Istaqbaal E Ramzan

استقبال رمضان

رمضان کابابرکت مہینا اُمت مسلمہ پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ ہرمسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارے اور۔۔۔

Istaqbaal e Ramzan
نسرین شاہین:
رمضان کابابرکت مہینا اُمت مسلمہ پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ ہرمسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارے اور ماہ مقدس کی رحمتوں ‘ برکتوں اور نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے اور اپنا دامن نیکیوں سے بھرلے۔
ہم رمضان المبارک کی ساعتوں سے یوں بھی استفادہ کرسکتے ہیں کہ ان میں اپنی شخصیت اور ریوں کو نکھارنے سنوارنے کاسامان کریں ا ور اس طرح پہلے اپنے گھر اور پھر معاشرے میں خیر کوفروغ دیں۔
پہلے تو اس بات کی منصوبہ بندی کرلیں کہ آپ کو کس طرح گھریلو کام کاج کے ساتھ اپنا بیش تروقت نمازوں، تلاوت اور ذکر الہٰی میں گزارنا ہے۔ اس کے لیے اپنی غذا کابھی خیال رکھیں۔
سحراور افطار میں سادہ اور ہلکی غذائیں کھائیے۔

روغنی غذاؤں سے پرہیز کیجیے، کیوں کہ روغنی غذاؤں سے طبیعت خاصی بوجھل ہوجاتی ہے، خاص طور پر تلی ہوئی غذاؤں سے ۔

ایسی غذائیں ہماری طبیعت پر گراں گزرتی ہیں۔ ان غذاؤں سے معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور جسم ذہن پرسستی چھاجاتی ہے لہٰذا سحرو افطار میں تلی ہوئی اور روغنی غذائیں زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز کریں ، تاکہ طبیعت دن بھر ہلکی پھلکی رہے پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں اور مشروبات بھی زیادہ پییں۔ یہ اشیا صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان کے کھانے سے صحت بھی بحال رہتی ہے اور مزاج خوش گوار اثرات پڑتے ہیں۔

سادہ اور ہلکی غذائیں کھانے سے عبادت میں زیادہ جی لگتا ہے اور رمضان المبارک تو ہے ہی عبادات کا مہینا،لہٰذا اگر ہم اپنے سحروافطار کے کھانوں میں کچھ تبدیلی کریں تو یہ صحت اور عبادت کے لحاظ سے بھی بہتر ثابت ہوگا۔ افطار ہویاسحر، اتناہی کھائیں کہ معدے پر بوجھ نہ پڑے۔
رمضان میں وقت اور نیند کی کمی کاشکوہ بھی رہتا ہے، چوں کہ ہمارے کھانے پینے کے اوقات کار کے ساتھ روزمرہ کے معمولات میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔
جس سے ہماری نیند متاثر ہوتی ہے۔ اگر وقت کی صحیح تقسیم کی جائے تو نماز عشاء اور تراویح سے فراغت کے بعد سونے کی کوشش کریں، تاکہ سحری کے وقت آسانی کے ساتھ بیدار ہوسکیں۔ دیرسے سونے کی وجہ سے سحری کے لیے بہت کم وقت رہتا ہے، اس لیے اس مختصر سے وقت میں ہماری نیند پوری نہیں ہوتی اور طبیعت بوجھل رہتی ہے۔
نماز فجر کے بعد یا دوپہر میں لازما نیند پوری کریں، تاکہ اپنے معمولات بہتر طور پر ادا کرسکیں۔
نماز ظہر سے پہلے گھر کے کام کاج نمٹائے جاسکتے ہیں۔ پھر شام کے وقت افطار کے ساتھ ساتھ سحری کی تیاری بھی کرکے رکھی جائے، گھر کے کاموں اور کھانے کی تیاری میں گھر کے دیگر افراد سے بھی مددلی جائے ، تاکہ صرف خواتین پر ہی کام کابوجھ نہ پڑے، یعنی گھر کے سب لوگ مل جل کر کام کریں، اس طرح کم وقت میں زیادہ کام ہوگا اور وقت کی کمی کا گلہ بھی نہیں رہے گا۔
بہ صورت دیگروقت کی تنگی دامن گیر رہے گی۔
رمضان المبارک میں ہمیں اپنے سلوک اور رونے میں عاجزی پیداکرنی چاہیے۔ اس ماہ مبارک کوخود غرضی اور نمایش کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اپنے رب کی خوش نودی کی خاطر غریبوں اور مسکینوں کو سحری اور افطار کرانے کااہتمام بھی کرنا چاہیے۔ ہم اپنے پڑوس میں ایسے لوگوں کو تلاش کرسکتے ہیں، جوہماری توجہ اور مدد کے مستحق ہوں۔
مزدور اور چوکیدار وغیرہ بھی غریب ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ان کاخاص خیال رکھیے اور ہوسکے تو ان کے لیے سحری اور افطار کابندوبست کیجیے اور اپنے رب کی خوش نودی حاصل کرکے جنت کے مستحق بن جائیے۔
اپنے پڑوس میں بھی افطاری ضرور بھیجیں۔ اپنی استطاعت کے مطابق محلے کے زیادہ گھروں میں افطاری بھیجنے کااہتمام کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ افطاری بہت زیادہ اہتمام کرکے بھیجیں۔
دوتین چیزیں بھی ہوں تو کافی ہے۔ اس بات کاانتظار ہرگزنہ کریں کہ اُن کی طرف سے افطاری آئے گی تو ہم بھی بھیجیں گے، یہ خود غرضانہ سوچ ہے۔ حسب استطاعت افطاری بھیجیں۔ پڑوسی کی طرف سے افطاری آئے توخوش دلی کے ساتھ قبول کریں، اسے معمولی نہ سمجھیں، بلکہ دینے والے کاخلوص مدنظر رکھیں ، جس نے اپنی افطاری میں آپ کو یادرکھا۔ آپ بھی دوسروں کو یادرکھیں۔
اس طرح آپس میں میل ملاپ اور محبت بڑھے گی۔
رمضان المبارک تربیت کامہینا ہے۔ یہ تربیت روحانی بھی ہے اور اخلاقی وجسمانی بھی۔ رمضان کی رحمتوں سے زیادہ سے زیادہ استفاد کیاجاسکتا ہے، اگر ہم کھانے پینے کے معمولات میں احتیاط کریں اور اپنازیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزاریں۔اچھے اخلاق کامظاہرہ کریں اور مستحق افراد کی مدد کریں۔ آئیے! رمضان المبارک کا خلوص دل سے استقبال کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments