Ghazwa Badar Mein Hamare Liye Asbaaq

غزوہ بدر میں ہمارے لئے اسباق

غزوہ بدر کی اہمیت تاریخ اسلام میں مسلمہ ہے۔ اس جنگ نے چند غریب الوطن سر فروشانِ اسلام کو وہ عزم وحوصلہ عطا کیاجس نے مستقبل کی بڑی سے بڑی قوت و طاقت کے خلاف بھی نبرد آزما ہونے کی ان میں جرات و ہمت پیدا کردی

منگل مئی

Ghazwa badar mein hamare liye asbaaq

تحریر : پروفیسر مسعود اختر ہزاروی


حضور سید عالم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش مکہ نے اسی وقت سے ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ کفار کے ان ہی عزائم کے نتیجے میں”غزوہ بدر“ اسلام کا پہلا اور عظیم الشان معرکہ بپا ہوا۔ اس غزوہ میں حضور نبی کریمﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جانثارساتھیوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔


17 رمضان المبارک،جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدرکی ابتداء ہوئی۔ ”بدر“ ایک گاؤں کا نام ہے جو مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80)میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں پانی کے چند کنویں ہونے کی وجہ سے ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ مورخین نے اس معرکہ کو ”غزوہ بدر الکبریٰ“ اور غزوہ بدرالعظمٰی“ لکھا ہے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اس معرکہ کو ”یوم الفرقان“ (یعنی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے دن) کے نام سے تعبیر فر مایا ہے، یعنی یہ وہ دن ہے جب حق و باطل،نیکی و بدی اور کفر و اسلام کے درمیان فرق واضح ہو گیا۔


قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس (چیز) پر جو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر نازل فرمائی، جس دن دو لشکر مقابل (آمنے سامنے) ہوئے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔(سورة الانفال:آیت41)
غزوہ بدر کی اہمیت تاریخ اسلام میں مسلمہ ہے۔ اس جنگ نے چند غریب الوطن سر فروشانِ اسلام کو وہ عزم وحوصلہ عطا کیاجس نے مستقبل کی بڑی سے بڑی قوت و طاقت کے خلاف بھی نبرد آزما ہونے کی ان میں جرات و ہمت پیدا کردی۔
حقیقت یہ ہے کہ غزوہ بدر ہی سے اسلام کا عروج شروع ہوا۔ اس جنگ کی عظیم فتح نے یہ واضح کردیا تھا کہ مسلمان ایک زندہ قوم اور عظیم قوت ہیں۔ مٹھی بھر مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا زیادہ مسلح دشمنوں کو صرف چند گھنٹوں میں راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔
اس غزوہ کے واقعات کو آیات قرآنی کی روشنی میں بغور دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔
اس وقت کے معروضی حالات گواہ ہیں کہ اس عظیم واقعہ کے بعد لوگوں کو اسلام کی حقانیت و صداقت اور آفاقی پیغام رشدو ہدایت پر کامل یقین آگیا اور لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ اب ہم حالات حاضرہ کے تناظر میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس عظیم معرکہ میں بحیثیت مسلمان انفرادی و اجتماعی زندگی کیلئے کیا اسباق پوشیدہ ہیں۔ آج بھی مسلمان اس غزوہ کے اسباق و عوامل کو اپنا کے اپنی نشاة ثانیہ کا سفر شروع کر سکتے ہیں۔

(1) پہلا سبق ہمیں مساوات کا ملتا ہے۔ مدینہ طیبہ سے روانگی کے وقت ستر یا اسی اونٹوں کا قافلہ تھا۔ یہ ضابطہ طے ہوا کہ ہر تین افراد باری باری ایک ایک منزل تک اونٹ پر سوار ہوں گے۔حضورﷺ سپہ سالار ہونے کے باوجود اس اصول کی پاسداری فرماتے ہوئے اپنی باری پر اونٹ پر سوار ہوتے اور پھر اتر کر پیدل چلتے۔
(2) دوسرا سبق یہ حاصل ہوتا ہے کہ درست مشورہ ماننا سنت نبویﷺ ہے خواہ مشیر عمر اور رتبے میں کمزور ہی کیوں نہ ہو۔
حضور ﷺ نے جنگ کے لیے ایک جگہ منتخب فرمائی۔ لیکن حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ جنگ کے لیے دوسری جگہ زیادہ موزوں ہے جہاں کنویں اور چشمے موجود ہیں آپ علیہ الصلوة والسلام نے فورا اس مشورہ کو شرف قبولیت سے نواز دیا۔
(3) بندہ مومن مشکل وقت میں اللہ ہی کی بارگاہ میں جھکتا اور اس سے دعائیں کرتا ہے۔ اس غزوہ کے دوران احادیث میں نبی کریم ﷺکی دس دعائیں مذکور ہیں جو آپﷺ مختلف مواقع پر کرتے رہے۔
جنہیں اللہ کریم نے شرف قبول عطا کیا اور فتح و کامرانی سے نوازا۔
(4) اس میں ایک سبق ا للہ تعالی پر توکل اور بھروسہ ہے۔مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، اسی اونٹ اور آٹھ تلواریں تھیں جبکہ مد مقابل لشکر تعداد میں تین گنا زائد اور اسلحہ سے لیس تھا۔ بقول حفیظ جالندھری
تھے ان کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ شمشیریں
بدلنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں
اس کے باوجود حضورﷺ کی قیادت میں اہل ایمان اللہ کے بھروسے پر اللہ کے دین کی سر بلندی کی خاطر میدان عمل میں اتر پڑے۔
بقول اقبال
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروس
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
(5) ایک سبق یہ ہے کہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم حاصل کرنا اتنا اہم اور ضروری امر ہے کہ اگر کفار سے بھی اس سلسلے میں مدد لینی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو قیدی فدیہ دینے سے عاجز تھے انہیں یہ کہا گیا کہ تم مسلمانوں کے دس، دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دو تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔

(6) ایک سبق قیدیوں کے ساتھ حُسن سلوک ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خود روکھا سوکھا کھاتے اور قیدیوں کو اچھے سے اچھا کھانا پیش کرتے۔ رات کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک قیدیوں کی آہ و بکا پہنچی تو آپ نے ان کے لئے آسانی پیدا کرنے کا حکم فرما دیا۔
(7) فتح و کامرانی کی خبر سن کر آپے سے باہر ہونے کی بجائے اللہ تعالی کی حمد و ثناء کی جائے۔
اسی کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لایا جائے رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب ابوجہل کے مارے جانے اورمسلمانوں کی فتح و نصرت کی خبر لائی گئی تو آپﷺ نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرتے ہوئے فرمایا:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ صَدَقَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْاَحْزَاب وَحْدَہ۔
ان اسباق کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنے حال اور مستقبل کو سنوار سکتے ہیں۔
انہی خطوط پر چل کر ہماری اصلاحی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہیں اور اسلام کا آفاقی پیغام غیر مسلموں تک پہنچ سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم صدقِ دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اُسوہ مبارکہ کو حرزجان بنا لیں۔
فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

Your Thoughts and Comments