Qaroon Ka Waqea

قارون کا واقعہ

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے : بے شک قارون ‘ موسیٰ (علیہ السلام ) کی قوم سے تھا پھر اس نے بغاوت کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے جن کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت پر بھاری تھیں۔

Qaroon Ka Waqea
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :
بے شک قارون ‘ موسیٰ (علیہ السلام ) کی قوم سے تھا پھر اس نے بغاوت کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے جن کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت پر بھاری تھیں ۔ جب اس سے اس کی قوم نے کہا : خوشی فہمی میں مبتلا نہ ہوبے شک اللہ اترانے والوں کی دوست نہیں رکھتا اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کرجیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیااور زمین میں فساد نہ پھیلا ۔
بے شک اللہ فساد پھیلانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ (قارون ) بولا : یہ مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ قومیں ہلاک فرمادیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اورمال اس سے زیادہ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ نہیں ۔

تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں ۔ بولے : وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بے شک اس کا بڑا نصیب ہے اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا :خرابی ہو تمہاری اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جوایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں ۔

پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیاتو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا اور کل جس نے اس کے مرتبہ کی آرزو کی تھی صبح کہنے لگے : عجیب بات ہے اللہ رزق وسیع کرتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے اور تنگی فرماتا ہے ۔ اگر اللہ ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ اب معلوم ہوا کہ کافروں کا بھلا نہیں یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیزگاروں کا ہی ہے ۔

Your Thoughts and Comments