Hazrat Ismail AS Ko Zibah Karnay Ka Hukm

حضرت اسماعیل علیہ السلام کوذبح کرنے کا حکم

اور آپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) نے کہا کہ میں اپنے رب کی جانب والا ہوں اب وہ میری رہنمائی کرے گا ۔ اے میرے رب ! مجھے نیک اولاد عطا فرما ۔ پس ہم نے خوشخبری سنائی ایک اچھے لڑکے کی اور جب وہ بڑا ہوگیا کہ ان کے ساتھ ساتھ کام کرسکے۔

Hazrat Ismail AS Ko Zibah Karnay Ka Hukm
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :
اور آپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) نے کہا کہ میں اپنے رب کی جانب والا ہوں اب وہ میری رہنمائی کرے گا ۔ اے میرے رب ! مجھے نیک اولاد عطا فرما ۔ پس ہم نے خوشخبری سنائی ایک اچھے لڑکے کی اور جب وہ بڑا ہوگیا کہ ان کے ساتھ ساتھ کام کرسکے ۔ آپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہے اب تیری مرضی کیا ہے ؟ (بیٹے نے کہا کہ والد بزرگوار ! جس کا حکم آپ (علیہ السلام کو ہوا ہے کر ڈالیے آپ (علیہ السلام ) مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں پائیں گے ۔
پس جب دونوں نے سرتسلیم خم گئے اور باپ نے بیٹے کوپیشانی کے بل لٹایا اس کا حال دریافت مت کرو اور ہم نے (ابراہیم علیہ السلام سے ) کہا : اے ابراہیم (علیہ السلام ) بیشک تو نے اپنا خواب سچا کردکھایا ۔

ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بے شک یہ کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے (حضرت اسماعیل علیہ السلام ) کو بچالیاا ور ہم نے ان کے ذکر کو چھوڑ رکھا آنے والوں کے لئے ۔

سلام ہوا ابراہیم (علیہ السلام ) پر ۔ ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بے شک وہ ہمارے بہترین مومن بندوں میں سے ہیں اور ہم نے خوشخبری دی آپ (علیہ السلام ) کو اسحق (علیہ السلام کی وہ صالح نبی ہوگا اور ہم نے برکتیں نازل کیں اس پر اور اسحق علیہ السلام پر اور ان کی نسل میں کوئی اچھا کام کرنے والا اور کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہوگا ۔
اللہ عزوجل نے ان آیاتِ طیبات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی تو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں نیک اور صالح لڑکے کے لئے دعا مانگی ۔
اللہ عزوجل نے آپ علیہ السلام کو بیٹے کی خوشخبری دی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر مبارک جس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام تولدہوئے ہوئے چھیاسی برس تھی ۔ اس بات میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی حضرے ابراہیم علیہ کی پہلی اولاد ہیں ۔

Your Thoughts and Comments