیں۔
البتہ اگر کوئی بچہ مُردہ پیدا ہوتا تو اس کو مرد عورت سبھی کھا سکتے تھے۔ حَامی اس نَر اونٹ کو کہتے تھے جس کی جُفتیِ سے پے در پے دس مادہ بچے پیدا ہوتے، درمیان میں کوئی نَر نہ پیدا ہوتا۔ ایسے اونٹ کی پیٹھ محفوظ کر دی جاتی تھی۔ نہ اس پر سواری کی جاتی تھی، نہ اس کا بال کاٹا جاتا تھا۔ بلکہ اسے اونٹوں کے ریوڑ میں جُفتی کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔
اور اس کے سوا اس سے کوئی دوسرا فائدہ نہ اٹھایا جاتا تھا۔ دور جاہلیت کی بُت پرستی کے ان طریقوں کی تردید کرتے ہُوئے اللہ تعالی نے فرمایا:
ترجمہ:
”اللہ نے نہ کوئی بحیرہ، نہ کوئی سائبہ نہ کوئی وصیلہ اور نہ کوئی حامی بنایا ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔“
ایک دوسری جگہ فرمایا: ترجمہ:
”ان (مشرکین) نے کہا کہ ان چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے البتہ اگر وہ مردہ ہو تو اس میں مرد عورت سب شریک ہیں۔

چوپایوں کی مذکورہ اقسام یعنی بحیرہ، سائبہ وغیرہ کے کچھ دوسرے مطالب بھی بیاں کئے گئے ہیں، جو ابن اسحاق کی مذکورہ اقسام تفسیر سے قدرے مختلف ہیں۔
حضرت سعید بن مُسَیب رحمتہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ جانور ان کے طاغوتوں کے لیے تھے۔ اور صحیح بخاری میں مرفوعاً مروی ہے کہ عمرو بن لُحی پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے۔

عرب اپنے بتوں کے ساتھ یہ سب کچھ اس عقیدے کے ساتھ کرتے تھے کہ یہ بُت انہیں اللہ کے قریب کر دیں گے اور اللہ کے حضور ان کی سفارش کر دیں گے۔ چنانچہ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ مشرکین کہتے تھے: ترجمہ:
”ہم ان کی عبادت محض اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔“
”یہ مشرکین اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ نفع پہنچا سکیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔

مشرکین عرب اَزْلَام یعنی فال کے تیر بھی استعمال کرتے تھے۔ (اَزْلَام، زَلَم کی جمع ہے اور زَلَم اُس تیر کو کہتے ہیں جس میں پَر نہ لگے ہوں) فال گیری کے لیے استعمال ہونے والے یہ تیر تین قسم کے ہوتے تھے۔ ایک وہ جن پر صرف‘”ہاں“ یا ”نہیں“ لکھا ہوتا تھا۔ اس قسم کے تیر سفر اور نکاح وغیرہ جیسے کاموں کے لیے استعمال کئے جاتے تھے۔
اگر فال میں ”ہاں“ نکلتا تو مطلوبہ کام کر ڈالا جاتا، اگر ”نہیں“ نکلتا تو سال بھر کے لیے ملتوی کر دیا جاتا اور آئندہ پھر فال نکالی جاتی۔
فال گیری کے تیروں کی دُوسری قسم وہ تھی جن پر پانی اور دِیَت وغیرہ درج ہوتے تھے اور تیسری قسم وہ تھی جس پر یہ درج ہوتا تھا کہ ”تم میں سے ہے“ یا ”تمہارے علاوہ سے ہے یا ”ملحق “ ہے۔
ان تیروں کا مصرف یہ تھا کہ جب کسی کے نسب میں شبہ ہوتا تھا تو اسے ایک سو اونٹوں سمیت ہُبَل کے پاس لے جاتے، اونٹوں کو تیر والے مَہَنت کے حوالے کرتے اور وہ تمام تیروں کو ایک ساتھ ملا کر گھماتا جھنجھوڑتا، پھر ایک تیر نکالتا۔ اب اگر یہ نکلتا کہ ”تم میں سے ہے“ تو وہ ان کے قبیلے کا ایک معزز فرد قرار پاتا اور اگر یہ برآمد ہوتا کہ ”تمہارے غیر سے ہے“ تو حلیف قرار پاتا اور اگر یہ نکلتا کہ ”ملحق“ ہے تو ان کے اندر اپنی حیثیت پر برقرار رہتا، نہ قبیلے کا فرد مانا جاتا نہ حلیف۔

اسی سے ملتا جلتا ایک رواج مشرکین میں جُوا کھیلنے اور جُوئے کے تیر استعمال کرنے کا تھا۔ اسی تیر کی نشاندہی پر وہ جُوئے کا اُونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت بانٹتے تھے۔ (اس کا طریقہ یہ تھا کہ جُوا کھیلنے والے ایک اونٹ ذبح کر کے اسے دس یا اٹھائیس حصوں پر تقسیم کرتے۔ پھر تیروں سے قرعہ اندازی کرتے۔ کسی تیر پر جیت کا نشان ہوتا۔ جس کے نام پر جیت کے نشان والا تیر نکلتا وہ تو کامیاب مانا جاتا اور اپنا حصہ لیتا اور جس کے نام پر بے نشان تیر نکلتا اسے قیمت دینی پڑتی)
مشرکین عرب کاہنوں،عَراْفوں اور نجومیوں کی خبروں پر بھی ایمان رکھتے تھے۔
کاہن اسے کہتے ہیں جو آنے والے واقعات کی پیش کوئی کرے اور راز ہائے سر بستہ سے واقفیت کا دعویدار ہو۔ بعض کاہنوں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ایک جن ان کے تابع ہے جو انہیں خبریں پہنچاتا رہتا ہے، اور بعض کاہن کہتے تھے کہ انہیں ایسا فہم عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ غیب کا پتا لگا لیتے ہیں۔ بعض اس بات کے مدّعی تھے کہ جو آدمی ان سے کوئی بات پوچھنے آتا ہے اس کے قول و فعل سے یا اس کی حالت سے کچھ مقدمات اور اسباب کے ذریعے وہ جائے واردات کا پتا لگا لیتے ہیں۔
اس قسم کے آدمی کو عَرّاف کہا جاتا تھا۔ مثلاً وہ شخص جو چوری کے مال، چوری کی جگہ اور گم شدہ جانور وغیرہ کا پتا ٹھکانا بتاتا۔
نجومی اسے کہتے ہیں جو تاروں پر غور کر کے اور ان کی رفتار و اوقات کا حساب لگا کر پتا لگاتا ہے کہ دنیا میں آئندہ کیا حالات و واقعات پیش آئیں گے۔ ان نجومیوں کی خبروں کا ماننا درحقیقت تاروں ہر ایمان لانا ہے اور تاروں پر ایمان لانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ مشرکین عرب نَچھَتَّروں پر ایمان رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم پر فلاں اور فلاں نَچھَتَّر سے بارش ہوئی ہے۔

مشرکین میں بدشگونی کا بھی رواج تھا۔ اسے عرب میں طِیَرة کہتے ہیں، اس کی صورت یہ تھی کہ مشرکین کسی چڑیا یا ہرن کے پاس جا کر اسے بھگاتے تھے۔ پھر اگر وہ داہنے جانب بھاگتا تو اسے اچھائی اور کامیابی کی علامت سمجھ کر اپنا کام کر گزرتے اور اگر بائیں جانب بھاگتا تو اسے نحوست کی علامت سمجھ کر اپنے کام سے باز رہتے۔ اس طرح اگر کوئی چڑیا یا جانور راستہ کاٹ دیتا تو اسے بھی منحوس سمجھتے۔
اس سے ملتی جلتی ایک حرکت یہ بھی تھی کہ مشرکین خرگوش کے ٹخنے کی ہڈی لٹکاتے تھے اور بعض دنوں مہینوں،جانوروں، گھروں اور عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے۔ بیماریاں کی چھوت کے قائل تھے اور رُوح کے اُلو بن جانے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک مقتول کا بدلہ نہ لیا جائے اس کو سکون نہیں ملتا اور اس کی رُوح اُلُو بن کر بیابانوں میں گردش کرتی رہتی ہے اور ”پیاس، پیاس“ یا ”مجھے پلاؤ۔ مجھے پلاؤ“ کی صدا لگاتی رہتی ہے۔ جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو اسے راحت اور سکون مل جاتا ہے۔

(پچھلا مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

Your Thoughts and Comments