Tableegh Ka Hukm Aor Os Kay Mozmerat

تبلیغ کا حکم اور اس کے مضمرات

قیامت کا دن جزا کا دن اور بدلے کا دن ہے، اس دن بدلہ دئیے جانے کا لازمی تقاضا ہے کہ ہم دنیا میں جو زندگی گزار رہے ہیں اس کے علاوہ بھی ایک زندگی ہو

Tableegh ka Hukm aor os kay mozmerat

سورة المدثر کی ابتدائی آیات۔۔۔۔۔۔یایھا المدثر سے ۔۔۔۔۔ولربک فاصبر تک میں نبی ﷺ کو کئی حکم دئیے گئے ہیں جو بظاہر تو بہت مختصر اور سادہ ہیں لیکن حقیقتاً بڑے دور رس مقاصد پر مشتمل ہیں اور حقائق پر ان کے گہرے اثرات ہوتے ہیں چنانچہ:
۱۔انذار کی آخری منزل یہ ہے کہ عالم وجود میں اللہ کی مرضی کے خلاف جو بھی چل رہا ہو اسے اس کے پرخطر انجام سے آگاہ کر دیا جائے اور وہ بھی اس طرح کہ عذاب الٰہی کے خوف سے اس کے دل و دماغ میں ہلچل اور اتھل پتھل مچ جائے۔


۲۔ رب کی بڑائی و کبریائی بجا لانے کی آخری منزل یہ ہے کہ روئے زمین پر کسی اور کی کبریائی برقرار نہ رہنے دی جائے۔ بلکہ اس کی شوکت توڑ دی جائے اور اسے الٹ کر رکھ دیا جائے یہاں تک کہ روئے زمین پر صرف اللہ کی بڑائی باقی رہے۔


۳۔ کپڑے کی پاکی اور گندگی سے دوری کی آخری منزل یہ ہے کہ ظاہر و باطن کی پاکی اور تمام شوائب و الوات سے نفس کی صفائی کے سلسلے میں اس حد کمال کو پہنچ جائیں جو اللہ کی رحمت کے گھنے سائے میں اس کی حفاظت و نگہداشت اور ہدایت و نور کے تحت ممکن ہے یہاں تک کہ انسانی معاشرے کا ایسا اعلیٰ ترین نمونہ بن جائیں کہ آپ ﷺ کی طرف تمام قلب سلیم کھنچتے چلے جائیں اور آپ ﷺ کی ہیبت و عظمت کا احساس تمام کج دلوں کو ہو جائے اور اس طرح ساری دنیا موافتم یا مخالفت میں آپﷺ کے گرد مرتکز ہو جائے۔


۴۔ احسان کرکے اس پر کثرت نہ چاہنے کی آخری منزل یہ ہے کہ اپنی جدوجہد اور کارناموں کو بڑائی اور اہمیت نہ دیں بلکہ ایک کے بعد دوسرے عمل کے لیے جدوجہد کرتے جائیں۔ اور بڑے پیمانے پر قربانی اور جہد و مشقت کرکے اسے اس معنی میں فراموش کرتے جائیں کہ یہ ہمارا کوئی کارنامہ ہے۔ یعنی اللہ کی یاد اور اس کے سامنے جوابدہی کا احساس اپنی جہد و مشقت کے احساس پر غالب رہے۔

۵۔آخری آیت میں اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف دعوت کا کام شروع کرنے کے بعد معاندین کی جانب سے مخالفت، استہزاء، ہنسی اور ٹھٹھے کی شکلوں میں ایذا رسانی سے لے کر آپﷺ کو اور آپﷺ کے ساتھیوں کو قتل کرنے اور آپﷺ کے گرد جمع ہونے والے اہل ایمان کو نیست و نابود کرنے تک کی بھرپور کوششیں ہوں گی اور آپﷺ کو ان سب سے سابقہ پیش آئے گا۔ اس صورت میں آپﷺ کو بڑی پامردی اور پختگی سے صبر کرنا ہوگا۔
وہ بھی اس لیے نہیں کہ اس صبر کے بدلے کسی حظِ نفسانی کے حصول کی توقع ہو۔ بلکہ محض اپنے رب کی مرضی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے۔ (ولربک فاصبر)
اللہ اکبر! یہ احکامات اپنی ظاہری شکل میں کتنے سادہ اور مختصر ہیں اور ان کے الفاظ کی بندش کتنی پرسکون اور پرکشش نغمگی لیے ہوئے ہے۔ لیکن عمل اور مقصد کے لحاظ سے یہ احکامات کتنے بھاری، کتنے باعظمت اور کتنے سخت ہیں اور ان کے نتیجے میں کتنی سخت چومکھی آندھی بپا ہوگی جو ساری دنیا کے گوشے گوشے کو ہلا کر اور ایک کو دوسرے سے گتھ کر رکھ دے گی۔

ان ہی مذکورہ آیات میں دعوت و تبلیغ کا مواد بھی موجود ہے۔ اِنذار کا مطلب ہی یہ ہے کہ بنی آدم کے کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا انجام برا ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں لوگوں کو نہ تو ان کے سارے اعمال کا بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ دیا جا سکتا ہے اس لیے اِنذار کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ دنیا کے دنوں کے علاوہ ایک دن ایسا بھی ہونا چاہیے جس میں ہر عمل کا پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک بدلہ دیا جا سکے۔
یہی قیامت کا دن جزا کا دن اور بدلے کا دن ہے، پھر اس دن بدلہ دئیے جانے کا لازمی تقاضا ہے کہ ہم دنیا میں جو زندگی گزار رہے ہیں اس کے علاوہ بھی ایک زندگی ہو۔
بقیہ آیات میں بندوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ توحید خالص اختیار کریں۔ اپنے سارے معاملات اللہ کو سونپ دیں۔ اور اللہ کی مرضی پر نفس کی خواہش اور لوگوں کی مرضی کو تج دیں۔ اس طرح دعوت و تبلیغ کے مواد کا خلاصہ یہ ہوا:
(الف) توحید
(ب) یوم آخرت پر ایمان
(ج) تزکیہ نفس کا اہتمام یعنی انجام بد تک لے جانے والے گندے اور فحش کاموں سے پرہیز، اور فضائل و کمالات اور اعمال خیر پر کاربند ہونے کی کوشش ۔

(د) اپنے سارے معاملات کی اللہ کو حوالگی و سپردگی۔
(ہ) پھر اس سلسلے کی آخری کڑی یہ ہے کہ یہ سب کچھ نبی ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر، آپﷺ کی باعظمت قیادت اور رشد و ہدایت سے لبریز فرمودات کی روشنی میں انجام دیا جائے۔
پھر ان آیات کا مطلع اللہ بزرگ و برتر کی آواز میں ایک آسمانی ندا پر مشتمل ہے، جس میں نبیﷺ کو اس عظیم و جلیل کام کے لیے اٹھنے اور نیند کی چادر پوشی اور بستر کی گرمی سے نکل کر جہاد وَ کفاح اور سعی و مشقت کے میدان میں آنے کے لیے کا گیا ہے۔
یٰا یُھا المدثر۔ قُم فَانذِر۔
اے چادر پوش اُٹھ اور ڈرا، گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ جسے اپنے لیے جینا ہے وہ تو راحت کی زندگی گزار سکتا ہے۔ لیکن آپﷺ، جو اس زبردست بوجھ کو اٹھا رہے ہیں، تو آپﷺ کو نیند سے کیا تعلق؟ آپﷺ کو راحت سے کیا سروکار؟ آپﷺ کو گرم بستر سے کیا مطلب؟ پرسکون زندگی سے کیا نسبت؟ راحت بخش سازوسامان سے کیا واسطہ؟ آپﷺ اٹھ جائیے اس کار عظیم کے لیے جو آپﷺ کا منتظر ہے۔
اس بارِ گراں کے لیے جو آپﷺ کی خاطر تیار ہے۔ اٹھ جائیے جہد و مشقت کے لیے، تکان اور محنت کے لیے اٹھ جائیے! کہ اب نیند اور راحت کا وقت گزر چکا، اب آج سے پہما بیداری ہے اور طویل و پرمشقت جہاد ہے، اٹھ جائیے! اور اس کام کے لیے مستعد اور تیار ہو جائیے۔
یہ بڑا عظیم اور پرہیبت کلمہ ہے۔ اس نے نبیﷺ کو پرسکون گھر، گرم آغوش اور نرم بستر سے کھینچ کر تند طوفانوں اور تیز جھکڑوں کے درمیان اتھاہ سمندر میں پھینک دیا اور لوگوں کے ضمیر اور زندگی کے حقائق کی کشاکش کے درمیان لا کھڑا کیا۔

پھر رسول اللہﷺ اٹھ گئے اور بیس سال سے زیادہ عرصے تک اٹھے رہے۔ راحت و سکون تج دیا، زندگی اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے نہ رہی۔ آپﷺ اُٹھے تو اُٹھے ہی رہے۔ کام اللہ کی طرف دعوت دینا تھا۔ آپﷺ نے یہ کمر توڑ بارِ گراں اپنے شانے پر کسی دباﺅ کے بغیر اٹھا لیا۔ یہ بوجھ تھا اس روئے زمین پر، امانت کبریٰ کا بوجھ، ساری انسانیت کا بوجھ، سارے عقیدے کا بوجھ اور مختلف میدانوں میں جہاد و دفاع کا بوجھ، آپ نے بیس سال سے زیادہ عرصے تک پہمت اور ہمہ گیر معرکہ آرائی میں زندگی بسر کی اور اس پورے عرصے میں یعنی جب سے آپﷺ نے وہ آسمانی ندائے جلیل سنی اور یہ گراں بار ذمہ داری پائی آپ کو کوئی ایک حالت کسی دوسری حالت سے غافل نہ کر سکی۔
اللہ آپﷺ کو ہماری طرف سے اور ساری انسانیت کی طرف سے بہترین جزا دے۔

Your Thoughts and Comments