Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Quraish Ka Numaenda Rasool Alla (P.B.U.H) Kay Hazoor MeiN

الرحیق المختوم، قریش کا نمائندہ رسول اللہ ﷺ کے حضور میں

حالات کی رفتار بدل چکی تھی۔ گردوپیش کے ماحول میں فرق آچکا تھا، لیکن ابو طالب کے اندیشے برقرار تھے۔ انہیں مشرکین کی طرف سے اپنے بھتیجے کے متعلق برابر خطرہ محسوس ہورہا تھا

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Quraish ka numaenda Rasool Alla (P.B.U.H) kay Hazoor meiN

ان دونوں بطل جلیل یعنی حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد ظلم و طغیان کے بادل چھٹنا شروع ہوگئے اور مسلمانوں کو جور و ستم کا تختہ مشق بنانے کے لیے مشرکین پر جو بدمستی چھائی تھی اس کی جگہ سوجھ بوجھ نے لینی شروع کی۔ چنانچہ مشرکین نے یہ کوشش کی کہ اس دعوت سے نبیﷺ کا جو منشا اور مقصود ہوسکتا ہے اسے فراواں مقدار میں فراہم کرنے کی پیشکش کرکے آپﷺ کو آپﷺ کی دعوت و تبلیغ سے باز رکھنے کے لیے سودے بازی کی جائے لیکن ان غریبوں کو پتہ نہ تھا کہ وہ پوری کائنات، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، آپ کی دعوت کے مقابل پر کاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اس لیے انہیں اپنے اس منصوبے میں ناکام و نامراد ہونا پڑا۔


ابن اسحاق نے یزید بن زیاد کے واسطے سے محمد بن کعب قرظی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ عتبہ بن ربیعہ نے جو سردار قوم تھا، ایک روز قریش کی محفل میں کہا ۔

۔۔۔ اور اس وقت رسول اللہﷺ مسجد حرام میں ایک جگہ تن تنہا تشریف فرما تھے ۔۔۔۔ کہ قریش کے لوگو کیوں نہ میں محمدﷺ کے پاس جاکر ان سے گفتگو کروں اور ان کے سامنے چند امور پیش کروں، ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔ وہ کوئی چیز قبول کرلیں۔۔۔۔۔ تو جو کچھ وہ قبول کر لیں گے، اسے دے کر ہم انہیں اپنے آپ سے باز رکھیں گے؟ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوچکے تھے اور مشرکین نے یہ دیکھ لیا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد برابر بڑھتی ہی جارہی ہے۔
مشرکین نے کہا ابو الولید! آپ جائیے اور ان سے بات کیجئے۔ اس کے بعد عتبہ اُٹھا اور رسول اللہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
پھر وہ بولا: "بھتیجے قوم میں تمہارا جو مرتبہ و مقام ہے اور جو بلند پایہ نسب ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے۔ اور اب تم اپنی قوم میں ایک بڑا معاملہ لے کر آئے ہو جس کی وجہ سے تم نے ان کی جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ان کی عقلوں کو حماقت سے دوچار قرار دیا۔ ان کے معبودوں اور ان کے دین کی عیب چینی کی۔ اور ان کے جو آباؤجداد گزرچکے ہیں انہیں کافر ٹھہرایا۔
لہٰذا میری بات سنو! میں تم پر چند باتیں پیش کر رہا ہوں، ان پر غور کرو۔ ہوسکتا ہے کو ئی قبول کرلو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابو الولید! میں سنوں گا۔ ابو الولید نے کہا: بھتیجے یہ معاملہ جسے تم لے کر آئے ہو اگر اس سے تم یہ چاہتے ہو کہ مال حاصل کرو تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم ہم سب سے زیادہ مالدار ہو جاﺅ اور اگر اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اعزاز و مرتبہ حاصل کرو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں یہاں تک کہ تمہارے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کریں گے اور اگر تم چاہتے ہو کہ بادشاہ بن جاﺅ تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنائے لیتے ہیں، اور اگر یہ جو تمہارے پاس آتا ہے کوئی جن بھوت ہے جسے تم دیکھتے ہو لیکن اپنے آپ سے دفع نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے لیے اس کا علاج تلاش کئے دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم اپنا اتنا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں کہ تم شفایاب ہو جاﺅ، کیونکہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن بھوت انسان پر غالب آ جاتا ہے اور اس کا علاج کروانا پڑتا ہے۔

عتبہ یہ باتیں کہتا رہا۔ اور رسول اللہﷺ سنتے رہے۔ جب فارغ ہوچکا تو آپﷺ نے فرمایا: ابو الولید تم فارغ ہوگئے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپﷺنے فرمایا اچھا اب میری سنو! اس نے کہا ٹھیک ہے سنوں گا۔ آپ نے فرمایا:
ترجمہ: ”حم۔ رحیم کی طرف سے نازل کی ہوئی ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی گئی ہیں۔ عربی قرآن ان لوگوں کیلئے جو علم رکھتے ہیں۔
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے لیکن اکثر لوگوں نے اعراض کیا اور وہ سنتے نہیں۔ کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس کیلئے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔“
رسول اللہﷺ آگے پڑھے جا رہے تھے اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے چپ چاپ سنتا جارہا تھا۔ جب آپﷺ سجدے کی آیت پر پہنچے تو آپﷺ نے سجدہ کیا پھر فرمایا! ابو الولید! تمہیں جو کچھ سننا تھا سن چکے، اب تم جانو اور تمہارا کام جانے۔

عتبہ اٹھا اور سیدھا اپنے ساتھیوں کے پاس آیا۔ اسے آتا دیکھ کر مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: خدا کی قسم! ابو الولید تمہارے پاس وہ چہرہ لے کر نہیں آرہا ہے جو چہرہ لے کر گیا تھا۔ پھر جب ابو الولید آ کر بیٹھ گیا تو لوگوں نے پوچھا: ابو الولید! پیچھے کی کیا خبر ہے؟ اس نے کہا: پیچھے کی خبر یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ ویسا کلام واللہ میں نے کبھی نہیں سنا۔
خدا کی قسم وہ نہ شعر ہے نہ جادو نہ کہانت، قریش کے لوگو! میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو۔ (میری رائے یہ ہے کہ) اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ کر الگ تھلگ بیٹھ رہو۔ خدا کی قسم میں نے اس کا جو قول سنا ہے اس سے کوئی زبردست واقعہ رونما ہوکر رہے گا۔ پھر اگر اس شخص کو عرب نے مار ڈالا تو تمہارا کام دوسروں کے ذریعے انجام پا جائے گا۔ اور اگر یہ شخص عرب پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہت تمہاری بادشاہت اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔
اور اس کا وجود سب سے بڑھ کر تمہارے لیے سعادت کا باعث ہوگا۔ لوگوں نے کہا ابوالولید! خدا کی قسم تم پر بھی اس کی زبان کا جادو چل گیا۔ عتبہ نے کہا: اس شخص کے بارے میں میری رائے یہی ہے، اب تمہیں جو ٹھیک معلوم ہو کرو۔ ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ نبیﷺ نے جب تلاوت شروع کی تو عتبہ چپ چاپ سنتا رہا، جب آپﷺ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر پہنچے:
ترجمہ: پس اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہہ دو کہ میں تمہیں عاد و ثمود کی کڑک جیسی ایک کڑک کے خطرے سے آگاہ کررہا ہوں۔

تو عتبہ تھرا کر کھڑا ہوگیا اور یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ رسول اللہﷺ کے منہ پر رکھ دیا کہ میں آپﷺ کو اللہ کا اور قرابت کا واسطہ دیتا ہوں (کہ ایسا نہ کریں) اسے خطرہ تھا کہ کہیں یہ ڈراوا آن نہ پڑے۔ اس کے بعد وہ قوم کے پاس گیا اور مذکورہ گفتگو ہوئی۔
ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطلب کو جمع کرتے ہیں:
حالات کی رفتار بدل چکی تھی۔
گردوپیش کے ماحول میں فرق آچکا تھا، لیکن ابو طالب کے اندیشے برقرار تھے۔ انہیں مشرکین کی طرف سے اپنے بھتیجے کے متعلق برابر خطرہ محسوس ہورہا تھا۔ وہ پچھلے واقعات پر برابر غور کررہے تھے۔ مشرکین نے انہیں مقابلہ آرائی کی دھمکی دی تھی۔ پھر ان کے بھتیجے کو عمارہ بن ولید کے عوض حاصل کرکے قتل کرنے کے لیے سودے بازی کی کوشش کی تھی۔ ابوجہل ایک بھاری پتھر لے کر ان کے بھتیجے کا سر کچلنے اٹھا تھا۔
عقبہ بن ابی معیط نے چادر لپیٹ کر گلا گھونٹنے اور مار ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ خطاب کا بیٹا تلوار لے کر ان کا کام تمام کرنے نکلا تھا۔ ابو طالب ان واقعات پر غور کرتے تو انہیں ایک ایسے سنگین خطرے کی بو محسوس ہوتی جس سے ان کا دل کانپ اٹھتا، انہیں یقین ہوچکا تھا کہ مشرکین ان کا عہد توڑنے اور ان کے بھتیجے کو قتل کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ اور ان حالات میں خدانخواستہ اگر کوئی مشرک اچانک آپﷺ پر ٹوٹ پڑا تو حمزہ رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ اور کوئی شخص کیا کام دے سکے گا۔

ابو طالب کے نزدیک یہ بات یقینی تھی اور بہرحال صحیح بھی تھی، کیونکہ مشرکین علانیہ رسول اللہﷺ کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے اور ان کے اسی فیصلے کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے:
ترجمہ: ”اگر انہوں نے ایک بات کا تہیہ کر رکھا ہے تو ہم بھی تہیہ کئے ہوئے ہیں۔“
اب سوال یہ تھا کہ ان حالات میں ابو طالب کو کیا کرنا چاہیے۔
انہوں نے جب دیکھا کہ قریش ہر جانب سے ان کے بھتیجے کی مخالفت پر تل پڑے ہیں تو انہوں نے اپنے جد اعلیٰ عبد مناف کے دو صاحبزادوں ہاشم اور مطلب سے وجود میں آنے والے خاندان کو جمع کیا اور انہیں دعوت دی کہ اب تک وہ اپنے بھتیجے کی حفاظت و حمایت کا جو کام تنہا انجام دیتے رہے ہیں اب اسے سب مل کر انجام دیں۔ ابو طالب کی یہ بات عربی حمیت کے پیش نظر ان دونوں خاندانوں کے سارے مسلم اور کافر افراد نے قبول کی۔ البتہ صرف ابو طالب کا بھائی ابو لہب ایک ایسا فرد تھا جس نے اسے منظور نہ کیا اور سارے خاندان سے الگ ہو کر مشرکین قریش سے جا ملا اور ان کا ساتھ دیا۔

Your Thoughts and Comments