Deen E Ibrahim MeiN Quresh Ki Bidaat

الرحیق المختوم، دین ابراہیم میں قریش کی بدعات

یوسف ذونواس یمن کا حاکم ہوا تو اس نے یہودیت کے جوش میں نَجران کے عیسائیوں پر ہلہ بول دیا اور انہیں مجبور کیا کہ یہودیت قبول کریں، انکار پر اس نے خندق کھدوائی اور اس میں آگ جلوا کر بوڑھے، بچے مرد عورت سب کو بلا تمیز آگ کے الاﺅ میں جھونک دیا

Deen e Ibrahim meiN Quresh ki bidaat

یہ تھے اہل جاہلیت کے عقائد و اعمال، اس کے ساتھ ہی ان کے اندر دین ابراہیمی کے کچھ باقیات بھی تھے، یعنی انہوں نے یہ دین پورے طور پر نہیں چھوڑا تھا۔ چنانچہ وہ بیت اللہ کی تعظیم اور اس کا طواف کرتے تھے، حج و عمرہ کرتے تھے، عرفات و مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور ہَدی کے جانوروں کی قربانی کرتے تھے۔ البتہ انہوں نے اس دین ابراہیمی میں بہت سی بدعتیں ایجاد کر کے شامل کر دی تھیں۔

مثلاً
قریش کی ایک بدعت یہ تھی کہ وہ کہتے تھے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آولاد ہیں، حرم کے پاسبان، بیت اللہ کے والی اور مکہ کے باشندے ہیں، کوئی شخص ہمارا ہم مرتبہ نہیں اور نہ کسی کے حقوق ہمارے حقوق کے مساوی ہیں۔۔۔۔ اور اسی بنا پر یہ اپنا نام حُمس ( بہادر اور گرم جوش) رکھتے تھے۔۔۔ لہٰذا ہمارے شایان شان نہیں کہ ہم حدود حرم سے باہر جائیں۔

چنانچہ حج کے دوران یہ لوگ عرفات نہیں جاتے تھے اور نہ وہاں سے اِفَاضَہ کرتے تھے بلکہ مُزدَلِفَہ ہی میں ٹھہر کر وہیں سے افاضہ کر لیتے تھے۔ اللہ تعالی نے اس بدعت کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا۔ ترجمہ:” تم لوگ بھی وہیں سے اِفَاضَہ کرو جہاں سے سارے لوگ افاضہ کرتے ہیں۔
ان کی ایک بدعت یہ بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ حمس (قریش) کے لیے احرام کی حالت میں پنیر اور گھی بنانا درست نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ بال والے گھر (یعنی کمبل کے خیمے) میں داخل ہوں اور نہ یہ درست ہے کہ سایہ حاصل کرنا ہو تو چمڑے کے خیمے کے سوا کہیں اور سایہ حاصل کریں۔

ان کی ایک بدعت یہ بھی تھی کہ انہوں نے بیرونَ حرم کے باشندے حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں اور بیرون حرم سے کھانے کی کوئی چیز لے کر آئیں تو اسے ان کے لیے کھانا درست نہیں۔
ایک بدعت یہ بھی تھی کہ انہوں نے بیرون حرم کے باشندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ حرم میں آنے کے بعد پہلا طواف حمس سے حاصل کئے ہوئے کپڑوں ہی میں کریں۔ چنانچہ اگر ان کا کپڑا دستیاب نہ ہوتا تو مرد ننگے طواف کرتے۔
اور عورتیں اپنے سارے کپڑے اتار کر صرف ایک چھوٹا سا کھلا ہوا کرتا پہن لیتیں۔ اور اس میں طواف کرتیں اور دوران طواف یہ شعر پڑھتی جاتیں۔ ترجمہ:”آج کچھ یا کُل شرمگاہ کھل جائے گی۔ لیکن جو کُھل جائے میں اسے دیکھنا حلال نہیں قرار دیتی۔ “
اللہ تعالی نے اس خرافات کے خاتمے کے لیے فرمایا۔ ترجمہ:”اے آدم کے بیٹو۔ ہر مسجد کے پاس اپنی زینت اختیار کر لیا کرو۔

بہرحال اگر کوئی عورت یا مرد برتر اور معزز بن کر بیرون حرم سے لائے ہوئے اپنے ہی کپڑوں میں طواف کر لیتا تو اطواف کے بعد ان کپڑوں کو پھینک دیتا، ان سے نہ خود فائدہ اٹھاتا نہ کوئی اور۔
قریش کی بدعت یہ بھی تھی کہ وہ حالت احرام میں گھر کے اندر دروازے سے داخل نہ ہوتے تھے بلکہ گھر کے پیچھواڑے ایک بڑا سا سوراخ بنا لیتے اور اسی سے آتے جاتے تھے اور اپنے اس اُجڈپنے کو نیکی سمجھتے تھے۔
قرآن کریم نے اس سے بھی منع فرمایا۔
یہی دین ------ یعنی شرک و بُت پرستی اور توہمات و خرافات پر مبنی عقیدہ و عمل والا دین ----- عام اہل عرب کا دین تھا۔
اس کے علاوہ جزیرۃ العرب کے مختلف اطراف میں یہودیت، مسیحیت، مجوسیت اور صابئیت نے بھی در آنے کے مواقع پا لیے تھے۔ لہٰذا ان کا تاریخی خاکہ بھی مختصر پیش کیا جارہا ہے۔
جزیرة العرب میں یہود کے کم از کم دو ادواد ہیں۔
پہلا دور اس وقت سے تعلق رکھتا ہے جب فلسطین میں بابل اور آشُور کی حکومت کی فتوحات کے سبب یہودیوں کو ترک وطن کرنا پڑا۔ اس حکومت کی سخت گیری اور بُختِ نصر کے ہاتھوں یہودی بستیوں کی تباہی و ویرانی، ان کے ہَیکل کی بربادی اور ان کی اکثریت کی ملک بابل کو جلاوطنی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کی ایک جماعت فلسطین چھوڑ کر حجاز کے شمالی اطراف میں آ بسی۔

دوسرا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب ٹائیٹس رومی کی زیر قیادت 70ء میں رومیوں نے فلسطین پر قبضہ کیا۔ اس موقع پر رومیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی داروگیر اور ان کے ہیکل کی بربادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد یہودی قبیلے حجاز بھاگ آئے اور یَثرِب، خَیبر اور تَیماء میں آباد ہو کر یہاں اپنی باقاعدہ بستیاں بسا لیں اور قلعے اور گڑھیاں تعمیر کرلیں۔
ان تارکین وطن یہود کے ذریعے عرب باشندوں میں کسی قدر یہودی مذہب کا بھی رواج ہوا اور اسے بھی ظہور اسلام سے پہلے اور اس کے ابتدائی دور کے سیاسی حوادث میں ایک قابل ذکر حیثیت حاصل ہو گئی۔ ظہور اسلام کے وقت مشہور یہودی قبائل یہ تھے: خَیبر، نَضِیر، مُصطَلق، قُریَظَہ، اور قینُقاع، سَمہُودِی نے وفا الوفا کے صفحہ نمر 116 میں ذکر کیا ہے کہ یہود قبائل کی تعداد بیس سے زیادہ تھی۔

یہودیت کو یمن میں بھی فروغ حاصل ہوا۔ یہاں اس کے پھیلنے کا سبب تبان اسعد ابو کرب تھا، یہ شخص جنگ کرتا ہوا یثرب پہنچا، وہاں یہودیت قبول کر لی اور بنو قُریظَہ کے دو یہودی علماء کو اپنے ساتھ یمن لے آیا اور ان کے ذریعے یہودیت کو یمن میں وسعت اور پھیلاﺅ حاصل ہوا، ابو کرب کے بعد اس کا بیٹا یوسف ذونواس یمن کا حاکم ہوا تو اس نے یہودیت کے جوش میں نَجران کے عیسائیوں پر ہلہ بول دیا اور انہیں مجبور کیا کہ یہودیت قبول کریں، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔
اس پر ذونواس نے خندق کھدوائی اور اس میں آگ جلوا کر بوڑھے، بچے مرد عورت سب کو بلا تمیز آگ کے الاﺅ میں جھونک دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حادثے کا شکار ہونے والوں کی تعداد بیس سے چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ یہ اکتوبر523ء کا واقعہ ہے۔ قرآن مجید نے سورۂ بروج میں اسی واقعے کا ذکر کیا ہے۔
جہاں تک عیسائی مذہب کا تعلق ہے تو بلادِ عرب میں اس کی آمد حبشی اور رومی قبضہ گیروں اور فاتحین کے ذریعے ہوئی۔
ہم بتا چکے ہیں کہ یمن پر حبشیوں کا قبضہ پہلی بار 340ء میں ہوا۔ اور 378ء تک برقرار رہا، اس دوران یمن میں مسیحی مشن کام کرتا رہا، تقریباً اسی زمانے میں ایک مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات زاہد، جس کا نام فیمیون تھا، نَجران پہنچا اور وہاں کے باشندوں میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کی۔ اہل نجران نے اس کی اور اس کے دین کی سچائی کی کچھ ایسی علامات دیکھیں کہ وہ عیسائیت کے حلقہ بگوش ہو گئے۔

پھر ذونواس کی کارروائی کے ردعمل کے طور پر حبشیوں نے دوبارہ یمن پر قبضہ کیا اور اَبرہَہَ نے حکومت یمن کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی تو اس نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ بڑے پیمانے پر عیسایت کو فروغ دینے کی کوشش کی، اسی جوش و خروش کا نتیجہ تھا کہ اس نے یمن میں ایک کعبہ تعمیر کیا اور کوشش کی کہ اہل عرب کو (مکہ اور بیت اللہ سے) روک کر اسی کا حج کرائے اور مکہ کے بیت اللہ شریف کو ڈھا دے۔
لیکن اس کی اس جرات پر اللہ تعالی نے اسے ایسی سزا دی کہ اولین و آخرین کے لیے عبرت بن گیا۔
دوسری طرف رومی علاقوں کی ہمسائیگی کے سبب آلِ غَسّان، بنو تَغلب اور بنو طَی وغیرہ قبائل عرب میں بھی عیسائیت پھیل گئی تھی۔ بلکہ حِیرہ کے بعض عرب بادشاہوں نے بھی عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔
جہاں تک مجوسی مذہب کا تعلق ہے تو اسے زیادہ تر اہل فارس کے ہمسایہ عربوں میں فروغ حاصل ہوا تھا۔
مثلاً عراق عرب بحرین، (الاحسار) حجر اور خیلج عربی کے ساحلی علاقے۔ ان کے علاوہ یمن پر فارسی قبضے کے دوران وہاں بھی اکّا ذکّا افراد نے مجوسیت قبول کی۔
باقی رہا صابی مذہب، تو عراق وغیرہ کے آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کلدانی قوم کا مذہب تھا۔ دور قدیم میں شام یمن کے بہت سے باشندے بھی اسی مذہب کے پیرو تھے۔
لیکن جب یہودیت اور پھر عیسائیت کا دور دورہ ہوا تو اس مذہب کی بنیادیں ہل گئیں اور اس کی شمع فروزاں گل ہو کر رہ گئی، تاہم مجوس کے ساتھ خلط ملط ہو کر یا ان کے پڑوس میں عراق عرب اور خیلج عربی کے ساحل پر اس مذہب کے کچھ نہ کچھ پیروکار باقی رہے۔
دینی حالت:
جس وقت اسلام کا نیر تاباں طلوع ہوا ہے یہی مذاہب و ادیان تھے جو عرب میں پائے جاتے تھے لیکن یہ سارے ہی مذاہب شکست و ریخت سے دوچار تھے۔
مشرکین، جن کا دعویٰ تھا کہ ہم دین ابراہیمی پر ہیں، شریعت ابراہیمی کے اوامر و نواہی سے کوسوں دور تھے۔ اس شریعت نے جن مکارم اخلاق کی تعلیم دی تھی ان سے ان مشرکین کو کوئی واسطہ نہ تھا۔ ان میں گناہوں کی بھرمار تھی اور طول زمانہ کے سبب ان میں بھی بت پرستوں کی وہی عادات و رسوم پیدا ہو چکی تھیں جنہیں دینی خرافات کا درجہ حاصل ہے۔ ان عادات و رسوم نے ان کی اجتماعی سیاسی اور دینی زندگی پر نہایت گہرے اثرات ڈالے تھے۔

یہودی مذہب کا حال یہ تھا کہ وہ محض ریاکاری اور تحکم بن گیا تھا۔ یہودی پیشوا اللہ کے بجائے خود رب بن بیٹھے تھے۔ لوگوں پر اپنی مرضی چلاتے تھے اور ان کے دلوں میں گزرنے والے خیالات اور ہونٹوں کی حرکات تک کا محاسبہ کرتے تھے، ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ کسی طرح مال و ریاست حاصل ہو، خواہ دین برباد ہی کیوں نہ ہو اور کفر و الحاد کو فروغ ہی کیوں نہ حاصل ہو اور ان تعلیمات کے ساتھ تساہُل ہی کیوں نہ برتا جائے جن کی تقدیس کا اللہ تعالی نے ہر شخص کو حکم دیا ہے اور جن پر عمل درآمد کی ترغیب دی ہے۔

عیسائیت ایک ناقابل فہم بُت پرستی بن گئی تھی، اس نے اللہ اور انسان کو عجیب طرح سے خلط ملط کر دیا تھا۔ پھر جب عربوں نے اس دین کو اختیار کیا تھا ان پر اس دین کا کوئی حقیقی اثر نہ تھا کیونکہ اس کی تعلیمات ان کے مالوف طرز زندگی سے میل نہیں کھاتی تھیں اور وہ اپنا طرز زندگی چھوڑ نہیں سکتے تھے۔
باقی ادیان عرب کے ماننے والوں کا حال مشرکین ہی جیسا تھا کیونکہ ن کے دل یکساں تھے، عقائد ایک سے تھے اور رسم و رواج میں ہم آہنگی تھی۔

Your Thoughts and Comments