Hazrat Usman Ghani RA

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

اسلامی تاریخ میں نفاق کی ایک لکیر ہے یہ لکیر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے کھینچی گئی ۔اور اس میں اسلام کا پورا جاہ وجلال ختم ہو گیا۔

منگل اکتوبر

Hazrat Usman ghani RA

حافظ محمد نواز
اسلامی تاریخ میں نفاق کی ایک لکیر ہے یہ لکیر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے کھینچی گئی ۔اور اس میں اسلام کا پورا جاہ وجلال ختم ہو گیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اصل بنیاد بنی ہاشم اور بنی امیہ کی خاندانی رقابت ہے23ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انتقال فرمایا اور وصیت کی کہ علی رضی اللہ عنہ،عثمان رضی اللہ عنہ،زبیر رضی اللہ عنہ،طلحہ رضی اللہ عنہ،سعد وقاص رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ یہ چھ آدمی تین دن کے اندر اندر کسی کو خلیفہ منتخب کرلیں۔

پورے دو دن بحث میں گزر گئے اور کوئی بات طے نہ ہو سکی۔تیسرے دن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم میں سے تین آدمی ایک ایک شخص کے حق میں دستبردار ہو جائیں تاکہ چھ کی بحث دو میں محدود کردی جائے۔

اس پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ،حضرت عثمان ر ضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ،حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ میں امیدواری سے دستبردار ہوتا ہوں۔اس طرح بحث صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں رہ گئی۔چونکہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ایثار کیا تھااس لئے ان دونوں نے اپنا فیصلہ آپ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کو مسجد میں جمع کرکے مختصر تقریر کی اور اپنا فیصلہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں دے دیا اور سب سے پہلے اسی مسجد میں خود بیعت کی اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کی اور پھر تمام مخلوق بیعت کے لئے ٹوٹ پڑی۔
یہ 4محرم 24ہجری کا واقعہ ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں نفاق کی تین تحریکیں پیدا ہوئیں جو مندرجہ ذیل ناموں سے موسوم ہیں۔
(1)بنی امیہ اور بنی ہاشم میں نفاق
(2)قریش اور غیر قریش میں نفاق
(3)عرب اور غیر عرب میں نفاق
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت:
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پیشگوئی فرماچکے تھے۔
عام مسلمان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خاموشی اور باغیوں کی تباہ کاریوں پر خون کے آنسو رورہے تھے مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بالکل خاموش تھے ۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل کا انتظار فرما رہے تھے۔ابھی جمعہ کا آفتاب طلوع نہ ہوا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے روزہ کی نیت فرمائی۔اسی صبح خواب میں دیکھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہمر کاب ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا عثمان رضی اللہ عنہ جلدی آؤ ہم یہاں افطاری کے لئے تمہارے منتظر بیٹھے ہیں۔ آنکھ کھلی تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا:میری شہادت کا وقت نزدیک آگیا ہے۔باغی ابھی مجھے قتل کر ڈالیں گے۔انہوں نے درد مندانہ کہا:اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ارشاد فرمایا:میں نے خواب دیکھا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ جب خواب سے اٹھے تو اپنا جامہ طلب فرمایا جس کو آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی نہیں پہنا تھا اور اسے زیب تن فرمایا پھر بیس غلاموں کو آزاد کرکے کلام پاک کو کھولا اور یاد حق میں مصروف ہو گئے۔
یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حرم سرا کے اندرونی حالات تھے۔ٹھیک اسی وقت محل سرا کے باہر محمد بن ابوبکر نے تیر چلانے شروع کر دئیے ایک تیر محل کے اندر حضرت حسن رضی اللہ عنہ جو دروازے پر کھڑے تھے لگا اور وہ زخمی ہو گئے دوسرا تیر محل سرا کے اندر مروان تک آپہنچا ایک تیر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غلام قنبر کا سر زخمی ہو گیا۔
محمد بن ابو بکر کو خوف پیدا ہوا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خون رنگ لائے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ سوچ کر اس نے اپنے دو ساتھیوں سے کہا کہ اگر بنی ہاشم پہنچ گئے تو وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زخمی دیکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھول جائیں گے۔اور ہماری تمام کوششیں ناکام جائیں گی۔اور اس لئے چند آدمی محل سرا میں کود پڑیں اور کام کردیں۔
محمد بن ابوبکر کے ساتھیوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور اسی وقت چند باغی دیوار پھاند کر محل سرا میں داخل ہو گئے اس وقت جتنے مسلمان محل سرا میں موجود تھے وہ اتفاق سے اوپر کی منزل میں بیٹھے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نیچے مکان میں بیٹھے مصروف تلاوت تھے۔محمد بن ابوبکر نے قابل صد افسوس حرکت کا مظاہرہ کیا آگے بڑھا اور ہاتھ بڑھا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ریش مبارک پکڑ لی اور اسے زور زورسے کھینچنے لگا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:بھتیجے اگر آج صدیق اکبر رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو اس منظر کو پسندنہ فرماتے ۔اب محمد بن ابوبکر پشیمان ہو گیا اور پیچھے ہٹ گیا مگر کنانہ بن بشیر نے پیشانی مبارک پر لو ہے کی سلاخ سے ایک درد ناک ضرب لگائی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بزرگ ترین نائب زمین پر گر پڑا اور فرمایا:بسم اللہ تو کلت علی اللہ۔
دوسری سود ان بن حمران نے ماری جس سے خون کا فوارہ نکلا ۔عمروبن عمق کو یہ سفا کی ناکافی معلوم ہوئی یہ ذلیل ترین بدوی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سینے پر کھڑا ہو گیا اورجسم مبارک کو نیزے سے چھیدنے لگا اسی وقت ایک بے رحم نے تلوار اٹھائی حضرت نائلہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے روکا تو ان کی تین انگلیاں کٹ گئیں۔اسی کشمکش کے دوران حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ بے دم ہورہے تھے کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
اناللہ وانا الیہ راجعون
بربریت اور بہمیت کا یہ درد ناک واقعہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہ غم نصیب آنکھوں کے سامنے ہوا۔انہوں
نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذبح ہوتے دیکھا تو چھت پر جا کر چیخنے لگیں”امیر المومنین شہید ہوگئے“امیر المومنین کے دوست دوڑتے ہوئے نیچے آئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرش پر کٹے پڑے تھے۔جب یہ درد انگیز خبر مدینہ میں پھیلی تو لوگوں کے ہوش اڑگئے اور وہ دوڑتے ہوئے محل سراکی طرف آئے مگر اب یہاں کیا رکھا تھا؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محل سرا کے اندر خون میں ڈوبے ہوئے پڑے تھے۔
مگر محاصرہ اب بھی جاری تھادودن تک نعش مبارک وہیں بے گوروکفن پڑی رہی۔تیسرے دن چند خوش قسمت مسلمانوں نے اس خون آلود میت کو کندھا دیا اور صرف سترہ مسلمانوں نے نماز جنازہ پڑھی اور کتاب اللہ کے سب سے بڑے خادم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عاشق کو جنت البقیع کے ایک گوشے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلاد یا گیا۔
چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت تلاوت فرمارہے تھے اور قرآن مجید سامنے کھلا تھا اس لئے خون ناحق نے جس آیت مبارک کو رنگین کیا وہ یہ تھی:
(ترجمہ)خدا کی ذات تم کو کافی ہے وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

جمعہ کے دن عصر کے وقت شہادت ہوئی حضرت زبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا”میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے بری ہوں“سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا”لوگو واجب ہے کہ اس بداعمالی پر کوہ احد پھٹے اور تم پر گرے“حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب تک زندہ تھے خدا کی تلوار نیام میں تھی۔
آج شہادت کے بعدیہ تلوار نیام سے نکلے گی اور قیامت تک کھلی رہے گی“۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بھی مطالبہ نہ کیا جاتا تو لوگوں پر آسمان سے پتھر برستے۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے شہادت کی خبر سنی ان کی زبان سے بے اختیار انہ چند درد ناک اشعار
نکلے جن کا ترجمہ یہ ہے۔
”آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ باندھ لیے اور اپنا دروازہ بند کر لیا اور اپنے دل سے کہا اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا دشمن کے ساتھ لڑائی مت کرو۔آج جو میرے لیے جنگ نہ کرے وہ خدا کی امان میں رہے گا۔اے دیکھنے والے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے آپس کا میل محبت ختم ہوا اور خدانے اس کی جگہ بغض وعداوت مسلط کر دی۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد بھلائی مسلمانوں سے اس طرح دور نکلے گی جس طرح تیز آندھیاں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔“

Your Thoughts and Comments