Faateh Shaam O Qabras

فاتح شام و قبرص

تاریخ اسلام کے روشن اوراق آپ کے کردار و کارناموں اور فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔آپ کے والد سیدنا ابو سفیانؓ سرداران قریش میں سے ہیں اور فتح مکہ کے موقع پر حضورؐ نے ان کے گھر کو بھی ’’دارالامن‘‘ قرار دیا۔

ہفتہ اپریل

faateh shaam o qabras

مولانا مجیب الرحمن انقلابی:
سیدنا حضرت امیر معاویہؓ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ کاتب وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے موجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ آپ کے لیے حضورؐ کی زبان مبارک سے کئی مرتبہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں۔ آپ کی بہن حضرت سیدہ امّ حبیبہؓ کو حضور اکرمؐ کی زوجہ محترمہ اور اُمّ المؤمنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، آپ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل یعنی آدھی دنیا پر حکومت کی۔


تاریخ اسلام کے روشن اوراق آپ کے کردار و کارناموں اور فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔آپ کے والد سیدنا ابو سفیانؓ سرداران قریش میں سے ہیں اور فتح مکہ کے موقع پر حضورؐ نے ان کے گھر کو بھی ’’دارالامن‘‘ قرار دیا۔

سیدنا حضرت امیر معاویہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضورؐ سے مل جاتا ہے۔سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا کہ! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن معاویہؓ کو اس حالت میں اٹھائیں گے کہ ان پر نورِ ایمان کی چادر ہوگی۔

(کنزالعمال)
حضورؐنے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ! معاویہ بن ابی سفیانؓ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سخی ہیں۔ (تطہیر الجنان ص 12)سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سروقد، لحیم و شحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی، آنکھیں موٹی، گھنی داڑھی، وضع قطع، چال ڈھال میں بظاہر شان و شوکت اور تمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد و تواضع، فروتنی، حلم و بردباری اور چہرہ سے ذہانت و فطانت مترشح تھی۔
مشہور روایت کے مطابق آپ فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد سیدنا حضرت ابوسفیانؓ کے ہمراہ اسلام لائے۔
سیدنا حضرت امیر معاویہؓ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورؐ نے انہیں مبارکباد دی اور ’’مرحبا‘‘ فرمایا (البدایہ والنہایہ 117/8)حضورؐ چونکہ سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے سابقہ حالات زندگی اور ان کی صلاحیت و قابلیت سے آگاہ تھے اس لیے انھیں اپنے خاص قرب سے نوازا۔
فتح مکہ کے بعد آپ حضورؐ کے ساتھ ہی رہے اور تمام غزوات میں حضورؐ کی قیادت و معیت میں بھرپور حصہ لیا۔ قرآن مجید کی حفاظت میں ایک اہم سبب ’’کتابت وحی‘‘ ہے۔ حضورؐ نے جلیل القدر صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک جماعت مقرر کر رکھی تھی جو کہ ’’کاتبین وحی‘‘ تھے ان میں سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کا چھٹا نمبر تھا، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ حضورؐ اسی کو کاتب وحی بناتے تھے جو ذی عدالت اور امانت دار ہوتا تھا۔
(ازالۃ الخلفاء از شاہ ولی اللہ)
سیدنا حضرت امیر معاویہؓ وہ خوش قسمت انسان ہیں جن کو کتابت وحی کے ساتھ ساتھ حضورؐ کے خطوط تحریر کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔سیدنا حضرت امیر معاویہؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر رہتے یہاں تک کہ سفر و حضر میں بھی خدمت کا موقعہ تلاش کرتے چنانچہ ایک بار حضورؐ کہیں تشریف لے چلے تو سیدنا حضرت امیر معاویہؓ خدمت کے لیے پیچھے پیچھے ساتھ ہو گئے۔
راستہ میں حضورؐ کو وضو کی حاجت ہوئی۔ پیچھے مڑے تو دیکھا سیدنا امیر معاویہؓ پانی کا برتن لیے کھڑے ہیں آپؐ بڑے متاثر ہوئے چنانچہ وضو کے لیے بیٹھے تو فرمانے لگے۔ ’’معاویہؓ تم حکمران بنو تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں سے درگزر کرنا۔‘‘ حضرت معاویہؓ فرمایا کرتے تھے کہ اسی وقت مجھے امید ہو گئی تھی کہ حضورؐ کی پیشین گوئی صادق آئے گی اور میں کبھی نہ کبھی ضرور خلیفہ ہو کر رہوں گا۔

حضورؐ آپ کی خدمت اور بے لوث محبت سے اتنا خوش تھے کہ بعض اہم خدمات آپ کے سپرد فرما دی تھیں۔ علامہ اکبر نجیب آبادی ’’تاریخ اسلام‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ حضورؐ نے اپنے باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارت اور ان کے قیام و طعام کا انتظام و اہتمام بھی حضرت معاویہؓ کے سپرد کر دیا تھا۔ حضورؐ کی وفات کے بعد خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں آپ نے مانعین زکوٰۃ، منکرین ختم نبوت، جھوٹے مدعیان نبوت اور مرتدین کے فتنوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور کئی کارنامے سرانجام دیے۔
عرب نقاد رضوی لکھتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ کسی کا خون بہانا پسند نہیں کرتے تھے مگر پھر بھی آپ اسلامی ہدایات کے مطابق مرتدین کے قتل و قتال میں کسی سے پیچھے نہ تھے ایک روایت کے مطابق مسیلمہ کذاب حضرت معاویہؓ کے وار سے جہنم رسید ہوا۔ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں جو فتوحات ہوئیں اس میں حضرت امیر معاویہؓ کا نمایاں حصہ اور کردار ہے جنگ یرموک میں آپ بڑی بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے، آپ کا پورا خاندان اس جنگ میں حصہ لے رہا تھا۔

خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہؓ جہاد و فتوحات میں مصروف رہے اور آپ نے رومیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے طرابلس، الشام، عموریہ، شمشاط، ملطیہ، انطاکیہ، طرطوس، ارواڑ، روڈس اور صقلیہ کو حدود نصرانیت سے نکال کر اسلامی سلطنت میں داخل کر دیے، سیدنا حضرت امیر معاویہؓ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد اب یہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے اس کو اب سمندر پار یورپ میں داخل ہونا چاہیے ’’فتح قبرص‘‘ کی خواہش آپ کے دل میں مچل رہی تھی یورپ و افریقہ پر حملہ اور فتح کیلئے بحری بیڑے کی اشد ضرورت تھی۔
کیونکہ بحر روم میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لیے بہت قریبی خطرہ تھا ۔حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہؓ نے بڑے جوش خروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کر دی اور اپنی اس بحری مہم کا اعلان کر دیا، جس کے جواب میں جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے، 28ھ میں آپ پوری شان و شوکت، تیاری و طاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ ’’بحر روم‘‘ میں اترے وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لی لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر سیدنا حضرت امیر معاویہؓ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریباً پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے قبرص (سائپرس) کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص (سائپرس) کو فتح کر لیا، اس لشکر کے امیر و قائد خود سیدنا حضرت امیر معاویہؓ تھے آپ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لیے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ جن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ ، حضرت ابوذر غفاریؓ ، حضرت ابودردائؓ ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور حضرت شداد بن اوسؓ سمیت دیگر صحابہ کرامؓ شریک ہوئے، اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا، تجربہ کار رومی فوجوں اور بحری لڑائی کے ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بدترین شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔

حضورؐ نے ’’اُمّ حرام‘‘ والی حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت و خوشخبری فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جنگ کرے گا۔پہلی بشارت سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں پوری ہوئی جب سیدنا حضرت امیر معاویہؓ نے سب سے پہلی بحری لڑائی لڑتے ہوئے قبرص (سائپرس) کو فتح کر کے رومیوں کو زبردست شکست دی تھی اور دوسری بشارت سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے دور حکومت میں اس وقت پوری ہوئی جب لشکر اسلام نے قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کر کے اس کو فتح کیا۔
اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے شوقِ شہادت اور جذبہ جہاد سے سرشار صحابہ کرامؓ و تابعین دنیا کے گوشہ گوشہ سے دمشق پہنچے ۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ ؓنے سب سے پہلا اقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔جہاز سازی کے کارخانے بنائے اورسب سے پہلی اسلامی بحریہ قائم کر کے اس وقت کی سب سے زبردست رومن بحریہ کو شکست دی۔سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا (تاریخ اسلام از اکبر شاہ خان نجیب آبادی) آب پاشی اور آب نوشی کے لیے دورِ اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔
ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔سرکاری احکام پر مہر لگانے اور نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔آپ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔ بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک و نفع کے جاری کر کے تجارت و صنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کیے۔
آپ اطاعت الٰہی، اطاعت رسولؐ ، اتباع سنت، جوش قبول حق، تحمل و بردباری، تقویٰ اور خوف الٰہی کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔
22 رجب المرجب 60ھ میں کاتب وحی، جلیل القدر صحابی رسولؐ، فاتح شام و قبرص اور 19 انیس سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے سیدنا حضرت امیر معاویہؓ 78 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ حضرت ضحاک بن قیسؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کیے گئے۔

Your Thoughts and Comments