27th Ramadan Al Mubarak Ki Fazeelat

ستائس رمضان المبارک کی فضیلت

جوں جوں یہ مہینہ آگے بڑھتا ہے اس کی برکات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور مومنین کے لیے آخری عشرہ تو اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہوتا ہے. اس عشرے کو جہنم سے خلاصی کا عشرہ بھی کہا جاتا ہے

ڈاکٹر راحت جبین منگل مئی

رمضان المبارک کا مہینہ امت مسلمہ کے لیے فضائل,برکات, امن اور سلامتی کا مہینہ ہے. اگر اس ماہ کی فضیلتوں اور برکتوں کا ذکر کریں تو چاند رات سے ہی ان کا ظہور شروع ہوجاتا ہے. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا جبکہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک منادی پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا۔ اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے اور ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔“
(ترمذی، السنن، ابواب الصوم، باب ما جاء فی فضل شہر رمضان، 2: 61، رقم: 682)
اس مہینے کے حوالے سے دیکھا جائے تو حرام خوری, منافع خوری اور جھوٹ کا بازار بھی عروج پر پہنچ جاتا ہے.

یہاں کچھ لوگ سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ شیطان تو قید کر لیے گئے ہیں پھر یہ سب کیوں؟؟؟ایسی صورت حال میں ایسا شخص اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے اور اپنے نفس کو قابو میں کرنے میں ناکام ہوتا ہے اور اسے خوف خدا نہیں رہتا.
رمضان پاک کے شروع ہوتے ہی انسان کی زندگی میں ایک قرینہ اور اعتدال پیدا ہوتا ہے. اسکی نمازوں میں تسلسل آجاتا ہے.
اسکے روز مرہ کے معمولات ایسا رخ اختیار کرتے ہیں کہ اس کے پاس فضول لغویات کے لیے وقت نہیں بچتا. اسے بندگی کا سلیقہ و شعور آتا ہے. اور یہ پورا مہینہ دعاؤں کی قبولیت کی نوید بھی لاتا ہے. مسلمان اپنی عبادات سے اللہ کی خوشنودی اور قرب حاصل کرسکتا ہے. رمضان کا ہر عشرہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ پیغام لاتا ہے. پہلا عشرہ رب کی طرف سے اس کے رحیم اور غفور ہونے کی دلیل ہے, اس لیے اسے رحمت کا عشرہ بھی کہا جاتا.
اللہ تعالی اپنے بندوں سے فرماتے ہیں.
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۔


ترجمہ:اے میرے رب مجھے بخشش دے مجھ پر رحم فرما،توسب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔
دوسرا عشرہ مغفرت کا عشرہ کہلاتا ہے جس میں مومنوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ تم سب پر مغفرت کے دروازے کھلے ہیں.اس لیے جتنا ہو سکے اپنے لیے, اپنے والدین کے لیے,اہل و عیال اور امت مسلمہ کے لیے مغفرت کے طالب بن جاؤ.

اللہ تعالی فرماتے ہیں.
اَسْتَغفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہ۔ِ
ترجمہ:میں اللہ سے تما م گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں جو میرا رب ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
جوں جوں یہ مہینہ آگے بڑھتا ہے اس کی برکات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور مومنین کے لیے آخری عشرہ تو اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہوتا ہے.
اس عشرے کو جہنم سے خلاصی کا عشرہ بھی کہا جاتا ہے۔
اس عشرے کے لیے درج ذیل دعا کی تاکید کی گئی ہے.
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّُا تُحِبُّ الْعَفْوَفَاعْفُ عَنَّا۔
ترجمہ:اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے پس ہمیں معاف فرمادے۔
آخری عشرے کی ایمان افروز بات یہ ہے کہ اس کی ستائیس تاریخ کو قرآن پاک کا نزول مکمل ہوا جو تمام آسمانی کتابوں میں افضل ترین مقام رکھتی ہے.یہ نبیوں اور پیغمبروں میں اعلی رتبہ رکھنے والے, نبیوں کے سردار محمد صلی اللہ واللہ وسلم پر اتاری گئی.
ویسے تو آخری عشرے میں عبادت کا ثواب بہت اعلی درجات میں رکھا گیا ہے مگر اس کی طاق راتوں میں شب قدر کے نزول کی نوید پوشیدہ ہے اور مومن اس رات کو پانے کے لیے اعتکاف میں بیٹھتے ہیں یا پھر طاق راتوں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں. اگر قرآن پاک کے مکمل نزول کے حوالے سے دیکھا جائے تو ستائسویں رات کی فضیلت باقی طاق راتوں سے بڑھ جاتی ہے.کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ شب قدر اس رات میں مخفی ہو.
اس لیے بھی زیادہ تر لوگ طاق راتوں میں سب سے زیادہ اسی رات کو عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔
روایات میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ پہلی امتوں کی عمریں بہت لمبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کی عمریں کم ہیں اس وجہ سے نیک اعمال میں بھی ان کی برابری کرنا ناممکن ہے اس پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رنج ہوا تو اللہ نے اس کے بدلے میں یہ رات عطا فرمائی.
اس رات کی فضیلت کا اقرار قرآن پاک کی سورت سورة قدر میں کی گیا ہے.
اور اس ایک رات کی عبادت کو ہزار سالوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے.اللہ پاک فرماتے ہیں
إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیہَا بِإِذْنِ رَبِّہِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ?.
ترجمہ:
ہم نے اس(قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا.
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں.
یہ(رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے.
''قدر'' کے لفظی معنی تنگی کے ہیں کیونکہ اس رات رب کے حکم سے زمین پر اتنے فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ کیوں ہوجاتی ہے.ہمیں چاہیے کے اس رات جس میں امن اور سلامتی کی نوید دی گئی ہے.
اس کی فضیلت سے محروم نہ رہیں اور جس حد تک ممکن ہو اپنے گھروں اور مسجدوں میں عبادات کا اہتمام کریں, قرآن پاک اور نوافل پڑھیں اور رب کے حضور گڑگڑا کر توبہ استغفار کریں.
حضرت ابو ہرہرہ رضی اللہ تعالی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے ثواب کی نیت سے عبادت کی اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں (صحیح بخاری270)

Your Thoughts and Comments