Bab Ul Ilm Se Kya Sikha Hum Ne ?

باب العلم سے کیا سکھا ہم نے؟

ایک سوال بنتا ہے جو میں اپنی ذات سے اور آپ اپنی ذات سے پوچھ سکتے ہیں۔ ہم نے باب العلم سے کیا سیکھا؟

ہفتہ مئی

bab ul ilm se kya sikha hum ne ?

تحریر: عرفان چانڈیو


رمضان المبارک کا مہینہ جہاں اور بہت ساری برکات اور واقعات کا مہینہ ہے وہاں باب العلم کی شہادت کا مہینہ بھی ہے۔19 رمضان کی صبح علم والوں کے لیے ایک ڈوبتی شام کے ہم پلہ تھی۔ جب عبدرالرحمن ابن ملجم نے باب العلم کے سر پر وار کیا۔ دنیاوی فطرت ہے کہ زخمی شخص جس کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی کچھ لمحوں کی مہمان ہے وہ اپنے خاندان کو وصیت کرتا ہے۔

مگر جن کو رسولﷺ نے باب العلم کا لقب دیا ہو وہ جاتے جاتے بھی امتِ محمدی کو ایسی وصیت کر گئے جس کو علم کا پیاسا سمجھنے بیٹھ جائے تو شاید ہر لائن پے نہیں ہر حرف پے اُ سکو سمندر جتنا علم ملے۔حضرت علی،عبد الرحمن لعنتی کے وار سے شدید زخمی ہونے کے بعد اپنے بیٹوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔


"میں تم دونوں کو خدا سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔

اور دیکھو دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل کیوں نہ ہو۔اور دنیا کی جس چیز سے تم کو روک لیاجائے اس پر افسوس نہ کرنا۔اور جو بھی کہنا حق کہنا۔اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔ظالم کے مخالف اور مظلوم کے مددگار رہنا۔میں تم دونوں کو اوربقیہ اپنی تمام اولادوں اور، اپنے تمام اہل وعیال کواور ان تمام افراد کو کہ جن تک یہ میرانوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔
اورباہمی تعلقات کو استوار رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ:آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کہ کہیں ان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہاری موجود گی میں وہ ضائع نہ ہو جائیں۔خدارا خدا را. اپنے ہمسایوں کا خیال رکہنا کہ ان کے بارے میں تمہارے نبی نے وصیت کی اور اتنی شدیدتاکید فرمائی ہے کہ یہ گمان ہونے لگا تھا کہ کہیں آپ اُنھیں بھی میراث پانے والوں میں سے قرار نہ دے دیں۔
خدارا خدارا قرآن کا خیال رکھنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔خدارا خدارا نماز کی ادائیگی میں پابند رہنا اس لئے کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔خدارا خدارا اپنے رب کے گھر کا خیال رکھنا، جب تک کہ تم زندہ ہو اسے خالی نہ چھوڑنا۔کیونکہ اگر اسے خالی چھوڑ دیا توپھر عذاب سے مہلت نہ ملے گی۔خدارا خدارا راہِ خدا میں اپنی جان. مال.اور زبان کے ذریعے جہاد سے دریغ نہ کرنا۔
تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرنا اورخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تب بھی وہ قبول نہ ہوگی۔دیکھو! میریقتل کے بدلے صرف میرے قاتل کو ہی قتل کیاجائے۔ دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس کے سر پر ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔
"(نہج البلاغہ مکتوب (47) وصیت ترجمہ مرحوم مفتی جعفرحسین)
آپ کی یہ وصیت بظاہراً اپنے بیٹوں کے لیے تھی مگردست پردہ یہ وصیت امت محمدی کے ہر اُس فرد کے لیے ہے جو سیرت رسولﷺ پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو۔ یہ وصیت اسلام کا نِچوڑ ہے۔ اس وصیت میں آپ نے خدا کی واحدانیت سے لے کر یتیم کے حقوق تک کی بات کر ڈالی۔۔ مگر یہاں پر ایک سوال بنتا ہے جو میں اپنی ذات سے اور آپ اپنی ذات سے پوچھ سکتے ہیں۔
ہم نے باب العلم سے کیا سیکھا؟ کچھ نے علی علی کر کے خود کو ملنگی بھیس میں ڈھال لیا اور کچھ نے علی کو صرف ولی کا عہدہ دے کر کتابوں میں اور کرسیوں پر بٹھا کر محفوظ کر لیا۔ اصل میں یہ سب غیرذمہ دار ہیں جو باب العلم کی سونپی ہوئی ذمہ داری کو ادا نہیں کر رہے۔ ہاں بات میں کڑواہٹ ہے مگر سچ ہے، کہ ہم سب بد دیانت ہیں علی کی سونپی ہوئی ذمہ داری کے، اس لیے ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں"تم علی علی کر کے اُس ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہو جو تمھیں علی نے سونپی ہے۔
"
ستم تو یہ ہے جن شخصیت سے غیرمسلم متاثر ہو گئے ہم نے اُن کو بھی فرقوں میں تقسیم کر دیا۔ علمی بحث تو ہر جگہ ہوتی ہے مگر جہاں سے علم لینے کی بات ہو وہاں پر کیسا فرقہ۔؟ بھوکا شخص کھانے میں وہ چیز بھی کھا لیتا ہے جو اُس کی پسندیدہ نہ ہو۔ اس طرح جو علم کا بھوکا ہواُسے کیا لگاؤ فرقوں سے، اُس کو تو علم چاہئے کب کیسے اور کہاں کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ فرمان رسولﷺ ہے کہ میں علم کا شہر ہو اور علی اُس کا دروازہ ہے۔ یہ حدیث بچپن سے سنتے آ رہے ہیں مگر اُس حدیث کا مفہوم کبھی نہیں جانا۔ ممبر پر بیٹھے حضرات نے اس حدیث کو بیان کرکے مجمع سے واہ واہ وصول کر لی اور یہ حدیث بھی واہ واہ کے بھیٹ چڑ گئی۔

Your Thoughts and Comments