Etakaaf E Ramzan

اعتکاف رمضان

رب کے قریب اور جہنم سے دور کرنے والی عبادت:

Etakaaf e Ramzan
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑبنادیں گے،ایک خندق کی مسافت آسمان وزمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہوگی؟خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔
فائدہ:
اس حدیث میں اعتکاف کے فوائد میں سے دوبیان کئے گئے ہیں:
1)معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔


2) جونیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاََ مریض کی عیادت،جنازہ میں شرکت،غرباء کی امداد،علما کی مجالس میں حاضری وغیرہ،اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کرسکتا لیکن اس قسم کے اعمال کو ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلتہ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔گویا اعتکاف سے مقصود لیلتہ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔نیز اس حدیث میں لیلتہ القدر کو تلاش کرنے کے لئے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے۔

ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں کیا جانے والا اعتکاف”سنت مئوکدہ علی الکفایہ“ہے یعنی بڑے شہروں کے محلے کی کسی ایک مسجدمیں اور گاؤں دیہات کی پوری بستی کی کسی ایک مسجد میں کوئی یک آدمی بھی اعتکاف کریگا تو سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی۔اگرکوئی اعتکاف نہ کرے توسب گنہگار ہوں گے۔اعتکاف کے بعض مسائل اس طرح سے ہیں:
رمضان کے سنت اعتکاف کا وقت بیسواں روزہ پورا ہونے کے دن غروب آفتاب سے شروع ہو کر عید کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔
معتکف کو چاہیے کہ وہ بیسویں دن غروب آفتاب سے پہلے اعتکاف والی جگہ پہنچ جائے۔
آخری عشرے کے چند دن کا اعتکاف،اعتکاف نفل ہے،سنت نہیں۔عورتوں کو مسجد کے بجائے اپنے گھر میں اعتکاف کرنا چاہیے۔
سنت اعتکاف کی دل میں اتنی نیت کافی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے رمضان کے آخری عشرے کا مسنون اعتکاف بٹھانا جائز نہیں۔مسجد میں ایک سے زائد لوگ اعتکاف کریں تو سب کو ثواب ملتا ہے۔

اعتکاف کی حالت میں جائز کام:
کھانا پینا(بشرطیکہ مسجدکو گندا نہ کیا جائے)،سونا ضرورت کی بات کرنا،اپنایا دوسرے کا نکاح یا کوئی اور عقد کرنا،کپڑے بدلنا خوشبو لگانا،تیل لگانا،کنگھی کرنا(بشرطیکہ مسجد کی چٹائی اور قالین وغیرہ خراب نہ ہوں)،مسجد میں کسی مریض کا معائنہ کرنا نسخہ لکھنا یا دوا بتا دینا لیکن یہ کام بغیر اجرت کے کرے تو جائز ہیں ورنہ مکروہ ہیں،برتن وغیرہ دھونا ضرورت زندگی کے لئے خریدوفروخت کرنا بشرطیکہ سودا مسجد میں نہ لایا جائے،کیونکہ مسجد کو باقاعدہ تجارت گاہ بنانا جائز نہیں۔
عورت کا اعتکاف کی حالت میں بچوں کو دودھ پلانا۔معتکف کا اپنی نشست گاہ کے اردگرد چادریں لگانا۔معتکف کا مسجد میں اپنی جگہ بدلنا۔بقدر ضرورت بستر،صابن،کھانے پینے کے برتن،ہاتھ دھونے کے برتن اور مطالعے کیلئے دینی کتب مسجد میں رکھنا۔
ممنوعات ومکروہات:
بلا ضرورت باتیں کرنا۔اعتکاف کی حالت میں فحش یا بیکار جھوٹے قصے کہانیوں یا اسلام کے خلاف مضامین پر مشتمل لٹریچر،تصویر دار اخبارات و رسائل یا اخبارات مسجد میں لانا۔
رکھنا،پڑھنا،سننا۔ضرورت سے زیادہ سامان مسجد میں لاکر بکھیر دینا۔
مسجد کی بجلی گیس اور پانی وغیرہ کا بیجا استعمال کرنا۔مسجد میں سگریٹ وحقہ پینا۔
حاجات طبیعہ:
پیشاب،پاخانہ اور استنجے کی ضرورت کیلئے معتکف کا باہر نکلنا ہے،جن کے مسائل درج ذیل ہیں:
اگر مسجد سے متصل بیت الخلاء بنا ہوا ہے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو وہیں ضرورت پوری کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو دور جاسکتا ہے،چاہے کچھ دور جانا پڑے۔قضاء حاجت کیلئے جاتے وقت یا واپسی پر کسی سے مختصر بات چیت کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کیلئے ٹھہرنا نہ پڑے۔

Your Thoughts and Comments