Ghalaf E Kabba Ki Tareekh

غلاف کعبہ کی تاریخ

سب سے پہلے غلاف سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا

منگل اگست

Ghalaf e Kabba ki tareekh
صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی
خانہ کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے جہاں ہر سال پوری دنیا سے ہر نسل ،ہر رنگ،ہر زبان ،ہر علاقے ،ہر ملک اور خطے سے تعلق رکھنے والے مسلمان جمع ہوکر فریضہ حج ادا کرنے کی سعادت عظمیٰ حاصل کرتے ہیں ،طواف کعبہ کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ اللہ سے بیشمار دعائیں بھی مانگتے ہیں۔

کعبہ اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بھی بہت پرانی ہے اس پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل علیہ السلام نے چڑھایا۔مورخین کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے ساتھ ساتھ غلاف کعبہ کا بھی اہتمام فرمایا تھا۔روایات میں آیا ہے کہ ظہور اسلام سے 7سوبرس قبل اور ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے 220برس پہلے یمن کے بادشاہ تبع ابوکرب اسد نے خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ شریف پر غلاف چڑھا رہا ہے اور ایسا خواب اس نے کئی بار دیکھا تھا۔

ایک جنگ سے واپسی پر وہ مکہ مکرمہ سے گزرا تو اسے اپنا وہ خواب یاد آیا چنانچہ اس نے یمن سے قیمتی کپڑے کا غلاف بنواکر خانہ کعبہ پر چڑھادیا۔
اس نے پہلی مرتبہ درکعبہ مشرفہ کیلئے ایک چابی اور تالہ بنوایا اور اس کے وصال کے بعد یمن کے ہر بادشاہ نے یہ سعادت حاصل کی اور ہر بادشاہ نے اللہ کے مقدس گھر کی حرمت کیلئے غلاف کعبہ بنوایا اور چڑھایا۔

مورخین کی نظر میں اس واقعہ کے درست ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ اسد نامی بادشاہ کو براکہہ رہے تھے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسد حمیری کی برامت کہو کیونکہ اس نے کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا اور یہ غلاف سرخ دھاری دار یمنی کپڑے سے بنایا گیا تھا۔قریش مکہ ہر سال 10محرم کو کعبہ کا غلاف بدلتے تھے اور اس دن وہ احترام کی خاطر روزہ بھی رکھتے تھے۔
زمانہ جاہلیت میں خالد بن جعفر بن کلاب نے کعبہ پر پہلی مرتبہ دیباج کا غلاف چڑھایا تھا اور اس کی لاگت تمام قبائل قریش میں تقسیم کی گئی تھی۔
اس وقت غلاف ٹاٹ چمڑے اور دیباج سے تیار کئے جاتے تھے۔بنی مخروم کے ابو ربیعہ بن عبداللہ ابو بن عمرنے تجارت میں بے حد منافع کمایا تو اس نے قریش سے کہا ایک سال کعبہ پر غلاف میں چڑھایا کروں گا اور ایک سال تمام قریش ملکر یہ فریضہ سر انجام دیا کریں گے۔
چنانچہ اس کے مرنے تک یہی دستور رہا۔چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔انھوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے خصوصی بیت المال قائم کیا تاکہ تمام قبائل اپنی اپنی حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں اور کوئی بھی قبیلہ اس سعادت سے محروم نہ رہے۔
اپنے خرچ پر غلاف کعبہ چڑھانے کا شرف حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی ،عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی والدہ کو بھی حاصل ہوا تھا۔
بچپن میں جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر کا راستہ بھول گئے تو ان کی والدہ نے منت مانی کہ عباس گھر آجائیں تو وہ غلاف کعبہ نذر کریں گی۔چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ جب سلامتی سے گھر واپس آگئے تو انھوں نے یہ منت پوری فرمائی اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ظہور اسلام سے قبل بھی غلاف کعبہ کو ذاتی اور اجتماعی طور پر بڑی اہمیت اور مقام حاصل تھا۔
قریش نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے 5سال قبل خانہ کعبہ کی تعمیر نوکی اور بڑے اہتمام سے غلاف کعبہ چڑھایا تھا۔فتح مکہ کے بعد جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کوبتوں سے پاک کیا تو اس وقت آپ نے غلاف کعبہ کو تبدیل نہیں کیا۔انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ایک مسلمان خاتون غلاف کعبہ کو صندل کی خوشبو میں بسانے کا اہتمام کررہی تھی کہ اچانک تیز ہوا سے آگ خانہ کعبہ کے غلاف پر پڑی اور اس پردہ پر آگ لگ گئی جو مشرکین مکہ نے ڈالا تھا۔

فتح مکہ کی خوشی کے موقع پر حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا تیار کیا ہوا کالے رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دس محرم الحرام کو نیا غلاف کعبہ چڑھایاجاتا تھا بعد میں یہ غلاف عبدالفطر کو اور دوسرادس محرم کو چڑھایا جانے لگا بعد ازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
حجتہ الوداع کے موقع پر بھی غلاف چڑھایا گیا اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف قیمتی اور نہایت خوبصورت کپڑے سے بنواکرچڑھاتے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعدامیرالمومنین سیدنا حضرت صدیق اکبر اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایا کرتے تھے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دومرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم کا آغاز کیا۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حجاج بن یوسف نے دیباج کے بنے ہوئے غلاف چڑھائے۔خلفاء بنو عباس رضی اللہ عنہ نے 5سوسالہ دور حکومت میں ہر سال بغدادشریف سے غلاف کعبہ بنوا کر مکہ روانہ کیا۔عباسیوں نے اپنے دورحکومت میں غلاف کعبہ بنانے پر خصوصی توجہ دی اور اس کو انتہائی خوبصورت بنایا۔خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں دومرتبہ اور خلیفہ مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتمام کیا۔

مامون الرشید نے سفید رنگ کا غلاف چڑھایا۔خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبزرنگ کا غلاف بنوایالیکن پھر اس نے غلاف کعبہ سیاہ ریشم سے تیار کرایا اس کے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر زری کا کام ہوتاہے۔140ہجری سے غلاف پر لکھائی شروع ہو گئی جو آج تک جاری ہے۔761ھ میں والئی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ غلاف کعبہ پر آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کاکام شروع کیا۔
سورہ آل عمران کی آیت نمبر 96اور97سورہ مائد ہ کی آیت97اور سورہ بقرہ کی آیات تین اطراف کا ڑھی جاتی ہیں اور چوتھی طرف غلاف کعبہ بھیجنے والے فرمانروابادشاہ کا نام ہوتا تھا۔810ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت اندازمیں جاذب نظر بنایا جانے لگا جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے۔
مصر پر سلطنت عثمانیہ کے قبضے کے بعد سلمان اعظم نے مزید 7گاؤں کی آمدنی غلاف کعبہ کیلئے وقف کر دی۔
19ویں اور 20صدی کے اوائل تک غلاف کعبہ مصر سے ہی تیار ہو کر آتا تھا۔یہ قاہرہ کے ایک خصوصی کارخانے میں بنایا جاتا تھا جو صرف غلاف کعبہ ہی تیار کرتا تھا۔شوال کی 21تاریخ کو غلاف کعبہ تیا ر کرکے مصر سے مکہ روانہ کیا جاتا تھا اور یہ دن مصر میں چھٹی کا دن ہوتا تھا اور ایک بہت بڑے تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زردرنگ کا غلاف بھیجا تھا۔
سلمان دوم کے عہد حکومت سے غلاف مصر سے جاتا تھا جب اس رسم میں کچھ جدت شامل کر لی گئی تو سعودی عرب سے مصریوں کی اختلافات بڑھ گئے اور انھوں نے مصریوں کا غلاف لینے سے انکار کر دیا شریف حسین والئی مکہ کے تعلقات مصریوں سے1923ء میں خراب ہوئے چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے منگوالیا
۔
1333ھ میں شریف حسین کا بنوایا ہو غلاف پہلی جنگ عظیم چھڑجانے کی وجہ سے بروقت نہ پہنچ سکا اس لئے مصری غلاف ہی چڑھانا پڑا۔
1927ء میں شاہ عبدالعزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزندشاہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے جلد ازکارخانہ قائم کریں اور 1346ھ کے غلاف کی تیاری شروع کردیں چنانچہ انھوں نے ایک کارخانہ قائم کرکے ہندوستانی مسلمان کا ریگروں کی نگرانی میں کام شروع کردیا اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونے والا یہ پہلا غلاف تھا۔
مکہ میں قائم ہونے والی اس فیکٹری کا نام دارلکسوہ تھا۔1962ء میں غلاف کی سعادت پاکستان کے حصے میں آئی۔
غلاف کعبہ کی تیاری میں دنیا کا سب سے بہترین اور قیمتی کپڑا تیارکیا جاتاہے۔670کلو گرام خالص سفیدریشم اور 720کلو گرام مختلف رنگ اس کے رنگنے میں استعمال ہوتے ہیں ۔اس کا کل کپڑا تقریباً 660مربع میٹر ہوتاہے ۔پورا غلاف کعبہ 54ٹکڑوں سے مل کر بنتا ہے اور ان میں ہر طول 14میٹر اور عرض 95سینٹی میٹر اور پورے خلاف کی پیمائش2650مربع میٹر ہوتی ہے جبکہ غلاف کی پٹی کا گھیر45میٹر اور عرض95میٹر ہوتا ہے جو مختلف 16ٹکڑوں کو ملا کر جوڑا جاتا ہے۔
خانہ کعبہ کا دروازہ خالص سونے کا بنا ہوا ہے اس کا پردہ نہایت دلکش جاذب نظر اور دیدہ زیب انداز میں بنایا جاتا ہے غلاف کے چاروں اطراف میں مربع شکل میں سورة اخلاص کی کڑھائی کی جاتی ہے ۔
غلاف کعبہ کے اوپر قرآن مجید کی حج سے متعلقہ آیات مبارکہ اور اللہ کریم کے اسماالحسنیٰ کاڑھے جاتے ہیں۔آیات قرانی کی کتاب خط ثلث میں شیخ عبدالرحیم بخاری نے کی،پان کے پتے کی شکل میں یا حی یا قیوم الحمداللہ رب العالمین اور اس کے نیچے تکوان کی شکل میں اللہ اس کے نیچے یا حنان یا منان اور اس کے نیچے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کڑھائی کیا جاتا ہے ۔
کعبہ مشرفہ کی پٹی اور درکعبہ بنانے کیلئے تقریباً 11ماہ درکار ہوتے ہیں۔باب کعبہ کی دائیں جانب اوپر کی ایک پٹی میں سنہری کڑھائی میں لکھا ہوا ہے کہ یہ غلاف خادم الحرمین الشریفین نے مکہ میں تیار کرایا اور پیش کیا 18جنوری 1983ء کا دن غلاف کعبہ کی تاریخ کا سنہرادن ہے اس دن شاہ فہد نے اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت (نیویارک)کیلئے پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے درکعبہ کا پردہ پیش کیا اور یہ پردہ عمارت کے استقبالیہ کمرے میں آویزاں کیا گیا ہے اور پوری انسانیت کو بیت اللہ کی جانب سے امن وسلامتی کادرس دیتاہے۔

Your Thoughts and Comments