Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Gham Ka Saal

الرحیق المختوم، غم کا سال

ابو طالب کی وفات کے بعد مشرکین کی جسارت بڑھ گئی اور وہ کھل کر آپﷺ کو اذیت اور تکلیف پہنچانے لگے

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Gham ka saal

ابو طالب کی وفات:
ابو طالب کا مرض بڑھتا گیا اور بالآخر وہ انتقال کر گئے۔ ان کی وفات شعب ابی طالب کی محصوری کے خاتمے کے چھ ماہ بعد رجب 10 نبوی میں ہوئی. (سیرت کے مآخذ میں بڑا اختلاف ہے کہ ابو طالب کی وفات کس مہینے میں ہوئی ہم نے رجب کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ بیشتر مآخذ کا اتفاق ہے کہ ان کی وفات شعب ابی طالب سے نکلنے کے چھ ماہ بعد ہوئی۔

اور محصوری کا آغاز محرم 7 نبوی کی چاند رات سے ہوا تھا۔ اس حساب سے ان کی موت کا زمانہ رجب 10 نبوی ہی ہوتا ہے) ایک قول یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفات سے صرف تین دن پہلے ماہ رمضان میں وفات پائی۔
صحیح بخاری میں حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو نبیﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے۔

وہاں ابوجہل موجود تھا۔

آپﷺ نے فرمایا چچا جان: آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیجیے، بس ایک کلمہ جس کے ذریعے میں اللہ کے پاس آپﷺ کے لیے حجت پیش کر سکوں گا، ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا: ابو طالب! کیا عبدالمطلب کی ملت سے رخ پھیر لو گے؟ پھر یہ دونوں برابر ان سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو ابو طالب نے لوگوں سے کہی یہ تھی کہ "عبدالمطلب کی ملت پر"۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں جب تک آپ سے روک نہ دیا جاﺅں آپ کے لیے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ترجمہ: ”نبی ﷺ اور اہل ایمان کے لیے درست نہیں کہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ لوگ جہنمی ہیں۔“
اور یہ آیت بھی نازل ہوئی:
ترجمہ: ”آپ جسے پسند کریں ہدایت نہیں دے سکتے۔“
یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابو طالب نے نبی ﷺ کی کس قدر حمایت و حفاظت کی تھی۔
وہ درحقیقت مکے کے بڑوں اور احمقوں کے حملوں سے اسلامی دعوت کے بچاﺅ کے لیے ایک قلعہ تھے۔ لیکن وہ بذات خود اپنے بزرگ آباﺅاجداد کی ملت پر قائم رہے اس لیے مکمل کامیابی نہ پا سکے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا: آپﷺ اپنے چچا کے کیا کام آسکے؟ کیونکہ وہ آپﷺ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے (دوسروں پر) بگڑتے (اور ان سے لڑائی مول لیتے) تھے۔
آپ نے فرمایا: وہ جہنم کی ایک پھچھلی جگہ میں ہیں۔ اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے گہرے کھڈ میں ہوتے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک بار نبیﷺ کے پاس آپ کے چچا کا تذکرہ ہوا تو آپﷺ نے فرمایا: ممکن ہے قیامت کے دن انہیں میری شفاعت فائدہ پہنچا دے اور انہیں جہنم کی ایک کم گہری جگہ میں رکھ دیا جائے کہ آگ صرف ان دونوں ٹخنوں تک پہنچ سکے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جوار رحمت میں:
جناب ابوطالب کی وفات کے دو ماہ بعد یا صرف تین دن بعد۔۔۔۔علی اختلاف الاقوال ۔۔۔۔ حضرت ام المومنین خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا بھی رحلت فرما گئیں۔ ان کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہ رمضان میں ہوئی۔ اس وقت وہ 65 برس کی تھیں اور رسول اللہ اپنی عمر کی پچاسویں منزل میں تھے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہﷺ کے لیے اللہ تعالی کی بڑی گراں قدر نعمت تھیں۔
وہ ایک چوتھائی صدی آپﷺ کی رفاقت میں رہیں اور اس دوران رنج و قلق کا وقت آتا تو آپﷺ کے لیے تڑپ اٹھتیں، سنگین اور مشکل ترین حالات میں آپﷺ کو قوت پہنچاتیں، تبلیغ رسالت میں آپ کی مدد کرتیں اور اس تلخ ترین جہاد کی سختیوں میں آپﷺ کی شریک کار رہتیں اور اپنی جان و مال سے آپﷺ کی خیر خواہی و غمگساری کرتیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، جس وقت لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا وہ مجھ پر ایمان لائیں، جس وقت لوگوں نے مجھے جھٹلایا انہوں نے میری تصدیق کی، جس وقت لوگوں نے مجھے محروم کیا انہوں نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی اور دوسری بیویوں سے کوئی اولاد نہ دی۔

صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺ! یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تشریف لارہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے، جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے، جب وہ آپ ﷺ کے پاس آ پہنچیں تو آپﷺ انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں، جس میں نہ شوروشغب ہوگا نہ درماندگی و تکان۔

غم ہی غم:
یہ دونوں الم انگیز حادثے صرف چند دنوں کے دوران پیش آئے۔ جس سے نبیﷺ کے دل میں غم و الم کے احساسات موجزن ہو گئے اور اس کے بعد قوم کی طرف سے بھی مصائب کا طومار بندھ گیا کیونکہ ابو طالب کی وفات کے بعد ان کی جسارت بڑھ گئی اور وہ کھل کر آپﷺ کو اذیت اور تکلیف پہنچانے لگے۔ اس کیفیت نے آپﷺ کے غم و الم میں اور اضافہ کر دیا۔
آپﷺ نے ان سے مایوس ہوکر طائف کی راہ لی کہ ممکن ہے وہاں لوگ آپﷺ کی دعوت قبول کر لیں، آپﷺ کو پناہ دیں اور آپﷺ کی قوم کے خلاف آپﷺ کی مدد کریں، لیکن وہاں نہ کوئی پناہ دہندہ ملا نہ مددگار، بلکہ الٹے انہوں نے سخت اذیت پہنچائی اور ایسی بدسلوکی کہ خود آپﷺ کی قوم نے ویسی بدسلوکی نہ کی تھی۔
یہاں اس بات کا اعادہ بے محل نہ ہوگا کہ اہل مکہ نے جس طرح نبیﷺ کے خلاف ظلم و جور کا بازار گرم کر رکھا تھا اسی طرح وہ آپﷺ کے رفقا کے خلاف بھی ستم رانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، چنانچہ آپﷺ کے ہمدم و ہمراز ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور حبشہ کے ارادے سے تن بہ تقدیر نکل پڑے۔
لیکن برک غماد پہنچے تو ابن وغنہ سے ملاقات ہوگئی اور وہ اپنی پناہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو مکہ واپس لے آیا۔ (اکبر شاہ نجیب آبادی نے صراحت کی ہے کہ یہ واقعہ اسی سال پیش آیا تھا)
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب ابو طالب انتقال کرگئے تو قریش نے رسول اللہﷺ کو ایسی اذیت پہنچائی کہ ابو طالب کی زندگی میں کبھی اس کی آرزو بھی نہ کرسکے تھے حتیٰ کہ قریش کے ایک احمق نے سامنے آکر آپﷺ کے سر پر مٹی ڈال دی۔
آپﷺ اسی حالت میں گھر تشریف لائے۔ مٹی آپﷺ کے سر پر پڑی ہوئی تھی۔ آپﷺ کی ایک صاحبزادی نے اُٹھ کر مٹی دھوئی۔ وہ دھوتے ہوئے روتی جارہی تھیں اور رسول اللہﷺ انہیں تسلی دیتے ہوئے فرماتے جارہے تھے! بیٹی! روﺅ نہیں، اللہ تمہارے ابا کی حفاظت کرے گا۔ اس دوران آپﷺ یہ بھی فرماتے جا رہے تھے کہ قریش نے میرے ساتھ کوئی ایسی بدسلوکی نہ کی جو مجھے ناگوار گزری ہو یہاں تک کہ ابو طالب کا انتقال ہوگیا۔

اس طرح کے پے در پے آلام و مصائب کی بنا پر رسول اللہﷺ نے اس سال کا نام عام الحزن یعنی غم کا سال رکھ دیا اور یہ سال اسی نام سے تاریخ میں مشہور ہوگیا۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے شادی:
اسی سال ۔۔۔۔۔ شوال 10 نبوت ۔۔۔۔۔ میں رسول اللہﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ یہ ابتدائی دور میں مسلمان ہوگئی تھیں اور دوسری ہجرت حبشہ کے موقع پر ہجرت بھی کی تھی۔
ان کے شوہر کا نام سکران رضی اللہ عنہا بن عمرو تھا۔ وہ بھی قدیم الاسلام تھے اور حضرت سودہ نے انہیں کی رفاقت میں حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی لیکن وہ حبشہ ہی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ مکہ واپس آکر انتقال کرگئے، اس کے بعد جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی عدت ختم ہوگئی تو نبیﷺ نے ان کو شادی کا پیغام دیا۔ اور پھر شادی ہوگئی۔ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد پہلی بیوی ہیں جن سے رسول اللہﷺ نے شادی کی۔ چند برس بعد انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی۔

Your Thoughts and Comments