Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Mahaz Arai Kay Mukhtalif Andaz

الرحیق المختوم، محاذ آرائی کے مختلف انداز

مشرکین کی کوشش تھی کہ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے جا ملیں یعنی کچھ لو کچھ دو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض باتیں نبیﷺ چھوڑ دیں

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Mahaz arai kay mukhtalif andaz

جب قریش نے دیکھا کہ محمد ﷺ کو تبلیغ دین سے روکنے کی حکمت کارگر نہیں ہورہی ہے تو ایک بار پھر انہوں نے غور و خوض کیا اور آپﷺ کی دعوت کا قلع قمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کئے جن کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔ ہنسی، ٹھٹھا، تحقیر، استہزاد اور تکذیب، اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بددل کر کے ان کے حوصلے توڑ دئیے جائیں۔ اس کے لیے مشرکین نے نبیﷺ کو ناروا تہمتوں اور بیہودہ گالیوں کا نشانہ بنایا۔


چنانچہ وہ کبھی آپﷺ کو پاگل کہتے جیسا کہ ارشاد ہے:
ترجمہ:”ان کفار نے کہا کہ اے شخص جس پر قرآن نازل ہوا تو یقیناً پاگل ہے۔“
اور کبھی آپﷺ پر جادوگر اور جھوٹے ہونے کا الزام لگاتے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
”انہیں حیرت ہے کہ خود انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافرین کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے۔


یہ کفار آپ کے آگے پیچھے منتقمانہ نگاہوں اور بھڑکتے ہوئے جذبات کے ساتھ چلتے تھے۔

ارشاد ہے:
ترجمہ:”اور جب کفار اس قرآن کو سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپﷺ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یقیناً پاگل ہے۔ “
اور جب آپﷺ کسی جگہ تشریف فرما ہوتے اور آپ کے ارد گرد کمزور اور مظلوم صحابہ کرام موجود ہوتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزاد کرتے ہوئے کہتے:
ترجمہ:”اچھا! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان سے احسان فرمایا۔

جو اباًاللہ کا ارشاد ہے:
”کیا اللہ شکر گزاروں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا۔ “
عام طور پر مشرکین کی کیفیت وہی تھی جس کا نقشہ ذیل کی آیات میں کھینچا گیا ہے:
”جو مجرم تھے وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مارتے تھے اور جب اپنے گھروں کو پلٹتے تو لطف اندوز ہوتے ہوئے پلٹتے تھے۔
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہی گمراہ ہیں، حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔“
2۔ محاذآرائی کی دوسری صورت
آپ کی تسلیمات کو مسخ کرنا، شکوک و شہبات پیدا کرنا، جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا، تعلیمات سے لے کر شخصیت تک کو واہیات اعتراض کا نشانہ بناتا اور یہ سب اس کثرت سے کرنا کہ عوام کو آپﷺ کی دعوت و تبلیغ پر غور کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔
چنانچہ مشرکین قرآن کے متعلق کہتے تھے:
”یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں آپﷺ نے لکھوا لیا ہے۔ اب یہ آپﷺ پر صبح و شام تلاوت کئے جاتے ہیں۔“
”یہ محض جھوٹ ہے جسے اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی اعانت کی ہے۔“
مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ
یہ قرآن تو آپ کو ایک انسان سکھاتا ہے۔“
رسول اللہﷺ پر ان کا اعتراض یہ تھا:
یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے۔
اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے!
قرآن شریف کے بہت سے مقامات پر مشرکین کا رد بھی کیا گیا ہے کہیں اعتراض نقل کر کے اور کہیں نقل کے بغیر۔
محاذ آرائی کی تیسری صورت
پہلوں کے واقعات اور افسانوں سے قرآن کا مقابلہ کرنا اور لوگوں کو اسی میں الجھائے اور پھنسائے رکھنا۔ چنانچہ نصیر بن حارث کا واقعہ ہے کہ اس نے ایک بار قریش سے کہا: قریش کے لوگو! خدا کی قسم تم پر ایسی افتاد آن پڑی ہے کہ تم لوگ اب تک اس کا کوئی توڑ نہیں لا سکے۔
محمدﷺ تم میں جوان تھے تو تمہارے سب سے پسندیدہ آدمی تھے۔ یہ سب سے زیادہ سچے اور سب سے بڑھ کر امانت دار تھے۔ اب جبکہ ان کی کنپٹیوں پر سفیدی دکھائی پڑنے کو ہے (یعنی ادھیڑ ہو چلے ہیں) اور وہ تمہارے پاس کچھ باتیں لے کر آئے ہیں تو تم کہتے ہو کہ وہ جادوگر ہیں! نہیں بخدا وہ جادوگر نہیں۔ ہم نے جادوگر دیکھے ہیں۔ ان کی جھاڑ پھونک اور گرہ بندی بھی دیکھی ہے۔
اور تم لوگ کہتے ہو وہ کاہن ہیں۔ نہیں، بخدا وہ کاہن بھی نہیں۔ ہم نے کاہن بھی دیکھے ہیں، ان کی الٹی سیدھی حرکتیں بھی دیکھی ہیں اور ان کی فقرہ بندیاں بھی سنی ہیں۔ تم لوگ کہتے ہو وہ شاعر ہیں۔ نہیں بخدا وہ شاعر بھی نہیں۔ ہم نے شعر بھی دیکھا ہے اور اس کے سارے اصناف ہجز، رجز، وغیرہ سنے ہیں۔ تم لوگ کہتے ہو وہ پاگل ہیں۔ نہیں، بخدا وہ پاگل بھی نہیں۔
ہم نے پاگل پن بھی دیکھا ہے۔ یہاں نہ اس طرح کی گھٹن ہے نہ ویسی بہکی بہکی باتیں اور نہ ان کے جیسی فریب کارانہ گفتگو۔ قریش کے لوگو! سوچو! خدا کی قسم تم پر زبردست افتاد آن پڑی ہے۔‘
اس کے بعد نضر بن حارث حیرہ گیا، وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم و اسفند یار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہﷺ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپﷺ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتا کہ بخدا! محمدﷺکی باتیں مجھ سے بہتر نہیں۔

اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں اور رستم و اسفند یار کے قصے سناتا، پھر کہتا: آخر کس بناء پر محمد (ﷺ) کی بات مجھ سے بہتر ہے۔
ابن عباس کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نضر نے چند لونڈیاں خرید رکھی تھیں اور جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبیﷺ کی طرف مائل ہے تو اس پر ایک لونڈی مسلط کر دیتا، جو اسے کھلاتی پلاتی اور گانے سناتی یہاں تک کہ اسلام کی طرف اس کا جھکاﺅ باقی نہ رہ جاتا۔
اسی سلسلے میں یہ ارشاد الہٰی نازل ہوا:
ترجمہ: کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔“
محاذ آرائی کی چوتھی صورت
سودے بازیاں جن کے ذریعے مشرکین کی یہ کوشش تھی کہ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے جا ملیں یعنی کچھ لو کچھ دو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض باتیں نبیﷺ چھوڑ دیں۔
قرآن پاک میں اسی کے متعلق ارشاد ہے:
ترجمہ:”وہ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑ جائیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔“
چنانچہ ابن حریر اور طبرانی کی ایک روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہﷺ کو یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپﷺ ان کے معبودوں کی پوجا کیا کریں اور ایک سال وہ آپﷺ کے رب کی عبادت کیا کریں گے۔ عبد بن حُمید کی ایک روایت اس طرح ہے کہ مشرکین نے کہا اگر آپﷺ ہمارے معبودوں کو قبول کر لیں تو ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت کریں گے۔

ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اسود بن مطلب بن اسد بن عبد العزیٰ، ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف اور عاص بن وائل سہمی آپﷺ کے سامنے آئے، یہ سب اپنی قوم کے بڑے لوگ تھے۔ بولے اے محمدﷺ! آﺅ جسے تم پوجتے ہو اسے ہم بھی پوجیں اور جسے ہم پوجتے ہیں اسے تم پوجو۔ اس طرح ہم اور تم اس کام میں مشترک ہو جائیں۔ اب اگر تمہارا معبود ہمارے معبود سے بہتر ہے تو ہم اس سے اپنا حصہ حاصل کر چکے ہوں گے۔
اور اگر ہمارا معبود تمہارے معبود سے بہتر ہوا تو تم اس سے اپنا حصہ حاصل کر چکے ہو گے۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے پوری سورہ قُل یایھا الکٰفرون نازل فرمائی، جس میں اعلان کیا گیا کہ جسے تم لوگ پوجتے ہو اسے میں نہیں پوج سکتا۔ اور اس فیصلہ کن جواب کے ذریعے ان کی مضحکہ خیز گفت و شنید کی جڑ کاٹ دی گئی۔ روایتوں میں اختلاف غالباً اس لیے ہے کہ اس سودے بازی کی کوشش بار بار کی گئی۔

ظلم و جور
4 نبوت میں جب پہلی بار اسلامی دعوت منظر عام پر آئی تو مشرکین نے اسے دبانے کے لیے وہ کارروائیاں انجام دیں جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یہ کارروائیاں تھوڑی تھوڑی اور درجہ بدرجہ عمل میں لائی گئیں اور ہفتوں بلکہ مہینوں مشرکین نے اس سے آگے قدم نہیں بڑھایا اور ظلم و زیادتی شروع نہیں کی لیکن جب دیکھا کہ یہ کارروائیاں اسلامی دعوت کی راہ روکنے میں موثر ثابت نہیں ہو رہی ہیں تو ایک بار پھر جمع ہوئے اور 25 سرداران قریش کی ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا سربراہ رسول اللہﷺ کا چچا ابو لہب تھا۔
اس کمیٹی نے باہمی مشورے اور غور و خوض کے بعد رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف ایک فیصلہ کن قرارداد منظور کی۔ یعنی یہ طے کیا کہ اسلام کی مخالفت، پیغمبر اسلام کی ایذا رسانی اور اسلام لانے والوں کو طرح طرح کے جور و ستم اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔
مشرکین نے یہ قرارداد طے کر کے اسے رو بہ عمل لانے کا عزم مصم کر لیا۔
مسلمانوں اور خصوصاً کمزور مسلمانوں کے اعتبار سے تو یہ کام بہت آسان تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ کے لحاظ سے بڑی مشکلات تھیں۔ آپﷺ ذاتی طور پر پرشکوہ، باوقار اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ دوست دشمن سبھی آپﷺ کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے تھے۔ آپﷺ جیسی شخصیت کا سامنا اکرام و احترام ہی سے کیا جا سکتا تھا اور آپﷺ کے خلاف کسی نیچ اور ذلیل حرکت کی جرات کوئی رذیل اور احمق ہی کر سکتا تھا۔
اس ذاتی عظمت کے علاوہ آپﷺ کو ابو طالب کی حمایت و حفاظت بھی حاصل تھی اور ابو طالب مکے کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذاتی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اتنے باعظمت تھے کہ کوئی شخص ان کا عہد توڑنے اور ان کے خانوادے پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔ اس صورت حال نے قریش کو سخت قلق، پریشانی اور کشمکش سے دوچار کر رکھا تھا۔
مگر سوال یہ ہے کہ جو دعوت ان کی مذہبی پیشوائی اور دنیاوی سربراہی کی جڑ کاٹ دینا چاہتی تھی آخر اس پر اتنا لمبا صبر کب تک؟ بالآخر مشرکین نے ابولہب کی سربراہی میں نبیﷺ اور مسلمانوں پر ظلم و جور کا آغاز کر دیا۔ درحقیقت نبیﷺ کے متعلق ابو لہب کا موقف روز اول ہی سے، جبکہ ابھی قریش نے اس طرح کی بات سوچی بھی نہ تھی، یہی تھا۔ اس نے بنی ہاشم کی مجلس میں جو کچھ کیا، پھر کوہ صفا پر جو حرکت کی اس کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے۔
بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ اس نے کوہ صفا پر نبیﷺ کو مارنے کے لیے ایک پتھر بھی اٹھایا تھا ۔
بعثت سے پہلے ابو لہب نے اپنے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کی شادی نبیﷺ کی دو صاحبزادیوں رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے کی تھی لیکن بعثت کے بعد اس نے نہایت سختی اور درشتی سے ان دونوں کو طلاق دلوا دی۔
اس طرح جب نبیﷺ کے دوسرے صاحبزادے عبداللہ کا انتقال ہوا تو ابولہب کو اس قدر خوشی ہوئی کہ وہ دوڑتا ہوا اپنے رفقا کے پاس پہنچا اور انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ محمدﷺ ابتر(نسل بریدہ) ہو گئے ہیں۔

ہم یہ ذکر بھی کر چکے ہیں کہ ایام حج میں ابو لہب نبیﷺ کی تکذیب کے لیے بازاروں اور اجتماعات میں آپﷺ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا تھا۔ طارق بن عبدللہ محاربی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص صرف تکذیب ہی پر بس نہیں کرتا تھا بلکہ پتھر بھی مارتا رہتا تھا جس سے آپﷺ کی ایڑیاں خون آلود ہو جاتی تھیں۔
ابو لہب کی بیوی ام جمیل، جس کا نام اروی تھا اور جو حر بن امیہ کی بیٹی اور ابوسفیان کی بہن تھی، وہ نبیﷺ کی عداوت میں اپنے شوہر سے پیچھے نہ تھی، چنانچہ وہ نبیﷺ کے راستے میں اور دروازے پر رات کو کانٹے ڈال دیا کرتی تھی۔
خاصی بد زبان اور مفسدہ پرداز بھی تھی۔ چنانچہ نبیﷺ کے خلاف بدزبانی کرنا، لمبی چوڑی دسیسہ کاری و افتراء پردازی سے کام لینا، فتنے کی آگ بھڑکانا اور خوفناک جنگ بپا رکھنا اس کا شیوہ تھا، اس لیے قرآن نے اس کو (لکڑی ڈھونے والی) کا لقب عطا کیا۔
جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی اور اس کے شوہر کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ہے تو وہ رسول اللہﷺ کو تلاش کرتی ہوئی آئی۔
آپﷺ خانہ کعبہ کے پاس مسجد احرام میں تشریف فرما تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے۔ یہ مٹھی بھر پتھر لیے ہوئے تھی۔ سامنے کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی اور وہ رسول اللہﷺ کو نہ دیکھ سکی، صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے سامنے پہنچتے ہی سوال کیا ابوبکر تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ میری ہجو کرتا ہے۔
بخدا اگر میں اسے پا گئی تو اس کے منہ پر یہ پتھر دے ماروں گی۔ دیکھو خدا کی قسم میں بھی شاعرہ ہوں پھر اس نے یہ شعر سنایا:
ترجمہ:”ہم نے مذمم کی نافرمانی کی۔ اس کے امرا کو تسلیم نہ کیا اور اس کے دین کو نفرت و حقارت سے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد واپس چلی گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا! یارسول اللہﷺ کیا اس نے آپﷺ کو دیکھا نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں؟ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔
اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی تھی۔
ابوبکر بزار نے بھی یہ واقعہ روایت کہا ہے اور اس میں اتنا مزید اضافہ ہے کہ جب وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہوئی تھے تو اس نے یہ بھی کہا: ابو بکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے، ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا، نہیں۔ اس عمارت کے رب کی قسم، نہ وہ شعر کہتے ہیں نہ اسے زبان پر لاتے ہیں۔ اس نے کہا تم سچ کہتے ہو۔

ابو لہب اس کے باوجود یہ ساری حرکتیں کر رہا تھا کہ رسول اللہﷺ کا چچا اور پڑوسی تھا۔ اس کا گھر آپﷺ کے گھر سے متصل تھا۔ اسی طرح آپﷺ کے دوسرے پڑوسی بھی آپﷺ کو گھر کے اندر ستاتے تھے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جو گروہ گھر کے اندر رسول اللہﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا وہ یہ تھا۔ ابو لہب، حکم بن ابی العاص بن امیہ، عقبہ بن ابی معیظ، عدی بن حمر اثقفی، ابن الاصداء ھذلی۔
یہ سب کے سب آپﷺ کے پڑوسی تھے اور ان میں سے حکم (یہ اموی خلیفہ مروان بن حکم کے باپ ہیں) بن ابی العاص کے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہ ہوا۔ ان کے ستانے کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپﷺ نماز پڑھتے تو کوئی شخص بکری کی بچہ دانی اس طرح ٹکا کر پھینکا کہ وہ ٹھیک آپﷺ کے اوپر گرتی، چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھینکتے کہ سیدھے ہانڈی میں جا گرتی۔
آپﷺ نے مجبور ہو کر ایک گھروندا بنا لیا تاکہ نماز پڑھتے ہوئے ان سے بچ سکیں۔
بہرحال جب آپﷺ پر یہ گندگی پھینکی جاتی تو آپﷺ اسے لکڑی پر لے کر نکلتے اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے: اے بنی عبد مناف! یہ کیسی ہمسائگی ہے؟ پھر اسے راستے میں ڈال دیتے۔
عقبہ بن ابی معیط اپنی بدبختی اور خباثت میں اور بڑھا ہوا تھا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔
اور ابو جہل اور اس کے کچھ رفقاء بیٹھے تھے کہ اتنے میں بعض نے بعض سے کہا‘ کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھڑی لائے اور جب محمدﷺ سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے؟ اس پر قوم کا بدبخت ترین آدمی--- عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اوجھ لا کر انتظار کرنے لگا۔ جب نبیﷺ سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپﷺ کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیان ڈال دیا۔
میں سارا ماجرا دیکھ رہا تھا، مگر کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ کاش میرے اندر بچانے کی طاقت ہوتی۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرنے لگے اور رسول اللہﷺ سجدے ہی میں پڑے رہے۔ سر نہ اُٹھایا، یہاں تک کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ کی پیٹھ سے اوجھ ہٹا کر پھینکی، تب آپﷺ نے سر اُٹھایا۔ پھر تین بار فرمایا:
ترجمہ:”اے اللہ تو قریش کو پکڑ لے۔
“ جب آپﷺ نے بد دعا کی تو ان پر بہت گراں گزری۔ کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اس شہر میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپﷺ نے نام لے لے کر بددعا کی: اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ لے۔ اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیظ کو پکڑ لے۔
انہوں نے ساتویں کا بھی نام گنایا۔ لیکن راوی کو یاد نہ رہا۔۔۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے دیکھا کہ جن لوگوں کے نام رسول اللہ ﷺ نے گن گن کر لیے تھے سب کے سب بدر کے کنویں میں مقتول پڑے ہوئے تھے۔
امیہ بن خلف کا وطیرہ تھا کہ وہ جب رسول اللہﷺ کو دیکھتا تو لعن طعن کرتا۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ: ہر لعن طعن، برائیاں کرنے والے کیلئے تباہی ہے۔
ابن ہشام کہتے ہیں کہ ہمزہ وہ شخص ہے جو علانیہ گالی بکے اور آنکھیں ٹیڑھی کر کے اشارے کرے۔ اور لُمزہ وہ شخص ہے جو پیٹھ پیچھے لوگوں کی برائیاں اور انہیں اذیت دے۔
امیہ کا بھائی ابی بن خلف، عقبہ بن ابی معیط کا گہرا دوست تھا۔ ایک بار عقبہ نے نبیﷺ کے پاس بیٹھ کر کچھ سنا، اُبی کو معلوم ہوا تو اس نے عقبہ کو سخت سست کہا، عتاب کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ جا کر رسول اللہﷺ کے منہ پر تھوک آئے۔
آخر عقبہ نے ایسا ہی کیا۔ خود ابی بن خلف نے ایک مرتبہ ایک بوسیدہ ہڈی لا کر توڑی اور ہوا میں پھونک کر رسول اللہ ﷺ کی طرف اڑا دی۔
اخنس بن شریق ثقفی بھی رسول اللہﷺ کے ستانے والوں میں تھا۔ قرآن میں اس کے نو اوصاف بیان کئے گئے ہیں جس سے اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ارشاد ہے:
ترجمہ:”تم بات نہ مانو کسی قسم کھانے والے ذلیل کی جو لعن طن کرتا ہے، چغلیاں کھاتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے، حد درجہ ظالم، بدعمل اور جفاکار ہے اور اس کے بعد بداصل بھی ہے۔

ابو جہل کبھی کبھی رسول اللہﷺ کے پاس آ کر قرآن سنتا تھا لیکن بس سنتا ہی تھا۔ ایمان و اطاعت اور ادب و خشیت اختیار نہیں کرتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کو اپنی بات سے اذیت پہنچاتا اور اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔ پھر اپنی اس حرکت اور برائی پر ناز اور فخر کرتا ہوا جاتا تھا، گویا اس نے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیات اسی شخص کے بارے میں نازل ہوئیں: ترجمہ: نہ اس نے صدقہ دیا نہ نماز پڑھی‘ بلکہ جھٹلایا اور پیٹھ پھیری۔
پھر وہ اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا۔ تیرے خوب لائق ہے۔ خوب لائق ہے۔“
اس شخص نے پہلے دن جب نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسی دن آپﷺ کو نماز سے روکتا رہا، ایک بار نبیﷺ کو نماز پڑھ رہے تھے کہ اس کا گزر ہوا۔ دیکھتے ہی بولا، محمد کیا میں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا؟ ساتھ ہی دھمکی بھی دی۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ڈانٹ کر سختی سے جواب دیا۔
اس پر وہ کہنے لگا۔ اے محمد مجھے کاہے کی دھمکی دے رہے ہو۔ دیکھو خدا کی قسم اس وادی (مکہ) میں میری محفل سب سے بڑی ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ: اچھا! تو وہ بلائے اپنی محفل کو، (ہم بھی سزا کے فرشتوں کو بلائے دیتے ہیں۔)
ایک روایت میں مذکورہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا گریبان گلے کے پاس سے پکڑ لیا اور جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا۔

ترجمہ: تیرے لیے بہت ہی موزوں ہے۔ تیرے لیے بہت ہی موزوں ہے۔
اس پر اللہ کا دشمن کہنے لگا: اے محمد مجھے دھمکی دے رہے ہو؟ خدا کی قسم تم اور تمہارا پروردگارمیرا کچھ نہیں کر سکتے۔ میں مکے کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں۔
بہرحال اس ڈانٹ کے باوجود ابوجہل حماقت سے باز آنے والا نہ تھا بلکہ اس کی بدبختی میں کچھ اور اضافہ ہی ہوگیا۔
چنانچہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار سرداران قریش سے ابوجہل نے کہا کہ محمد آپ حضرات کے روبرو اپنا چہرہ خا ک آلود کرتا ہے؟ جواب دیا گیا ہاں! اس نے کہا وعزی کی قسم اگر میں نے اس حالت میں اسے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند دوں گا۔ اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا اور اس زعم میں چلا کہ آپﷺ کی گردن روند دے گا، لیکن لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ ایڑی کے بل پلٹ رہا ہے۔
اور دونوں ہاتھ سے بچاﺅ کر رہا ہے۔ لوگوں نے کہا ابوالحکم تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے۔ ہولناکیاں ہیں اور پر ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔ جور و ستم کی یہ کارروائیاں نبی ﷺ کے ساتھ ہورہی تھیں اور عوام و خواص کے نفوس میں آپﷺ کی منفرد شخصیت کا جو وقار و احترام تھا اور آپﷺ کو مکے کے سب سے محترم اور عظیم انسان ابو طالب کی جو حماقت و حفاظت حاصل تھی اس کے باوجود ہورہی تھیں، باقی رہیں وہ کارروائیاں جو مسلمان اور خصوصاً ان میں سے بھی کمزور افراد کی ایذا رسانی کے لیے کی جارہی تھیں تو وہ کچھ زیادہ ہی سنگین اور تلخ تھیں۔
ہر قبیلہ اپنے مسلمان ہونے والے افراد کو طرح طرح کی سزائیں دے رہا تھا اور جس شخص کا کوئی قبیلہ نہ تھا ان پر اوباشوں اور سرداروں نے ایسے ایسے جوروستم روا رکھے تھے جنہیں سن کر مضبوط انسان کا دل بھی بے چینی سے تڑپنے لگتا ہے۔
ابو جہل جب کسی معزز اور طاقتور آدمی کے مسلمان ہونے کی خبر سنتا تو اسے بُرا بھلا کہتا، ذلیل و رسوا کرتا اور مال و جاہ کو سخت خسارے سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتا اور اگر کوئی کمزور آدمی مسلمان ہوتا تو اسے مارتا اور دوسروں کو بھی برانگیخة کرتا۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے سے دھواں دیتا۔
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی ماں کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو ان کا دانہ پانی بند کردیا اور انہیں گھر سے نکال دیا۔ یہ بڑے ناز و نعمت میں پلے تھے۔ حالات کی شدت سے دوچار ہوئے تو کھال اس طرح ادھڑ گئی جیسے سانپ کچلی چھوڑتا ہے۔

حضرت بلال، امیہ بن خلف جمحی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کو دے دیتا تھا اور وہ انہیں مکے کے پہاڑوں میں گھماتے پھرتے تھے یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا تھا۔ خود امیہ بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے سے مارتا تھا۔ اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا تھا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا تھا اور اس سے کہیں بڑھ کر یہ ظلم کرتا تھا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا، پھر کہتا خدا کی قسم تو اسی طرح پڑا رہے گا یہاں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس حالت میں بھی فرماتے احد۔ احد۔ ایک روز یہی کارروائی کی جارہی تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، انہوں نے حضرت بلال کو ایک کالے غلام کے بدلے، اور کہا جاتا ہے کہ دو سو درہم (سات سو پینتیس گرام چاندی) یا دو سو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے غلام تھے۔
انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین جن میں ابو جہل پیش پیش تھا، سخت دھوپ کے وقت انہیں پتھریلی زمین پر لے جا کر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزا دی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپﷺ نے فرمایا: آل یاسر صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔ آخرکار یاسر ظلم کی تاب نہ لاکر وفات پا گئے اور سمیہ، جو حضرت عمار کی والدہ تھیں، ان کی شرمگاہ میں ابوجہل نے نیزہ مارا اور وہ دم توڑ گئیں۔
یہ اسلام میں پہلی شہیدہ ہیں۔ حضرت عمار پر سختی کا سلسلہ جاری رہا، انہیں کبھی دھوپ میں تپایا جاتا تو کبھی ان کے سینے پر سرخ پتھر رکھ دیا جاتا اور کبھی پانی میں ڈبو دیا جاتا۔ ان سے مشرکین کہتے تھے کہ جب تک تم محمدﷺ کو گالی نہ دو گے یا لات و عزی کے بارے میں کلمہ خیر نہ کہو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے مجبوراً ان کی بات مان لی۔
پھر نبیﷺ کے پاس روتے اور معذرت کرتے ہوئے تشریف لائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
”جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کیا (اس پر اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہے) لیکن جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اس پر کوئی گرفت نہیں“۔
حضرت فکیہہ جن کا نام افلح تھا، بنی عبدالدار کے غلام تھے، ان کے یہ مالکان ان کا پاﺅں رسی سے باندھ کر انہیں زمین پر گھسیٹتے تھے۔

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ قبیلہ خزاعہ کی ایک عورت ام انمار کے غلام تھے۔ مشرکین انہیں طرح طرح کی سزائیں دیتے تھے۔ ان کے سر کے بال نوچتے تھے اور سختی سے گردن مروڑتے تھے۔ انہیں کئی بار دہکتے انگاروں پر لٹا کر اوپر سے پتھر رکھ دیا کہ وہ اُٹھ نہ سکیں۔
زنیرہ اور نہدیہ اور ان کی صاحبزادی اور ام عبیس یہ سب لونڈیاں تھیں۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور مشرکین کے ہاتھوں اسی طرح کی سنگین سزاﺅں سے دوچار ہوئیں جن کے چند نمونے ذکر کئے جا چکے ہیں۔
قبیلہ بنی عدی کے ایک خانوادے بنی مومل کی ایک لونڈی مسلمان ہوئیں تو انہیں حضرت عمر بن خطاب، جو بنی عدی سے تعلق رکھتے تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اس قدر مارتے تھے کہ مارتے مارتے خود تھک جاتے تھے اور اس کے بعد کہتے تھے کہ میں نے تجھے کسی مروت کی وجہ سے نہیں بلکہ محض تھک جانے کی وجہ سے چھوڑا ہے۔ آخرکار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال اور عامر بن فہیرہ کی طرح ان لونڈیوں کو بھی خرید کر آزاد کر دیا۔

مشرکین نے سزا کی ایک شکل یہ بھی اختیار کی تھی کہ بعض صحابہ کو اونٹ اور گائے کی کچی کھال میں لپیٹ کر دھوپ میں ڈال دیتے تھے اور بعض کو لوہے کی زرہ پہنا کر جلتے ہوئے پتھر پر لٹا دیتے تھے۔ درحقیقت اللہ کی راہ میں ظلم و جور کا نشانہ بننے والوں کی فہرست بڑی لمبی ہے اور بڑی تکلیف دہ بھی۔ حالت یہ تھی کہ کسی کے مسلمان ہونے کا پتہ چل جاتا تھا مشرکین اس کے درپے آزار ہو جاتے تھے۔

Your Thoughts and Comments