Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Weladat Ba-saadat Awr Hayat E Tayyaba Kay Chalis Saal

الرحیق المختوم، ولادت باسعادت اور حیات طیبہ کے چالیس سال

رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے فرمایا جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہوگئے

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Weladat ba-saadat awr hayat e tayyaba kay chalis saal

ولادت باسعادت:
رسول اللہ ﷺ مکہ میں شعب بنی ہاشم کے اندر 9 ربیع الاول 1 عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور 20 یا22 اپریل 571ء کی تاریخ تھی۔ علامہ محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوریؒ اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہے۔
ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے فرمایا جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہوگئے، امام احمد نے حضرت عریاض رضی اللہ عنہ بن ساریہ سے بھی تقریباً اسی مضمون کی ایک روایت نقل فرمائی ہے۔


بعض روایتوں میں بتایا گیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور ہر ظہور پذیر ہوئے یعنی ایوان کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ سادہ خشک ہو گیا اور اس کے گرجے منہدم ہو گئے۔

یہ بیہقی کی روایت ہے۔ لیکن محمد غزالی نے اس کو درست تسلیم نہیں کیا ہے۔
ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے عبدالمطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھجوائی۔

وہ شاداں و فرحاں تشریف لائے اور آپ کو خانہ کعبہ میں لے جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اس کا شکر ادا کیا اور آپ کا نام محمد ﷺ تجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا۔ پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ (ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ مختون فتنہ کئے ہُوئے پیدا ہُوئے تھے مگر ابن قیم کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث نہیں) آپ کو آپ کی والدہ کے بعد سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا۔
اس وقت اس کی گود میں جو بچہ تھا اس کا نام مسروح تھا۔ ثوبیہ نے آپ ﷺ سے پہلے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو اور آپ ﷺ کے بعد ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی کو بھی دودھ پلایا تھا۔
بنی سعد میں:
عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شہری امراض سے دور رکھنے کے لیے دودھ پلانے والی بدوی عورتوں کے حوالے کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور اپنے گہوارہ ہی سے خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ لیں۔
اسی دستور کے مطابق عبدالمطلب نے دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی اور نبی ﷺ کو حضرت حلیمہ بنت ابی ذویب کے حوالے کیا۔ یہ قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون تھیں۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبدالعزی اور کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بھی قبیلہ بنی سعد ہی سے تعلق رکھتے تھے۔
حارث کی اولاد کے نام یہ ہیں جو رضاعت کے تعلق سے رسول اللہﷺ کے بھائی بہن تھے۔
عبداللہ، انیسہ، حذافہ یا جذامہ، انہیں کا لقب شَیماء تھا اور اسی نام سے وہ زیادہ مشہور ہوئیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو گود کھلایا کرتی تھیں۔ ان کے علاوہ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب، جو رسول اللہ ﷺ کے چچیرے بھائی تھے، وہ بھی حضرت حلیمہ کے واسطے سے آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ آپﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بھی دودھ پلانے کے لیے بنو سعد کی ایک عورت کے حوالے کئے گئے تھے، اس عورت نے بھی ایک دن، جب رسول اللہﷺ حضرت حلیمہ کے پاس تھے، آپ کو دودھ پلا دیا۔
اسی طرح آپ اور حضرت حمزہ دوہرے رضاعی بھائی ہو گئے۔ ایک ثوبیہ کے تعلق سے اور دوسرے بنو سعد کی اس عورت کے تعلق سے۔
رضاعت کے دوران حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی برکت کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ سراپا حیرت رہ گئیں۔ تفصیلات انہیں کی زبانی سنئیے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتی تھیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ لے کر بنی سعد کی کچھ عورتوں کے قافلے میں اپنے شہر سے باہر دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلیں۔
یہ قحط سالی کے دن تھے اور قحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا۔ میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی لیکن بخدا اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا۔ ادھر بھوک سے بچہ اس قدر بلکتا تھا کہ ہم رات بھر سو نہیں سکتے تھے، نہ میرے سینے میں بچہ کے لیے کچھ تھا۔ نہ اونٹنی اس کو خوراک دے سکتی تھی، بس ہم بارش اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔
میں اپنی گدھی پر سوار ہوکر چلی تو وہ کمزوری اور دبلے پن کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آ گیا۔ خیر ہم کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے۔ پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس پر رسول اللہ ﷺ کو پیش نہ کیا گیا ہو مگر جب اسے بتایا جاتا کہ آپ ﷺ یتیم ہیں تو وہ آپ ﷺ کو لینے سے انکار کر دیتی، کیونکہ ہم بچے کے والد سے دادودہش کی اُمید رکھتے تھے۔
ہم کہتے کہ یہ تو یتیم ہے بھلا اس کی بیوہ ماں اور اس کے دادا کیا دے سکتے ہیں۔ بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ کو لینا نہیں چاہتے تھے۔
ادھر جتنی عورتیں میرے ہمراہ آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا، صرف مجھ ہی کو نہ مل سکا۔ جب واپسی کی باری آئی تو میں نے اپنے شوہر سے کہا، خدا کی قسم مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے لے کر جائیں اور تنہا میں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جاﺅں۔
میں جا کر اس یتیم بچے کو لیے لیتی ہوں۔ شوہر نے کہا کوئی حرج نہیں، ممکن ہے اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے۔ اس کے بعد میں نے جا کر بچہ لے لیا اور محض اس بنا پر لے لیا کہ کوئی بچہ نہ مل سکا۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے اپنی آغوش میں رکھا تو اس نے جس قدر چاہا دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ پڑے اور اس نے شکم سیر ہو کر پیا۔
اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہو کر پیا، پھر دونوں سو گئے حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے۔ ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے۔ انہوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری۔ ان کا بیان ہے کہ صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا حلیمہ خدا کی قسم تم نے ایک بابرکت روح حاصل کی ہے۔
میں نے کہا: مجھے بھی یہی توقع ہے۔
حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہوا۔ میں اپنی اسی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا لیکن اب وہی گدھی خدا کی قسم پورے قافلے کو کاٹ کر اس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی گدھا اس کا ساتھ نہ پکڑ سکا، یہاں تک میری سہیلیاں مجھ سے کہنے لگیں: او ابوذویب کی بیٹی! ارے یہ کیا ہے، ذرا ہم پر مہربانی کر آخر یہ تیری وہی گدھی تو ہے کس پر تو سوار ہوکر آئی تھی۔
میں کہتی: ہاں ہاں! بخدا یہ وہی ہے۔ وہ کہتیں: اس کا یقیناً کوئی خاص معاملہ ہے، پھر بنو سعد میں اپنے گھروں کو اگئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی روئے زمین کا کوئی خطہ ہمارے علاقے سے زیادہ قحط زدہ تھا لیکن واپسی کے بعد میری بکریاں چرنے جاتیں تو آسودہ حال اور دودھ سے بھرپور واپس آتیں۔ ہم دوہتے اور پیتے۔ جبکہ کسی اور انسان کو دودھ کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوتا۔
ان کے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سرے سے رہتا ہی نہ تھا۔ حتیٰ کہ ہماری قوم کے شہری اپنے چرواہوں سے کہتے کہ کم بختو، جانور وہیں چرانے لے جایا کرو جہاں ابو ذویب کی بیٹی کا چرواہا لے جاتا ہے۔۔۔ لیکن تب بھی ان کی بکریاں بھوکی واپس آتیں۔ ان کے اندر ایک قطرہ دودھ نہ رہتا جبکہ میری بکریاں آسودہ اور دودھ سے بھرپور پلٹتیں۔ اس طرح ہم اللہ کی طرف سے مسلسل اضافے اور خیر کا مشاہدہ کرتے رہے۔
یہاں تک کہ اس بچے کے دو سال پورے ہوگئے اور میں نے دودھ چھڑا دیا۔ یہ بچہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس طرح بڑھ رہا تھا کہ دو سال پورے ہوتے ہوتے وہ کڑا اور گٹھیلا ہو چلا۔ اس کے بعد ہم اس بچے کو اس کی والدہ کے پاس لے گئے۔ لیکن ہم اس کی جو برکت دیکھتے آئے تھے اس کی وجہ سے ہماری انتہائی خواہش یہی تھی کہ وہ ہمارے پاس رہے۔ چنانچہ ہم نے اس کی ماں سے گفتگو کی۔
میں نے کہا: کیوں نہ آپ اپنے بچے کو میرے پاس ہی رہنے دیں کہ ذرا مضبوط ہو جائے کیونکہ مجھے اس کے متعلق مکہ کی وبا کا خطرہ ہے۔ غرض ہمارے مسلسل اصرار پر انہوں نے بچہ ہمیں واپس دے دیا۔
واقعہ شق صدر:
اس طرح رسول اللہ ﷺ مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد بھی بنو سعد ہی میں رہے یہاں تک کہ ولادت کے چوتھے یا پانچویں سال (عام سیرت نگاروں کا یہی قول ہے لیکن ابن اسحاق کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ تیسرے سال کا ہے) شق صدر (سینہ مبارک چاک کئے جانے) کا واقعہ پیش آیا۔
اس کی تفصیل حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کو پکڑ کر لٹایا اور سینہ چاک کرکے دل نکالا، پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے، پھر دل کو ایک طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے جوڑ کر اس کی جگہ لوٹا دیا۔
ادھر بچے دوڑ کر آپ ﷺ کی ماں یعنی دایہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے:محمد قتل کر دیا گیا۔ ان کے گھر کے لوگ جھٹ پٹ پہنچے، دیکھا تو آپ کا رنگ اترا ہوا تھا۔
ماں کی آغوش محبت میں:
اس واقعے کے بعد حلیمہ رضی اللہ عنہا کو خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے آپ کو آپﷺ کی ماں کے حوالے کر دیا چنانچہ آپ چھ سال کی عمر تک والدہ ہی کی آغوش محبت میں رہے۔
ادھر حضرت آمنہ کا ارادہ ہوا کہ وہ اپنے متوفی شوہر کی یاد وفا میں یثرب جا کر ان کی قبر کی زیارت کریں۔ چنانچہ وہ اپنے یتیم بچے محمد ﷺ، اپنی خادمہ ام ایمن اور اپنے سرپرست عبدالمطلب کی معیت میں کوئی پانچ سو کلومیٹر کی مسافت طے کرکے مدینہ تشریف لے گئیں اور وہاں ایک ماہ تک قیام کرکے واپس ہوئیں، لیکن ابھی ابتدا راہ میں تھیں کہ بیماری نے آ لیا۔
پھر یہ بیماری شدت اختیار کرتی گئی یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام ابواء میں پہنچ کر رحلت کر گئیں۔
دادا کے سایہ شفقت میں:
بوڑھے عبدالمطلب اپنے پوتے کو لے کر مکہ پہنچے۔ ان کا دل اپنے اس یتیم پوتے کی محبت و شفقت کے جذبات سے تپ رہا تھا۔ کیونکہ اب اسے ایک نیا چرکا لگا تھا جس نے پرانے زخم کرید دیئے تھے۔ عبدالمطلب کے جذبات میں پوتے کے لیے ایسی رقت تھی کہ ان کی اپنی صلبی اولاد میں سے بھی کسی کے لیے ایسی رقت نہ تھی۔
چنانچہ قسمت نے آپ کو تنہائی کے جس صحرا میں لاکھڑا کیا تھا عبدالمطلب اس میں آپ کو تنہا چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ آپ کو اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر چاہتے اور بڑوں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔ ابن ہشام کا بیان ہے کہ عبدالمطلب کے لیے خانہ کعبہ کے سائے میں فرش بچھایا جاتا، ان کے سارے لڑکے فرش کے اردگرد بیٹھ جاتے، عبدالمطلب تشریف لاتے تو فرش پر بیٹھتے۔
ان کی عظمت کے پیش نظران کا کوئی لڑکا فرش پر نہ بیٹھا لیکن رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو فرش ہی پر بیٹھ جاتے۔ ابھی آپ کم عمر بچے تھے، آپ ﷺ کے چچا حضرات آپ ﷺ کو پکڑ کر اتار دیتے، لیکن جب عبدالمطلب انہیں ایسا کرتے دیکھتے تو فرماتے میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو۔ بخدا اس کی شان نرالی ہے۔ پھر انہیں اپنے ساتھ اپنے فرش پر بٹھا لیتے۔ اپنے ہاتھ سے پیٹھ سہلاتے اور ان کی نقل و حرکت دیکھ کر خوش ہوتے۔
آپ ﷺ کی عمر ابھی 8 سال دو مہینے دس دن کی ہوئی تھی کہ دادا عبدالمطلب کا بھی سایہ شفقت اُٹھ گیا۔ ان کا انتقال مکہ میں ہوا اور وہ وفات سے پہلے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کو، جو آپ کے والد عبداللہ کے سگے بھائی تھے، آپ کی کفالت کی وصیت کر گئے تھے۔
شفیق چچا کی کفالت میں:
ابو طالب نے اپنے بھتیجے کا حق کفالت بڑی خوبی سے ادا کیا، آپ ﷺ کو اپنی اولاد میں شامل کیا، بلکہ ان سے بھی بڑھ کر مانا۔
مزید اعزاز و احترام سے نوازا، چالیس سال سے زیادہ عرصے تک قوت پہنچائی، اپنی حمایت کا سایہ دراز رکھا اور آپ ﷺ ہی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی کی۔
روئے مبارک سے فیضان باراں کی طلب:
ابن عساکر نے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا۔ لوگ قحط سے دوچار تھے۔ قریش نے کہا: ابو طالب! وادی قحط کا شکار ہے، بال بچے کال کی زد میں ہیں، چلئے بارش کی دعا کیجیے۔
ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے، بچہ ابر آلود سورج معلوم ہوتا تھا، جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔ اس کے اردگرد اور بھی بچے تھے۔ ابو طالب نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پیٹھ کعبہ کی دیوار سے ٹیک دی۔ بچے نے ان کی انگلی پکڑ رکھی تھی۔ اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکرا نہ تھا۔ لیکن ( دیکھتے دیکھتے) ادھر ادھر سے بادل کی آمد شروع ہو گئی اور ایسی دھواں دھار بارش ہوئی کہ وادی میں سیلاب آگیا اور شہر و بیاباں شاداب ہوگئے۔
بعد میں ابو طالب نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محمد ﷺ کی مدح میں کہا تھا: ترجمہ:
”وہ خوبصورت ہیں۔ ان کے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماویٰ اور بیواﺅں کے محافظ ہیں۔“
بحیرا راہب:
بعض روایات کے مطابق ۔۔۔۔۔ جن کی استنادی حیثیت مشکوک ہے ۔۔۔۔۔ جب آپﷺ کی عمر بارہ برس اور ایک تفصیلی قول کے مطابق بارہ برس دو مہینے دس دن (یہ بات ابن جوزی نے تلقیح الفہوم ۷ میں کہی ہے) کی ہوگئی تو ابو طالب آپ ﷺ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصریٰ پہنچے۔
بصریٰ شام کا ایک مقام اور حوران کا مرکزی شہر ہے۔ اس وقت یہ جزیرة العرب کے رومی مقبوضات کا دارلحکومت تھا۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتا تھا جو بحیرا کے لقب سے معروف تھا، جب قافلے نے وہاں پڑاﺅ ڈالا تو یہ راہب اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اس کی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے اوصاف کی بنا پر پہچان لیا اور آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین ہیں، اللہ انہیں رحمة للعالمین بنا کر بھیجے گا۔
ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لیے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں۔ پھر میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں، جو کندھے کے نیچے کری (نرم ہڈی) کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم انہیں اپنی کتابوں میں بھی پاتے ہیں۔

اس کے بعد بحیرا راہب نے ابو طالب سے کہا کہ انہیں واپس کر دو، ملک شام نہ لے جاﺅ کیونکہ یہود سے خطرہ ہے۔ اس پر ابو طالب نے بعض غلاموں کی معیت میں آپ ﷺ کو مکہ واپس بھیج دیا۔
جنگ فُجار:
آپ کی عمر پندرہ برس کی ہوئی تو جنگ فُجار پیش آئی۔ اس جنگ میں ایک طرف قریش اور ان کے ساتھ بنو کنانہ تھے اور دوسری طرف قیس عَیلان تھے۔
قریش اور کنانہ کا کمانڈر حَرب بن اُمیہ تھا۔ کیونکہ وہ اپنے سن و شرف کی وجہ سے قریش و کنانہ کے نزدیک بڑا مرتبہ رکھتا تھا۔ پہلے پہر کنانہ پر قیس کا پلہ بھاری تھا لیکن دوپہر ہوتے ہوتے قیس پر کنانہ کا پلہ بھاری ہو گیا۔ اسے حرب فجار اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں حرم اور حرام مہینے دونوں کی حرمت چاک کی گئی۔ اس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے تھے اور اپنے چچاؤں کو تیر تھماتے تھے۔

حلف الفضول:
اس جنگ کے بعد ایک حرمت والے مہینے ذی قعدہ میں حلف الفضول پیش آئی۔ چند قبائل قریش یعنی بنی ہاشم، بنی مطلب، بنی اسد بن عبدالعزیٰ، بنی زہرہ بن کلاب اور بنی تیم بن مرہ نے اس کا اہتمام کیا۔ یہ لوگ عبداللہ بن جدعان تیمی کے مکان پر جمع ہوئے۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ سن و شرف میں ممتاز تھا ۔۔۔ اور آپس میں عہد پیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے گا۔
خواہ مکے کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، یہ سب اس کی مدد اور حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کا حق دلوا کر رہیں گے۔ اس اجتماع میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے اور بعد میں شرف رسالت سے مشرف ہونے کے بعد فرمایا کرتے تھے، میں عبداللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر دور اسلام میں اس عہد و پیمان کے لیے مجھے بلایا جاتا تو میں لبیک کہتا۔

اس معاہدے کی روح عصبیت کی تہ سے اٹھنے والی جاہلی حمیت کے منافی تھی، اس معاہدے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ زبید کا ایک آدمی سامان لے کر مکہ آیا اور عاص بن وائل نے اس سے سامان خریدا۔ لیکن اس کا حق روک لیا۔ اس نے حلیف قبائل عبدالدار، مخزوم، جمح، سہم اور عدی سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن کسی نے توجہ نہ دی، اس کے بعد اس نے جبل ابو قبیس پر چڑھ کر بلند آواز سے چند اشعار پڑھے۔
جن میں اپنی داستان مظلومیت بیان کی تھی۔ اس پر زبیر بن عبدالمطلب نے دوڑ دھوپ کی اور کہا کہ یہ شخص بے یارومددگار کیوں ہے؟ ان کی کوشش سے اوپر ذکر کئے ہوئے قبائل جمع ہوگئے۔ پہلے معاہدہ طے کیا اور پھر عاص بن وائل سے اس زبیدی کا حق دلایا۔
جفاکشی کی زندگی:
عنفوان شباب میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی معین کام نہ تھا البتہ یہ خبر متواتر ہے کہ آپﷺ بکریاں چراتے تھے، آپﷺ نے بنی سعد کی بکریاں چرائیں اور مکہ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چراتے رہے۔
پچیس سال کی عمر ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال لے کر تجارت کے لیے ملک شام تشریف لے گئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ خدیجہ بنت خویلد ایک معزز مالدار اور تاجر خاتون تھیں۔ لوگوں کو اپنا مال تجارت کے لیے دیتی تھیں اور مضاربت کے اصولوں پر ایک حصہ طے کر لیتی تھیں۔ پورا قبیلہ قریش ہی تاجر پیشہ تھا، جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی راست گوئی، امانت اور مکارم اخلاق کا علم ہوا تو انہوں نے ایک پیغام کے ذریعے پیش کش کی کہ آپ ان کا مال لے کر تجارت کے لیے ان کے غلام میسرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے جائیں۔
وہ دوسرے تاجروں کو جو کچھ دیتی ہیں اس سے بہتر اجرت آپ کو دیں گی۔ آپ نے یہ پیش کش قبول کرلی اور ان کا مال لے کر ان کے غلام میسرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے گئے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی:
جب آپ مکہ واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مال میں ایسی امانت و برکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور ادھر ان کے غلام میسرہ نے آپ کے شیریں اخلاق، بلند پایہ کردار، موزوں انداز فکر، راست گوئی اور امانت دارانہ طریق کے متعلق اپنے مشاہدات بیان کیے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اپنا گم گشتہ گوہر مطلوب دستیاب ہوگیا۔
اس سے پہلے بڑے بڑے سردار اور رئیس ان سے شادی کے خواہاں تھے لیکن انہوں نے کسی کا پیغام منظور نہ کیا تھا۔ اب انہوں نے اپنے دل کی بات اپنی سہیلی نفیسہ بنت منبہ سے کہی اور نفیسہ نے جا کر نبی ﷺ سے گفت و شنید کی۔ آپ ﷺ راضی ہوگئے اور اپنے چچاﺅں سے اس معاملے میں بات کی۔ انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا سے بات کی اور شادی کا پیغام دیا۔
اس کے بعد شادی ہوگئی۔ نکاح میں بنی ہاشم اور رﺅسائے مضر شریک ہوئے۔
یہ ملک شام سے واپسی کے دو مہینے بعد کی بات ہے۔ آپﷺ نے مہر میں بیس اونٹ دیئے۔ اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی اور وہ نسب و دولت اور سوجھ بوجھ کے لحاظ سے اپنی قوم کی سب سے معزز اور افضل خاتون تھیں۔ یہ پہلی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے شادی کی اور ان کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی۔

ابراہیم کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی بقیہ تمام اولاد انہی کے بطن سے تھی، سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے اور انہی کے نام پر آپ ﷺ کی کنیت ابو القاسم پڑی۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا، رقیہ رضی اللہ عنہا، ام کلثوم رضی اللہ عنہا، فاطمہ رضی اللہ عنہا، اور عبداللہ پیدا ہوئے، عبداللہ کا لقب طیب اور طاہر تھا۔ آپ ﷺ کے سب بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔
البتہ بچیوں میں سے ہر ایک نے اسلام کا زمانہ پایا۔ مسلمان ہوئیں اور ہجرت کے شرف سے مشرف ہوئیں۔ لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا باقی کا انتقال آپ کی زندگی ہی میں ہو گیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ کی رحلت کے چھ مال بعد ہوئی۔
کعبہ کی تعمیر اور حجر اسود کے تنازعہ کا فیصلہ:
آپ ﷺ کی عمر کا پینتیسواں سال تھا کہ قریش نے نئے سرے سے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی۔
وجہ یہ تھی کہ کعبہ صرف قد سے کچھ اونچی چہار دیواری کی شکل میں تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے ہی سے اس کی بلندی 9 ہاتھ تھی اور اس پر چھت نہ تھی۔ اس کیفیت کا فائدہ اُٹھانے ہوئے کچھ چوروں نے اس کے اندر رکھا خزانہ چرا لیا ۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ اس کی تعمیر پر ایک طویل زمانہ گزر چکا تھا۔ عمارت خستگی کا شکار ہوچکی تھی اور دیواریں پھٹ گئی تھیں۔
ادھر اسی سال ایک زوردار سیلاب آیا، جس کے بہاﺅ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف تھا۔ اس کے نتیجے میں خانہ کعبہ کسی بھی لمحے ڈھہ سکتا تھا۔ اس لیے قریش مجبور ہوگئے کہ اس کا مرتبہ و مقام برقرار رکھنے کے لیے اسے ازسر نو تعمیر کریں۔
اس مرحلے پر قریش نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں صرف حلال رقم ہی استعمال کریں گے۔ اس میں رنڈی کی اُجرت، سود کی دولت اور کسی کا ناحق لیا ہوا مال استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

(نئی تعمیر کے لیے پرانی عمارت کو ڈھانا ضروری تھا) لیکن کسی کو ڈھانے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ بالآخر ولید بن مغیرہ مخزومی نے ابتدا کی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اس پر کوئی آفت نہیں ٹوٹی تو باقی لوگوں نے بھی ڈھانا شروع کیا اور جب قواعد ابراہیم تک ڈھا چکے تو تعمیر کا آغاز کیا، تعمیر کے لیے الگ الگ ہر قبیلے کا حصہ مقرر تھا اور ہر قبیلے نے علیحدہ علیحدہ پتھر کے ڈھیر لگا رکھے تھے۔
تعمیر شروع ہوئی۔ باقوم نامی ایک رومی معمار نگران تھا۔ جب عمارت حجر اسود تک بلند ہو چکی تو یہ جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف و امتیاز کسے حاصل ہو۔ یہ جھگڑا چار پانچ روز تک جاری رہا اور رفتہ رفتہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ معلوم ہوتا تھا سرزمین حرم میں سخت خون خرابہ ہو جائے گا۔ لیکن ابو امیہ مخزومی نے یہ کہہ کر فیصلے کی ایک صورت پیدا کردی کہ مسجد حرام کے دروازے سے دوسرے دن جو سب سے پہلے داخل ہو اسے اپنے جھگڑے کا حکم مان لیں۔
لوگوں نے یہ تجویز منظور کرلی۔ اللہ کی مشیت کہ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو چیخ پڑے کہ ھٰذا الامین رضیناہ ھٰذا محمد ﷺ۔ یہ امین ہیں۔ ہم ان سے راضی ہیں۔ یہ محمد ﷺ ہیں۔ پھر جب آپ ان کے قریب پہنچے اور انہوں نے آپ ﷺ کو معاملے کی تفصیل بتائی تو آپ ﷺ نے ایک چادر طلب کی۔ بیچ میں حجر اسود رکھا اور متنازعہ قبائل کے سرداروں سے کہا کہ آپ سب حضرات چادر کا کنارہ پکڑا کر اوپر اٹھائیں۔
انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب چادر حجر اسود کے مقام تک پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اس کی مقررہ جگہ پر رکھ دیا۔ یہ بڑا معقول فیصلہ تھا۔ اس پر ساری قوم راضی ہوگئی۔
ادھر قریش کے پاس مال حلال کی کمی پڑ گئی اس لیے انہوں نے شمال کی طرف سے کعبہ کی لمبائی تقریباً چھ ہاتھ کم کر دی۔ یہی ٹکڑا حجر اور حطیم کہلاتا ہے۔ اس دفعہ قریش نے کعبہ کا دروازہ زمین سے خاصا بلند کردیا تاکہ اس میں وہی شخص داخل ہو سکے جسے وہ اجازت دیں۔
جب دیواریں پندرہ ہاتھ بلند ہوگئیں تو اندر چھ ستون کھڑے کرکے اوپر سے چھت ڈال دی گئی اور کعبہ اپنی تکمیل کے بعد قریب قریب چوکور شکل کا ہوگیا۔ اب خانہ کعبہ کی بلندی پندرہ میٹر ہے۔ حجر اسود والی دیوار اور اس کے سامنے کی دیوار یعنی جنوبی اور شمالی دیواریں دس دس میٹر ہیں۔ حجر اسود مطاف کی زمین سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر ہے۔ دروازے والی دیوار اور اس کے سامنے کی دیوار یعنی پورب اور پچھم کی دیواریں بارہ بارہ میٹر ہیں۔
دروازہ زمین سے دو میٹر بلند ہے۔ دیوار کے گرد نیچے ہر چہار جانب سے ایک بڑھے ہوئے کرسی نما ضلعے کا گھیرا ہے جس کی اوسط اونچائی 25 سینٹی میٹر اور اوسط چوڑائی 30 سینٹی میٹر ہے۔ اسے شاذروان کہتے ہیں۔ یہ بھی دراصل بیت اللہ کا جزو ہے لیکن قریش نے اسے بھی چھوڑ دیا تھا۔
نبوت سے پہلے اجمالی سیرت:
نبی ﷺ کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع تھا۔
جو متفرق طور پر لوگوں کے مختلف طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ اصابت فکر، دوربینی اور حق پسندی کا بلند مینار تھے۔ آپ ﷺ کو حسن فراست، پختگی فکر اور وسیلہ و مقصد کی درستگی سے حظ وافر عطا ہوا تھا۔ آپ ﷺ اپنی طویل خاموشی سے مسلسل غور و خوض، دائمی تفکیر اور حق کی کرید میں مدد لیتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی شاداب عقل اور روشن فطرت سے زندگی کے صحیفے، لوگوں معاملات اور جماعتوں کے احوال کا مطالعہ کیا اور جن خرافات میں یہ سب لت پت تھیں ان سے سخت بیزاری محسوس کی۔
چنانچہ آپ ﷺ نے ان سب سے دامن کش رہتے ہوئے پوری بصیرت کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کیا۔ یعنی لوگوں کا جو کام اچھا ہوتا اس میں شرکت فرماتے ورنہ اپنی مقررہ تنہائی کی طرف پلٹ جاتے۔ چنانچہ آپﷺ نے شراب کو کبھی منہ نہ لگایا، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا اور بتوں کے لیے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں کبھی شرکت نہ کی۔

آپ ﷺ کو شروع ہی سے ان باطل معبودوں سے اتنی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظر میں کوئی چیز مبغوض نہ تھی حتیٰ کہ لات و عزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارا نہ تھا۔
اس میں شبہ نہیں کہ تقدیر نے آپ پر حفاظت کا سایہ ڈال رکھا تھا۔ چنانچہ جب بعض و دنیاوی تمتعات کے حصول کے لیے نفس کے جذبات متحرک ہوئے یا بعض ناپسندیدہ رسم و رواج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایت ربانی دخیل ہوکر رکاوٹ بن گئی۔
ابن اثیر کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں گزرا لیکن ان دونوں میں سے بھی ہر دفعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اس کام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس کا خیال نہ گزرا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اپنی پیغمبری سے مشرف فرما دیا۔ ہوا یہ کہ جو لڑکا بالائی مکہ میں میرے ساتھ بکریاں چرایا کرتا تھا اس سے ایک رات میں نے کہا کیوں نہ تم میری بکریاں دیکھو اور میں مکہ جا کر دوسرے جوانوں کی طرح وہاں کی شبانہ قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں۔
اس نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نکلا اور ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ باجے کی آواز سنائی پڑی۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا ہے۔ لوگوں نے بتایا فلاں کی فلاں سے شادی ہے۔ میں سننے بیٹھ گیا اور اللہ نے میرا کان بند کر دیا اور میں سو گیا۔ پھر سورج کی تمازت ہی سے میری آنکھ کھلی اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے پوچھنے پر میں نے تفصیلات بتائیں۔
اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور مکہ پہنچا تو پھر اسی رات کی طرح کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد پھر کبھی غلط ارادہ نہ ہوا۔
صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو نبی ﷺ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پتھر ڈھو رہے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی محمد ﷺ سے کہا: اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لو۔
پتھر سے حفاظت رہے گی۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے ایسا کیا آپ زمین پر جا گرے۔ نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ افاقہ ہوتے ہی آواز لگائی میرا تہبند، میرا تہبند۔ اور آپ کا تہبند آپ کو باندھ دیا گیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کے بعد آپ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی گئی۔
نبی ﷺ اپنی قوم میں شیریں کردار، فاضلانہ اخلاق اور کریمانہ عادات کے لحاظ سے ممتاز تھے۔
چنانچہ آپ سب سے زیادہ بامروت، سب سے خوشا خلاق، سب سے معزز ہمسایہ، سب سے بڑھ کر دوراندیش، سب سے زیادہ راست گو، سب سے نرم پہلو، سب سے زیادہ پاک نفس، خیر میں سب سے زیادہ کریم، سب سے نیک عمل، سب سے بڑھ کر پابند عہد اور سب سے بڑے امانت دار تھے، حتیٰ کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی امین رکھ دیا تھا کیونکہ آپ احوال صالحہ اور خصال حمیدہ کا پیکر تھے، اور جیسا کہ حضرت خدیجہ کی شہادت ہے آپ ﷺ درماندوں کا بوجھ اٹھاتے تھے، تہی دستوں کا بندوبست فرماتے تھے، مہمان کی میزبانی کرتے تھے اور مصائب حق میں اعانت فرماتے تھے۔

Your Thoughts and Comments